BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 January, 2009, 00:03 GMT 05:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ججوں کی بحالی تک دھرنا

علی احمد کرد: فائل فوٹو
علی احمد کرد نے ارکان پارلیمنٹ پر کڑی نکتہ چینی کی
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد نے اعلان کیا ہے کہ وکلا اس وقت تک شاہراہ دستور پر دھرنا دیں گے جب تک جسٹس افتخار محمد چودھری اور دیگر معزول جج اپنے عہدوں پر بحال نہیں ہوجاتے۔

علی احمد کرد نے یہ اعلان پنجاب بار کونسل کے زیر اہتمام ہونے والے وکلا کنونشن میں اس وقت کیا جب ان کے خطاب کے دوران پنڈال میں موجود تمام وکیلوں نے یک آواز ہوکر مسلسل بیس منٹ تک نعرہ لگایا کہ ’چیف کی بحالی تک دھرنا ہوگا، دھرنا گا‘۔

خیال رہے کہ وکلا کی نمائندہ تنظیموں کے عہدیداروں پر مشتمل قومی رابطہ کونسل کا اجلاس پچیس جنوری کو ہو رہا ہے جس میں لانگ مارچ کے موقع پر دیئے جانے والے دھرنے کے دورانیہ اور حکمت عملی کے بارے میں فیصلے کیے جانے ہیں۔

پنڈال میں موجود وکلا نے اس وقت دھرنے کے حق میں نعرہ لگانا شروع کیا جب علی احمد کرد نے اپنی تقریر میں کہا کہ وکلا تحریک کے فیصلے وکیلوں کی قومی رابطہ کونسل کے اجلاس میں کیے جاتے ہیں اور لانگ مارچ کے موقع پر دیئے جانے والے دھرنے کے دورانیہ کے بارے میں فیصلہ بھی اسی کونسل کے اجلاس میں وکلا قیادت کرے گی۔

وکیلوں کی طرف سے مسلسل نعرہ لگانے کی وجہ سے علی احمد کرد کو اپنی تقریر روکنا پڑی ۔تاہم علی احمد کرد نے وکیلوں کے پروز مطالبہ پر معزول ججوں کی بحالی تک دھرنا دینے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ وکلا کے لانگ مارچ سے پہلے ہی معزول ججوں کو بحال کر دیا جائے۔

علی احمد کرد نے ارکان پارلیمنٹ پر بھی کڑی نکتہ چینی کی۔ ان کے بقول آج بھی ملک میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف جیسا آمر موجود ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایش کے سابق صدر اعتزاز احسن نے اس امید کا اظہار کیا کہ وکلا نے جو تحریک شروع کی ہے اس کا سفر اب لمبا نہیں رہا بلکہ جلد تحریک کو منزل ملے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ وکلا تحریک کے ساتھ ہیں اور اس تحریک سے ناراض ہونے والے نہیں ۔انہوں نے کہا کہ وکلا ایک ہیں اور ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کو کامیاب بنانے کے لیے تمام طبقوں سے تعاون چاہئے۔

پنڈال میں موجود وکیلوں نے آصف علی زرداری کے خلاف ’گو زرداری گو‘ کے نعرے بھی لگائے۔

جب اعتزاز اپنی تقریر ختم کرنے والے تھے تو اس وقت پنڈال میں موجود ایک وکیل نے بلند آواز میں ان سے مطالبہ کیا کہ وہ پیپلز پارٹی کو چھوڑ دیں جس پر اعتزاز نے جواب دیا کہ ’بالکل نہیں چھوڑوں گا‘۔ان کے بقول میں پیپلز پارٹی ہوں۔

پاکستان بارکونسل کے رکن حامد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کے حکمران سابق صدر جنرل پرویز مشرف کا تسلسل ہیں اور آج بھی حکمران جمہوریت کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ نو مارچ کے لانگ مارچ کے موقع پر وکلا اس وقت تک دھرنا دیں گے جب تک جج بحال نہیں ہوتے۔

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر منیر اے ملک کا کہنا ہے کہ وکلا تحریک کی ناکامی کا سوال ہیں پیدا نہیں ہوتا ہے۔ ان کے بقول آزاد عدلیہ کی سوچ رکھنے والی حکومت ہی جمہوری ہوتی ہے۔

جسٹس افتخار’عدلیہ کی آزادی‘
جسٹس افتخار نے کہا ہے کہ ان کا فیصلہ درست تھا
افتخار محمد چودھریچودھری کا اعزاز
معزول چیف جسٹس کو تمغہ آزادی
معزول چیف جسٹس’اپنے اقتدار کیلیے‘
مشرف نےعدلیہ، ادارے تباہ کیے: معزول جسٹس
اعتزاز احسن اعتزاز اور پیپلز لائرز
پی سی او چیف جسٹس کو نہ بلانےکی اپیل
نیا آئینی تصادم؟
ججز کی بحالی - ایک قدم آگے دو قدم پیچھے
اسی بارے میں
وکلاء گروپ بندی کا شکار
09 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد