 | | | ہائی کمِشنر شمس الحسن |
برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمِشنر واجد شمس الحسن نے کہا ہے کہ پاکستانی تحقیقت سے لگتا ہے کہ ممبئی میں ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان یا برطانیہ میں نہیں کی گئی تھی۔ بھارتی چینل ’این ڈی ٹی وی‘ سے بات کرتے ہوئے واجد شمس الحسن کا کہنا تھا کہ ممبئی حملوں کی پاکستانی تحقیقات کی رپورٹ جلد ہی جاری کردی جائے گی۔ گزشتہ نومبر ممبئی میں ہونے والے حملوں میں ایک سو ستر سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم لشکرِ طیبہ پر ہے۔ بھارت نے یہ بھی کہا ہے کہ ممبئی حملوں میں پاکستان کے ’ریاستی عناصر‘ ملوث تھے۔ممبئی حملوں کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔ ہائی کمِشنر واجد شمس الحسن نے پاکستانی تحقیقات سے متعلق پہلا بیان دیا ہے جس سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ تحقیقات کی رپورٹ میں کیا ہوسکتا ہے۔ واجد شمس الحسن نے کہا: ’جہاں تک تحقیقات کار اپنے نتیجے پر پہنچے ہیں، پاکستان کی سرزمین کا استعمال نہیں ہوا ہے۔ یہ کوئی اور جگہ ہوسکتی ہے، برطانیہ بھی نہیں۔ یہ دو جگہیں (پاکستان اور برطانیہ) تھیں جن کے بارے میں مجھے تشویش تھی۔‘ بھارت اور بین الاقوامی برادری نے ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان پر کافی دباؤ بنایا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے ممبئی حملوں میں مبینہ طور پر ملوث گروہوں کے خلاف کارروائی میں درجنوں افراد کو حراست میں لیا ہے۔ واجد شمس الحسن نے کہا: ’ہم اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔ ہم حقائق پر کارروائی کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ ہماری تحقیقات دنیا کو منظور ہونگیں۔ ہم (تحقیقات کے) نتائج سے بھارت کو مطمئن کرنے کی کوشش کریں گے۔‘ انہوں نے پاکستانی تحقیقات میں ہونے والی تاخیر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے مواد کو اکٹھا کرنے، سمجھنے اور اس کی جانچ پرکھ کرنے میں وقت لگتا ہے۔ ہائی کمِشنر واجد شمس الحسن نے کہا کہ بھارت کو اپنا ڈوسیئر پیش کرنے میں پینتالیس دن لگے تھے۔ |