BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الدعوۃ کارکن، 90 دن کے لیے نظر بند

احمد مختار
’زیر حراست افراد کے خلاف کوئی ثبوت ملے تو حکومت اُن کے خلاف کارروائی کرے گی‘
وزیر دفاع چوہدری احمد مختار نے کہا ہے کہ جماعۃ الدعوۃ کے کارکنوں کو 90 دن کے لیے نظر بند کیا گیا ہے تاہم اس مدت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ اُن کی نظر بندی میں توسیع کرنی ہے یا اُنہیں رہا کرنا ہے۔

بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے بارے میں پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سےگفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ان زیر حراست افراد کے خلاف کوئی ثبوت ملے تو حکومت اُن کے خلاف کارروائی کرے گی۔

وزیر دفاع نے کہا کہ حکومت نے جماعۃ الدعوۃ کے کارکنوں کے خلاف کارروائی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں کی ہے۔

اس سے قبل وزیر دفاع نے قومی سلامتی کے بارے میں پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کو دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں بھارت کے شہر ممبئی میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا تاہم اگر اُس پر جنگ مسلط کی گئی تو پاکستانی افواج اور عوام اپنے ملک کا بھرپور دفاع کریں گی۔

حافظ سعید
 حکومت نے جماعۃ الدعوۃ کے کارکنوں کے خلاف کارروائی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں کی ہے
احمد مختار

قومی سلامتی کے بارے میں پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے کنوینر سینیٹر رضا ربانی کی صدارت میں ہوا جس میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ نے شرکت کی۔ جبکہ اس اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی، جماعت اسلامی کے سینیٹر پروفیسر خورشید احمد شریک نہیں تھے۔ کمیٹی کے ارکان نے امریکی صدر بُش کے اُس بیان پر تشویش کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف امریکی جاسوس طیاروں کے حملے جاری رہیں گے۔

کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کمیٹی کے کنوینر رضا ربانی نے کہا کہ کمیٹی نے پہلے مرحلے کے اجلاس مکمل کر لیے ہیں جبکہ کمیٹی کے دوسرے اجلاس میں صوبہ سرحد کے گورنر اور دیگر حکام کمیٹی کے ارکان کو قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے بارے میں بریفنگ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں متعلقہ حکام کی طرف سے بریفنگ کے بعد کمیٹی کے ارکان دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے بارے میں اپنی سفارشات تیار کرے گی۔

ایک سوال کے جواب میں رضا ربانی نے کہا کہ قومی سلامتی کے بارے میں پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کو قبائلی علاقوں میں جاری آپریشن کے متعلق امریکی سفیر سے بریفنگ لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس 22 دسمبر کو ہوگا۔ واضح رہے کہ دہشت گردی کی خلاف پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد پر عملدرآمد کے لیے بنائی جانے والی خصوصی کمیٹی کا یہ پانچواں اجلاس تھا۔

حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کا کہنا ہے کہ حکومت دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی کو اہمیت نہیں دے رہی۔

ممبئی حملےکس کے خلاف۔۔۔
ممبئی حملے اور جہادیوں کے اصل مقاصد
الدعوۃ سکول کا مظاہرہپابندیوں کے بعد
الدعوۃ سکول کے بچوں کا مظاہرہ
انڈین میڈیا ذمہ دار
’جنگ کے نعرے، قیادت نہیں انڈین میڈیا ذمہ دار‘
ممبئیبھارتی خفیہ ایجنسیاں
پورا نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے
اجمل امیر قصاباجمل کا ’اقبالی بیان‘
ممبئی حملوں میں بچ جانے والے ملزم کا بیان
قبرستان بھی تنگ
دہشتگردوں کی قبر کی جگہ نہیں: مسلم کونسل
حملہ آورصرف شہرت کے لیے؟
کیا حملہ آوروں کو صرف شہرت کی تلاش تھی؟
اسی بارے میں
فلاحی ادارے حکومت چلائے گی
15 December, 2008 | پاکستان
حافظ سعید با ضابطہ نظر بند
13 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد