مالیگاؤں دھماکہ، فرد جرم داخل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر دہشت گردی عملہ ( اے ٹی ایس ) نے مالیگاؤں بم دھماکہ ملزمین کے خلاف منگل کے روز مکوکا عدالت میں فرد جرم داخل کر دی۔ تقریباً چار ہزار صفحات پر مشتمل اس چارج شیٹ میں گیارہ ملزمین کے علاوہ تین مفرور ملزمین کے نام بھی شامل ہیں۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس(ریلوے) کے پی رگھوونشی جنہیں جوائنٹ پولیس کمشنر ہیمنت کرکرے کی موت کے بعد اضافی چارج دیا گیا ہے، بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے پاس ملزمین کے خلاف پختہ ثبوت موجود ہیں اس لیے انہیں یقین ہے کہ وہ عدالت میں ملزمین کو مجرم ثابت کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ گزشتہ برس انتیس ستمبر کو مہاراشٹر کے صنعتی شہر مالیگاؤں میں موٹر سائیکل میں نصب کیے گئے بم کے پھٹنے سے سات افراد ہلاک اور ستر سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ ہیمنت کرکرے کی سربراہی میں اے ٹی ایس عملے نے سب سے پہلے سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی کیونکہ پولیس کے مطابق وہ موٹر سائیکل مبینہ طور پر سادھوی کی تھی۔ اس کے بعد ایک کے بعد ایک پولیس نے گیارہ ملزمین کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ ان میں سابق میجر رمیش اپادھیائے کے علاوہ موجود لیفٹینٹ کرنل پرساد پروہت بھی شامل تھے۔کرنل کی گرفتاری نے مرکزی وزیر دفاع کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا تھا کہ اس سے فوج کے وقار کو ٹھیس پہنچی ہے۔ پولیس کے مطابق ان کے پاس موٹر سائیکل میں استعمال کیے گئے بم کی فورینسک رپورٹ ہے جس کے مطابق بم میں آر ڈی ایکس موجود تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ان تمام ملاقاتوں کی ریکارڈنگ ٹیپ موجود ہیں جن میں بم دھماکہ کی مبینہ سازش رچی گئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کرنل پروہت اور خود ساختہ سوامی دیانند پانڈے کے درمیان ہوئی ٹیلی فون گفتگو کا ریکارڈ بھی ہے۔ پولیس کا دعوی ہے کہ انہوں نے ملزمین کے درمیان چار سو منٹ کی گفتگو ریکارڈ کی تھی۔ پولیس کے پاس وہ تمام ایس ایم ایس کے بھی ریکارڈز ہیں جو کرنل پروہت اور میجر اپادھیائے نے ایک دوسرے کو کیے تھے۔ پولیس کا دعوی ہے کہ ان کے پاس سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور مبینہ طور پر بم نصب کرنے والے ملزم رام نارائن کلسانگرا کے درمیان گفتگو کا ٹیپ موجود ہے جس میں سادھوی نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ اتنے کم آدمی کیسے مرے؟ پولیس نے اس گفتگو کا ٹیپ اس سے قبل عدالت میں پیش کیا تھا۔ پولیس کے مطابق ان کے پاس سوامی پانڈے کا اقبالیہ بیان بھی موجود ہے پولیس نے پانڈے اور کرنل پروہت کے لیپ ٹاپ بھی ان کی گرفتاری کے بعد ضبط کیے تھے پولیس کا دعوی ہے کہ اس کی فورینسک رپورٹ عدالت میں بطور ثبوت کام آسکتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پانڈے کے لیپ ٹاپ سے انہوں نے وہ تمام فلم ضبط کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ ان کے پاس کتنے اعلی سیاستداں ، سرکاری افسران اور پولیس اعلی افسران ملنے آتے تھے۔ پولیس نے کرنل پروہت کے خلاف اب تک چار مختلف فوجداری معاملات میں کیس درج کیے ہیں جن میں دھوکہ دہی اور جعلسازی شامل ہے۔اس کیس کو جوائنٹ پولیس کمشنر ہیمنت کرکرے نے حل کیا تھا اور پہلی مرتبہ ملک میں بم دھماکے کے لیے کسی ہندو انتہا پسند تنظیم کا نام سامنے آیا تھا۔کرکرے کے ذریعہ اس تفتیش پر ان پر ہندو سخت گیر تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے انگلیاں اٹھائی تھیں۔گزشتہ برس چھبیس نومبر کو ممبئی پر ہوئے شدت پسندانہ حملے کے دوران کرکرے کی موت واقع ہوئی تھی۔ | اسی بارے میں ملزم سادھو سے تعلق نہیں: سہنا 17 November, 2008 | انڈیا ’کرنل سمجھوتہ دھماکہ میں ملوث‘15 November, 2008 | انڈیا مالیگاؤں دھماکہ، آچاریہ کاریمانڈ13 November, 2008 | انڈیا مالیگاؤں: کانپور سے ملزم گرفتار12 November, 2008 | انڈیا ہندو رہنما سےپوچھ گچھ کی درخواست10 November, 2008 | انڈیا کرنل پروہت، سی بی آئی کی تفتیش07 November, 2008 | انڈیا مالیگاؤں دھماکہ، فوجی کرنل گرفتار05 November, 2008 | انڈیا مالیگاؤں: ملٹری سکول پر شک01 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||