بھارت میں دہشت گردی، داخلی چیلنجز کا سامنا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی حملوں کے بعد بھارت نے پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کی کوششیں کی ہیں اور ساتھ ہی اپنی داخلی سکیورٹی کے انتظامات کو بہتر کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ لیکن کیا بیرونی کوششوں پر توجہ مرکوز کرنے سے دہشت گردی کے خلاف بھارت کی داخلی کوششوں کو نقصان نہیں پہنچا ہے؟ بھارتی وزیر داخلہ پی چِدمبرم کہتے ہیں: ’بھارت کو ہمیشہ ہی سنگین خطرات کا سامنا رہا ہے، در حقیقت امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں سے قبل سے بھارت کو دہشت گردانہ خطرات کا سامنا تھا۔‘ وہ مزید کہتے ہیں:’ممبئی حملوں سے قبل شاید بھارت کو درپیش خطرات کی سنگینی سے صحیح آگاہی نہیں تھی۔‘ لیکن اس سوال کے جواب میں کہ کیا اس طرح کے خطرات بھارت کے اندر سے ہی نہیں جنم لے رہے ہیں، وہ کہتے ہیں: ’در حقیقت، یہ خطرہ لازمی طور پر بیرون ملک سے پیدا ہوتا ہے۔‘ ’لیکن ملک کے اندر کچھ ایسے لوگ ہیں جن کو بیرون ملک رہنے والے لوگ گمراہ کرتے ہیں، تربیت دیتے ہیں، مدد کرتے ہیں، پیسے دیتے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔‘
ممبئی حملوں میں لشکر طیبہ کا نام ملوث ہونے سے قبل بھی اس تنظیم کی کارروائیاں سکیورٹی ایجنسیوں کی توجہ کا مرکز رہی ہیں، جبکہ انڈین مجاہدین نامی ایک مقامی شاخ بھی سرخیوں میں رہی ہے۔ سکیورٹی ایجنسیاں ملک میں پیدا ہونے والے خطرات کے بارے میں فکرمند ہیں۔ انسٹیٹیوٹ آف کانفلِکٹ مینیجمنٹ کے محقق اجے ساہنی کہتے ہیں کہ اوسط طور پر ہر دو ہفتے میں ملک میں سکیورٹی ایجنسیاں کسی نہ کسی دہشت گرد گروپ کا پتہ لگاتی ہیں اور اس کو غیرمؤثر بناتی ہیں۔ اسی ہفتے گزشتہ سال ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث انڈین مجاہدین کے اکیس اراکین کے خلاف ممبئی کی عدالت میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ اس طرح کے الزامات ہیں کہ یہ افراد بابری مسجد کے انہدام اور ریاست گجرات میں سن دوہزار دو میں ہونے والے فسادات سے مشتعل ہوئے تھے۔ ممبئی میں حقوق انسانی کے دفاع کے لیے کام کرنے والی تیستا سیتلواد نے حال ہی میں منصور پیربھوائے سے ملاقات کی ہے جو بم دھماکوں کے سلسلے میں حراست میں ہے۔ تیستا سیتلواد، جو ہمیشہ پولیس کی کارروائیوں کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں، کہتی ہیں کہ منصور پیربھوائے کٹر ذہنیت کا شکار تھا۔ ’اس نے بتایا کہ میری ماں نے جو اسلام کے بارے میں سبق دیا تھا وہ صحیح اسلام نہیں ہے۔ لیکن میں نے ریاست کرناٹک کے شہر ہُبلی میں مطالعہ قرآن کے دوران جس اسلام کے بارے میں پڑھا وہ حقیقی اسلام ہے۔‘ تیستا سیتلواد کہتی ہیں کہ ملک کے اندر اس طرح کی نظریاتی تربیت کافی پریشان کن ہے۔
