BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 June, 2007, 08:07 GMT 13:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان سے حملہ: 32 افراد ہلاک

فائل فوٹو
اطلاعات کے مطابق بمباری کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا (فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں امریکی جہازوں نے افغان سرحد کے قریب تورہ ژاور کے مقام پر بمباری کی ہے جس کے نتیجہ میں بیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں تمام کے تمام مقامی قبائلی ہی بتائے جاتے ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں پولیٹیکل انتظامیہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی جہازوں نے وانا سے کوئی پینتیس کلومیٹر دور مغرب کی جانب تور ژاور میں ایک آبادی پر بمباری کی ہے جس کے نتیجہ میں بیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں کا تعلق احمد زئی وزیر قبائل کے ذیلی قبیلے گنگی خیل سے ہے۔

انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ علاقہ افغان سرحد کے اوپر واقع ہے جہاں آبادی سرحد کے آرپار چلی گئی ہے اور اس علاقے سے چند کلومیٹر دور افغانستان میں اتحادی فوج نے طالبان کے خلاف ایک بڑا آپریشن شروع کیا ہے۔

دوسری طرف سنیچر کے روز ہی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے علاقے شوال کے گاؤں مانڑہ میں سرحد پار سے ہونے والے ایک حملے میں کم از کم بارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

شوال کے علاقے میں پاکستان نامی ہوٹل پر تین بجے کے قریب گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بمباری کی گئی جس کے نتیجہ میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں نو کا تعلق احمد زئی وزیر قبائل سے ہیں اور تین کا تعلق اتمان زئی وزیر قبائلی سے ہیں
عینی شاہد محمداللہ سیدگی
مقامی انتظامیہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ پاکستان فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے کیے گئے اس حملے میں نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان نے افغانستان میں اتحادی افواج سے سخت احتجاج کرتے ہوئے اس حملے کے متعلق وضاحت طلب کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کو افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں اتحادی افوج اور مبینہ شر پسندوں کے درمیان ہونے والی چھڑپوں کے دوران کچھ راکٹ پاکستان کے قبائلی علاقے شوال کے مانڑہ میں واقع بعض گھروں پر بھی گرے۔

انہوں نے کہا کہ اتحادی افواج نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی ہے اور نہ ہی یہ میزائل حملہ تھا۔

 پاکستان نے افغانستان میں اتحادی افواج سے سخت احتجاج کرتے ہوئے شوال میں حملے کے متعلق وضاحت طلب کی ہے
ترجمان پاک فوج

مقامی افراد نے بتایا کہ شوال میں پاکستان نامی ہوٹل پر رات تین بجے کے قریب امریکی جہازوں نے بمباری کی جس کے نتیجے میں ہوٹل مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

شوال سے میرانشاہ پہنچنے والے ایک عینی شاہد محمداللہ سیدگی نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ ہوٹل پر تین بجے کے قریب گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بمباری کی گئی جس کے نتیجہ میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں نو کا تعلق احمد زئی وزیر قبائل سے ہیں اور تین کا تعلق اتمان زئی وزیر قبائلی سے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بمباری میں تین گاڑیاں بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہوٹل مکمل طور زمین بوس ہوگیا۔ مقامی افراد نے ملبہ ہٹا کر
لاشوں کو باہر نکالا۔

اس واقعہ کے بعد علاقے میں ایک بار پھر سخت خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ امن معاہدہ ٹوٹنے والا ہے۔

باجوڑ حملے کے اثرات
کیا وزیرستان معاہدہ برقرار رہ سکے گا؟
 اسلحہ القاعدہ کو نکالو
شمالی وزیرستانیوں کو فوجی کارروائی کی دھمکی
کون کسے مار رہا ہے
وزیرستان میں کیا ہوا، کیا ہو رہا ہے، کیا ہوگا؟
زندگی کی چہل پہل
شمالی وزیرستان میں زندگی معمول پر آرہی ہے
جنوبی وزیرستان میں فوج کی غیراعلان شدہ جنگجنوبی وزیرستان
جنوبی وزیرستان میں فوج کی غیراعلان شدہ جنگ
گلبدین حکمت یاررودادِ میران شاہ
حکمت یار کے پوسٹر اور طالبان کی چہل پہل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد