باجوڑ: کرفیو سے لوگ تنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی سے لیکر ضلع پشاور کی حدود تک کا سارا علاقہ گزشتہ ایک ہفتے سے غیر اعلانیہ کرفیو کی زد میں ہے جس سے ہزاروں لوگوں نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی ہے جبکہ ان مقامات پر تعلیمی اور کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی ان اچانک کارروائیوں کے باعث مہمند ایجنسی، متنازع پچیس دیہات ، ضلع چارسدہ اور پشاور کے سرحدی مقامات میں رہنے والے افراد شدید مسائل اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ تقریباً دو ہفتے قبل مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان نے ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر خودکش حملہ کیا تھا جس میں تین افراد مارےگئے تھے۔ اس حملے کے دوسرے دن مقامی انتظامیہ نے علاقے میں غیر اعلانیہ طورپر کرفیو نافذ کرکے تمام بازاروں اور تجاتی مراکز کو بند کردیا تھا جبکہ پشاور باجوڑ شاہراہ پر بھی گاڑیوں کی ہر قسم کی آمد ورفت معطل کی گئی تھی۔ اس واقعہ کے بعد سے مہمند ایجنسی میں حالات بدستور کشیدہ ہے۔ مقامی انتظامیہ دو دن کےلیے سڑک کھول دیتی ہے تو تیسرے پھر بند کردیتی ہے۔ سکیورٹی فورسز دو دن عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کرتی ہے تو اگلے چار پانچ دن کےلیے پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ تاہم کچھ دنوں کے بعد دوبارہ آپریشن کا آغاز کیا جاتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گزشتہ پانچ دنوں سے ضلع چارسدہ کے گاؤں شب قدر، مہمند ایجنسی کے متنازع پچیس دیہات اور ضلع پشاور کے چند علاقوں میں بھی یہی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے جس سے علاقے کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شب قدر میں بھی سکیورٹی فورسز پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد غیر اعلانیہ آپریشن جاری ہے۔ اس علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے کئی مراکز پر قبضے کا دعوی بھی کیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ غیر یقینی صورتِ حال کے باعث وہ انتہائی بے چینی اور تذبذب کاشکار ہیں۔ نہ تو وہ مکمل طورپر علاقہ چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی کاروبار اور زندگی کے دوسرے معمولات میں آزادانہ طورپر حصہ لے سکتے ہیں۔ شب قدر کے ایک دکاندار نے بتایا کہ ایک دن دکان کھولتے ہیں تو اگلے چار دن کرفیو کے باعث پھر بندکرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھر کے اندر ہوتے ہیں تو بھی ہروقت اس خوف میں رہتے ہیں کہ کسی اندھی گولی کا شکار نہ بنے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ کچھ دنوں میں سکیورٹی فورسز نے زیادہ تر عام لوگوں کے گھروں کو نشانہ بنایا ہے جس سے کئی عام شہری مارے گئے ہیں۔ پشاور میں کام کرنے والے شب قدر سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی شاہنواز ترکزئی کے گھر کو بھی سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی میں نشانہ بنایا تھا۔ تاہم گھر خالی ہونے کی وجہ سے جانی نقصان نہیں ہوا تھا تاہم عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ روز بھی شب قدر میں مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا تھا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں نے اس واقعہ پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر آئندہ اس قسم کے واقعات ہوئے تو وہ احتجاجً ڈیوٹی پر نہیں جائینگے۔ پشاور کا علاقہ ورسک روڈ اور متھرا بھی گزشتہ ایک ہفتے سے غیر اعلانیہ طورپر کرفیو کی زد میں ہے۔ اس علاقے میں بھی آپریشن کی وجہ سے تمام تعلیمی ادارے بند ہیں جبکہ کارروبار زندگی بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ پشاور میں ورسک روڈ پر سب سے زیادہ نجی تعلیمی ادارے قائم ہیں۔ کرفیو اور اپریشن کی وجہ سے ان تعلیمی اداروں کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ بعض سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے باجوڑ سے لیکر اورکزئی ایجنسی تک اس سارے علاقے کو عسکریت پسندوں سے صاف کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||