ریحانہ بستی والا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی |  |
| | ہر کوئی ہوٹل تاج کی تصویر کو اپنے البم کی زینت بنانا چاہتا ہے |
گجرات سے آیا پٹیل خاندان، اعظم گڑھ سے آئے 67 سال کے ضعیف فریدالدین اور ان کی بیوی اور پونے سے آئی نادیہ اور ان کی دوست منجوشا سبرامنیم اور درجنوں غیرملکی سیاح گیٹ وے آف انڈیا پر کھڑے گیٹ وے کے خوبصورت نظارے کو نہیں بلکہ وہاں ایک سو پانچ برسوں سے کھڑے اس تاج ہوٹل کو دیکھنے پہنچے ہیں جنہیں تین دنوں تک تین حملہ آوروں نے اپنی شدت پسندی کا نشانہ بنائے رکھا۔ لوگ جوق در جوق چلے آرہے ہیں۔ پولیس نے حفاظت کے انتظامات سخت کر دیے ہیں۔گیٹ میں اندر داخل ہونے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔ پولیس عملہ کی نگرانی میں قطار کے ساتھ ایک ایک شخص چھوٹے سے گیٹ سے اندر داخل ہو رہا ہے۔ بچے جوان بوڑھے ہر کوئی گیٹ وے کے بجائے ہوٹل تاج کے پس منظر میں اپنی تصویر کھینچوانا چاہتا ہے۔ٹی وی کیمرے سے لے کر ویڈیو کیمرہ ہر کوئی اس ہوٹل کی تصویر کو اپنے البم کی زینت بنانے کی کوشش میں ہے۔ پولیس نے ہوٹل تاج کے اطراف سخت پہرہ لگا دیا ہے۔حملوں کے ان تین دنوں میں جو رسی ہوٹل تاج سے دور میڈیا والوں کی حد کے طور پر باندھی گئی تھی وہ اب بھی اسی طرح ہے، اس کے آگے کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن لوگوں کا جوش و خروش ہے کہ وہ کم نہیں ہو رہا ہے۔ فرید الدین شیخ کو دل کا عارضہ ہے۔اگر یہ سانحہ نہیں ہوا ہوتا تو وہ دہلی کے ہسپتال میں اپنا بائی پاس سرجری کراتے لیکن اب وہ یہاں سیفی ہسپتال میں اپنا آپریشن کرائیں گے۔ اپنی بیوی کے ہمراہ دھوپ میں کھڑے تاج ہوٹل کو دیکھنے آئے شیخ کا کہنا تھا کہ جو ہوا بہت برا ہوا۔ انہوں نے مزید کہا: ’دراصل اس وقت دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی فضا قائم ہوگئی تھی۔اگر یہ دونوں ممالک متحد ہوتے تو ایک بڑی طاقت بن سکتے تھے لیکن کچھ طاقتیں جو انہیں ایک ساتھ دیکھنا اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہیں وہی ان کے درمیان نفرت کے بیچ بونے کے کام کرتی ہے۔ابھی بھی وقت ہے دونوں ممالک سنبھل جائیں تو سب کی بہتری ہے۔‘ نادیہ موڈک پونے میں انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوی ایشن میں ٹرینر ہیں۔ وہ ٹراویل ایجنسی میں کام کرنے والی اپنی دوست منجو کے ہمراہ ہوٹل تاج کا نظارہ کرنے آئی ہیں۔ نادیہ کے مطابق وہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ یہاں آچکی ہیں لیکن کبھی انہوں نے اس طرح ہوٹل تاج کو اہمیت نہیں دی تھی، وہ گیٹ وے آتی تھیں، یہاں کھڑے ہو کر تصویر کھینچواتیں، بوٹ کی سیر کرتیں اور چلی جاتی تھیں۔ لیکن اب منظر نامہ بدل چکا ہے۔ نادیہ اور منجو اسی سی ایس ٹی ریلوے سٹیشن سے ممبئی میں داخل ہوئیں جہاں سب سے زیادہ خون خرابہ ہوا لیکن انہوں نے شاید وہاں رک کر کچھ دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ ’ہمیں یاد ہی نہیں تھا کہ یہاں بھی لوگوں کا خون بہا ہے۔ ذہن میں صرف تاج کی یادیں تازہ ہیں۔‘ ان حملوں میں سی ایس ٹی سینٹرل ریلوے پر سب سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ ہوٹل تاج کے قریب ہوٹل اوبیرائے، یہودی گھر ناریمان ہاؤس اور کیفے لیوپولڈ بھی تشدد کا نشانہ بنے لیکن عوام الناس آج تاریخ کا حصہ بن چکے ہوٹل تاج کے نظارے کے لیے سینکڑوں میل دور بلکہ ہزاروں کلومیٹر دور سے جوق در جوق چلے آرہے ہیں کیونکہ ہوٹل تاج اپنی خوبصورتی اور شان و شوکت کے لیے مشہور تھا اور جسے حملہ آوروں نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ |