’پابندی غریبوں پر سراسر ظلم ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں خواتین اور بچوں نے سنیچر کو جماعۃ الدعوۃ پر پابندی کے خلاف مظاہرہ کیا اور کہا کہ اس پابندی کے بعد سینکڑوں گھروں کے چولہے بجھ جائیں گے۔ مظاہرہ کراچی پریس کلب کے سامنے کیا گیا جہاں خواتین اور بچے بینرز اور پوسٹرز اپنے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے جس میں جماعت الدعوۃ پر پابندی کی مذمت کی گئی تھی۔ نائلہ کے دس بھائی بہن اور بوڑھے ماں باپ ہیں اور وہ پسماندہ علاقے ریڑھی گوٹھ کی رہائشی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’اس تنظیم کے لوگ بہت اچھے ہیں وہ ہمیں مہینے کا راشن دیتے ہیں، روز مرہ خرچ کے لیے رقم دیتے ہیں جبکہ ہم میں سے اگر کوئی بیمار پڑتا ہے تو وہ ان کی ڈسپنسری جاتا ہے جہاں مفت علاج کی سہولیات ہیں۔‘ ماڈل کالونی، ملیر سے آئی مسز عبداللہ نے کہا کہ جماعت الدعوۃ پر پابندی سے سینکڑوں گھروں کے چولہے بجھ جائیں گے اور ان پر پابندی دراصل ’غریبوں پر سراسر ظلم ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ وہ جماعت دہشت گرد ہرگز نہیں ہوسکتی جو سینکڑوں گھروں کی کفالت کررہی ہو اور جس کے کراچی جیسے شہر میں آٹھ طبی مراکز ہوں جہاں غریبوں کو مفت علاج کی سہولیات پہنچائی جاتی ہوں۔ شمیم اورنگی ٹاؤن سے آئی تھیں، انہوں نے بتایا کہ اس جماعت پر پابندی سے غریبوں کو امداد ملنا بند ہوجائے گی۔ حکومت سمیت کوئی بھی ان متاثرین کی دادرسی نہیں کرے گا۔ ان کے بقول اس جماعت پر پابندی سے سب سے زیادہ نقصان ان غریب لوگوں کا ہوگا جو ان کی امداد پر گذارہ کررہے تھے اور اس پابندی سے غریبوں کو تنہا کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جماعت الدعوۃ کے دفاتر پر نہیں بلکہ ’ہمارے راشن کو تالا لگا دیا ہے‘۔ |
اسی بارے میں ’ابھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا‘ 09 December, 2008 | پاکستان ’کارروائی، تفتیش ہو رہی ہے‘10 December, 2008 | انڈیا ’زکی لکھوی اور مسعود اظہرگرفتار‘09 December, 2008 | پاکستان ممبئی حملوں کے حملہ آور اجمل کا ’اقبالی بیان‘10 December, 2008 | انڈیا ’جماعتہ الدعوۃ پر پابندی لگائی جائے‘10 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||