تقریب میں دھکم پیل پر ’چیف‘ برہم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی کی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں سنیچر کو معزول چیف جسٹس افتتخار محمد چوہدری وکلاء سےخطاب کر رہے تھے کہ اسٹیج پر وکلاء کے ہجوم اور دھکم پیل سے تنگ آ کر معزول چیف جسٹس کو اپنی تقریر روک مجبوراً کہنا پڑا کہ آخر آپ کیوں یہ کرتے ہیں۔ یقیناً اس سے پہلے بھی متعدد بار معزول چیف جسٹس اور دیگر نمایاں وکیل رہنما سٹیج پر وکلاء کے ہجوم کے باعث دھکے لگنے سے اسی طرح کے الفاظ کہہ چکے ہیں۔ وکلاء برادری کو میڈیا کی اہمیت کا اندازہ شاید اسی دن ہو گیا تھا جب نو مارچ دو ہزار سات کو اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو غیر فعال کیا اور اس حوالے سے صدارتی کیمپ آفس میں جنرل مشرف کے سامنے بے بس بیٹھے چیف جسٹس کی تصاویر ملکی میڈیا پر دکھائی گئی۔ نو مارچ کے بعد جب غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سپریم کورٹ جانے کے لیے اپنے گھر سے روانہ ہوئے تو اسلام آباد انتظامیہ کے غیر مناسب رویہ کے مناظر جب عوام نے نجی ٹی وی چینلز پر دیکھے تو وکلاء کا احتجاج ایک تحریک میں تبدیل ہو گیا جس میں سول سوسائٹی ، سیاسی جماعتیں اور طلباء سمیت تقریباً تمام عوامی طاقتیں شامل ہو گئیں ۔ اس دن کے بعد وکلاء کا لانگ مارچ ہو یا معزول چیف جسٹس کا کسی بار ایسوسی ایشن سے خطاب ملک کے تقریباً تمام نجی ٹی وی چینلز سے وکلاء کی تقریبات کو براہ راست نشر کرنے کا سلسلہ چل نکلا جس کی وجہ سے ایک تو وکلاء تحریک کو عوامی حمایت حاصل ہوئی دوسرا وکلاء زیادہ سے زیادہ اس کوشش میں لگ گئے کہ کسی نہ کسی طرح وہ درجنوں نجی ٹی وی چینلز پر براہ راست دکھائی جانے والے نشریات میں نظر آئیں۔ شاید یہ ہی وجہ سے ہے کہ وکلاء کی تقریبات میں جب معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دیگر نمایاں وکیل رہنما جب خطاب کے لیے آتے ہیں تو نجنی وی چینلز پر لازمی ان کی تقاریر براہ راست نشر کی جاتی ہیں اور تقریب میں شامل دیگر وکلاء اپنی نشستوں سے اٹھ کر یا تو اسٹیج کے سامنے اکٹھے ہو جاتے ہیں یا سٹیج کے اوپر چڑھ دوڑتے ہیں جس کی وجہ سے کئی بار تقاریر روک کر وکلاء سے درخواست کی جاتی ہے کہ اسٹیج سے نچے اتر جائیں ۔ تاہم بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وکلاء اپنے رہنماوں کے کہنے پر اسٹیج کے سامنے سے یا اوپر سے ہٹ جائیں بلکہ مجبوراً وکیل رہنما ہو یا معزول چیف جسٹس انھیں اپنی تقریر انھیں حالات میں جاری رکھنی پڑتی ہے۔ سنیچر کے روز ہائی کورٹ بار راولپینڈی میں کچھ ایسی ہی صورتحال تھی ایک وقت آیا جب معزول چیف جسٹس نے راولپینڈی ڈویژن کی اٹھارہ مختلف بار ایسوسی ایشنز کے نو منتخب عہدیدران سے حلف لینا تھا تو ایک عہدیدار اس شکایت پر حلف لینے نہیں گیا کیونکہ اسے شک تھا کہ اس کی تصویر کیمرے میں نہیں آ رہی تھی۔ اس کے بعد معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا خطاب شروع ہوا تو پنڈال میں موجود تقریباً اسی فیصد وکلاء یا تو اسٹیج کے اوپرپہنچ گئے یا سامنے کھڑے ہو گئے جس کی وجہ سے دھکم پیل ہوئی اور معزول چیف جسٹس کو اپنی تقریر روک کر یہ کہنا پڑا کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ شاید معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے سوال کا جواب پہلے ہی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد دے چکے تھے کہ میڈیا کی وجہ سے ہماری تحریک کو ایک طاقت ملی ہے اس لیے اعلان کیا جاتا ہے کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے بعد میڈیا کو ایک انتہائی خوبصورت میڈیا عطا کیا جائے گا جس کا ڈیزائن دنیا کا بہترین سے بہترین دماغ تیار کرے گا۔ |
اسی بارے میں کوریج پر پابندی، بار کا احتجاج23 January, 2009 | پاکستان لاہور آمد پر کڑے حفاظتی انتظامات24 January, 2009 | پاکستان ’سپریم کورٹ کو قربان نہیں کیا جا سکتا‘21 January, 2009 | پاکستان ’صدر زرداری بینظیر بھٹو کا وعدہ پورا کرو‘ 12 January, 2009 | پاکستان وکلاء گروپ بندی کا شکار09 January, 2009 | پاکستان آزاد عدلیہ کے بغیر ترقی ناممکن24 December, 2008 | پاکستان ڈوگرغیرآئینی چیف جسٹس نہیں:بار13 December, 2008 | پاکستان ججوں کی تقرری، نوٹیفکیشن چیلنج12 December, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||