افغانستان سے حملہ: 32 افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں امریکی جہازوں نے افغان سرحد کے قریب تورہ ژاور کے مقام پر بمباری کی ہے جس کے نتیجہ میں بیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں تمام کے تمام مقامی قبائلی ہی بتائے جاتے ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں پولیٹیکل انتظامیہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی جہازوں نے وانا سے کوئی پینتیس کلومیٹر دور مغرب کی جانب تور ژاور میں ایک آبادی پر بمباری کی ہے جس کے نتیجہ میں بیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کا تعلق احمد زئی وزیر قبائل کے ذیلی قبیلے گنگی خیل سے ہے۔ انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ علاقہ افغان سرحد کے اوپر واقع ہے جہاں آبادی سرحد کے آرپار چلی گئی ہے اور اس علاقے سے چند کلومیٹر دور افغانستان میں اتحادی فوج نے طالبان کے خلاف ایک بڑا آپریشن شروع کیا ہے۔ دوسری طرف سنیچر کے روز ہی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے علاقے شوال کے گاؤں مانڑہ میں سرحد پار سے ہونے والے ایک حملے میں کم از کم بارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان نے افغانستان میں اتحادی افواج سے سخت احتجاج کرتے ہوئے اس حملے کے متعلق وضاحت طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کو افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں اتحادی افوج اور مبینہ شر پسندوں کے درمیان ہونے والی چھڑپوں کے دوران کچھ راکٹ پاکستان کے قبائلی علاقے شوال کے مانڑہ میں واقع بعض گھروں پر بھی گرے۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی افواج نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی ہے اور نہ ہی یہ میزائل حملہ تھا۔ مقامی افراد نے بتایا کہ شوال میں پاکستان نامی ہوٹل پر رات تین بجے کے قریب امریکی جہازوں نے بمباری کی جس کے نتیجے میں ہوٹل مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ شوال سے میرانشاہ پہنچنے والے ایک عینی شاہد محمداللہ سیدگی نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ ہوٹل پر تین بجے کے قریب گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بمباری کی گئی جس کے نتیجہ میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں نو کا تعلق احمد زئی وزیر قبائل سے ہیں اور تین کا تعلق اتمان زئی وزیر قبائلی سے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بمباری میں تین گاڑیاں بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہوٹل مکمل طور زمین بوس ہوگیا۔ مقامی افراد نے ملبہ ہٹا کر اس واقعہ کے بعد علاقے میں ایک بار پھر سخت خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ امن معاہدہ ٹوٹنے والا ہے۔ |
اسی بارے میں اتحادی بوکھلا گئے ہیں: حاجی عمر 24 June, 2007 | پاکستان باجوڑ بمباری: آدھا سچ، آدھا جھوٹ10 November, 2006 | پاکستان ’باجوڑ میں مرنے والے دہشتگرد تھے‘28 November, 2006 | پاکستان امریکی بمباری سے28 طالبان ہلاک 26 May, 2004 | پاکستان ’وزیرستان جھڑپیں جاری 52 ہلاک‘30 March, 2007 | پاکستان باجوڑ حملے کے بعد کس نے کیا کیا؟31 October, 2006 | پاکستان ’شمالی وزیرستان: ایک فوجی ہلاک‘ 29 April, 2007 | پاکستان وزیرستان: چار’جنگجو‘ ہلاک22 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||