جمیعت علمائے ہند کے رہنما مولانا محمود مدنی نے اسی طرح کی ایک ریلی کے دوران ممبئی میں مجھے بتایا کہ اس دہشت گردی کا تعلق مذہب سے نہیں ہے، یہ سیاست ہے۔ ’ساری دنیا کو معلوم ہے کہ اس سیاست کا جنم کہاں سے ہو رہا ہے۔‘ بم حملوں کے بعد متعدد گرفتاریاں پیش آئی ہیں۔ لیکن بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ پی چِدمبرم نے بتایا کہ حکومت دہشت گردی کو کسی مذہب یا برادری سے منسلک نہیں کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’میں نہیں سمجھتا کہ ایک دہشت گرد کسی مذہب کے پیغام کو آگے بڑھاتا ہے۔ اگر وہ بندوق اٹھاتا ہے، اگر وہ تشدد میں ملوث ہوتا ہے، اگر وہ ہلاکتیں کرتا ہے، وہ دہشت گرد ہے اور اس سے دہشت گرد کی حیثیت سے ہی نمٹا جانا چاہیئے۔‘ چدمبرم کہتے ہیں: ’میں سمجھتا ہوں کہ ملک میں بیشتر مسلمان، بیشتر اقلیتیں اس بات کو سمجھتی ہیں۔‘ ممبئی کے بھنڈی بازار میں نواب مسجد کے باہر نمازیوں نے نماز کے لیے پلاسٹِک کی چٹائیاں بچھائی ہیں۔ ان لوگوں میں گلزار اعظمی بھی ہیں جو دہشت گردی کے الزام میں پھنسے ہوئے افراد کا دفاع کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف تعصب ہے۔ ’اگر کوئی مسلم پٹاخے بھی چھوڑ دے تب بھی وہ کہیں گے کہ یہ بم ہے۔ حکومت کہتی کچھ اور، اور کرتی کچھ اور ہے۔ وہ مسلمانوں سے دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت سے پیش آتے ہیں۔‘ گلزار اعظمی مزید کہتے ہیں: ’اگر کوئی ہندو جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو اس پر سنگین الزامات نہیں لگائے جاتے ہیں۔ ایسا مسلمانوں کے ساتھ نہیں ہوتا۔‘ تاہم وہ مانتے ہیں: ’گزشتہ سال ستمبر میں ایسا ہوا کہ حکومت نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بم حملوں میں ہندو بھی ملوث ہیں۔ اس سے پہلے انہوں نے کبھی نہیں مانا تھا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔‘ یہ حقیقت ہے کہ کچھ ہندو فوجی اور کچھ سابق ہندو فوجی ابھی دہشت گرد حملوں میں اپنے کردار کی وجہ سے جیل میں ہیں۔ اس سے یہ بھی لگتا ہے کہ بھارتی حکام اپنی تحقیقات کو وسیع تر کر رہے ہیں۔ لیکن عام انتخابات قریب ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعتیں ممبئی حملوں کے بعد حکومتی کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ ممبئی کے چھاتر پتی ریلوے اسٹیشن پر زندگی معمول پر ہے لیکن ایک کھڑکی کے شیشے میں گولی کا نشان دکھائی دے رہا ہے۔ یہاں لوگوں کے ہجوم پر نظر ڈالیں تو لگتا ہے کہ آئندہ حملے روکنا بھوسے میں سوئی تلاش کرنے کے برابر ہے۔ |
اسی بارے میں دہشتگردی، نئی حکمت عملی درکار07 December, 2008 | پاکستان ’ڈوسیئر پر مزید تفتیش کی ضرورت‘16 January, 2009 | پاکستان ’حملے پاکستان میں پلان نہیں ہوئے‘30 January, 2009 | پاکستان ’پاکستان کوسبق ضروری مگر جنگ نہیں‘26 December, 2008 | انڈیا ’حملوں کے پیچھے سرکاری ایجنسی ‘06 January, 2009 | انڈیا مالیگاؤں دھماکہ، فرد جرم داخل 20 January, 2009 | انڈیا ’شدت پسندی ریاستی تعاون سے‘21 January, 2009 | انڈیا پرمود موتھالک سے تفتیش29 January, 2009 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||