BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 January, 2009, 07:53 GMT 12:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حملوں کے پیچھے سرکاری ایجنسی ‘
ہندوستانی وزیر اعظم منموہن سنگھ
ہندوستان کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف پاکستان سخت سے سخت کاروائی کرے۔
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں کو جس طرح سے انجام دیاگیا ہے اس میں پاکستان کی بعض سرکاری ایجنسیوں کی مدد کے اشارے ملتے ہیں۔

منموہن سنگھ نے یہ بات شدت پسندی، اندورنی سیکورٹی، اور سیکورٹی سے جڑے کئی اہم معاملات پر دلی میں ہورہی وزراء اعلی کی ایک میٹنگ میں کہی ہے۔

میٹنگ کی قیادت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب یہ صاف ہوچکا ہے کہ حملوں کے پیچھے پاکستانی شدت پسند تنظیم لشکرِ طیبہ کا ہاتھ ہے۔

منموہن سنگھ کا کہنا تھا ’ہمارا ملک شدت پسندی سے لڑنے میں ایک ساتھ ہے اور ممبئی حملوں میں ایسے ثبوت حاصل ہوچکے ہیں کہ حملے جس طرح سے انجام دیئے گئے ان کو پاکستان کی بعض سرکاری ایجنسیوں کی مدد حاصل تھی۔‘

انکا مزید کہنا تھا ’ نکسلی شدت پسندی ہندوستان کی سرزمین پر پیدا ہوئی ہے لیکن بھارت میں جو شدت پسندی کے واقعات ہوئے ہیں انکو باہری ممالک خاص طور سے پاکستان کی مدد مل رہی ہے۔ پاکستان نے شدت پسندی کو سرکاری پالیسی کے طور پر استمعال کیا ہے۔‘

واضح رہے کہ گزشتہ روز ہندوستانی حکومت نے پاکستانی حکومت کو ممبئی حملوں سے متعلق ثبوت فراہم کیے تھے۔

ان ثبوتوں میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح سے ممبئی پر ہونے والے حملوں کا تعلق پاکستان کے بعض شدت پسند عناصر سے ہے۔

یہ ثبوت بھارتیہ وزارت خارجہ کی جانب سے ہندوستان میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر کو پیر کی صبح سونپے گئے تھے۔ حالانکہ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان ثبوتوں کے بارے میں دوسرے ممالک کو بھی بتایا گیا ہے۔

مدد
 نکسلی شدت پسندی ہندوستان کی سرزمین پر پیدا ہوئی ہے لیکن بھارت میں جو شدت پسندی کے واقعات ہوئے ہیں انکو باہری ممالک خاص طور سے پاکستان کی مدد مل رہی ہے۔ پاکستان نے شدت پسندی کو سرکاری پالیسی کے طور پر استمعال کیا ہے۔
منموہن سنگھ

بھارت نے جو ثبوت سونپے ہیں اس میں فی الحال بھارتیہ پولیس کی حراست میں ممبئی حملوں میں ملوث شدت پسند اجمل احمد قصاب سے تفتیش سے ملنے والی اطلاعات، حملوں کے دوران شدت پسندوں اور پاکستان میں بیٹھے بعض عناصر کے درمیان کمیونیکشن لنکس، حملوں کے بعد شدت پسندوں کے پاس سے حاصل ہونے والا اسلحہ، اور جی پی ایس اور سیٹلائٹ فون کے ذریعے حاصل کی گئی معلومات شامل ہیں۔

ہندوستان کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتا ہے کہ پاکستان ان ثبوتوں کو دھیان میں رکھ کر آگے کی کارروائی کرے گا اور پاکستان عالمی براداری اور فریقین کے درمیان شدت پسندی کے خاتمے سے متعلق اپنے وعدے پر کھرا اترے گا۔

پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے بھارت کی جانب سے دیئے گئے شواہد حاصل ہوگئے ہیں اور وہ ان شواہد کے مواد کا مطالعہ کررہا ہے۔

ادھر پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ٹھوس شواہد ملنے پر ممبئی حملوں میں ملوث ’پاکستانیوں‘ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ممبئی پر شدت پسند حملے میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہندوستان نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں کے پیچھے پیچھے پاکستان کی شدت پسند تنظيم لشکرِ طیبہ کا ہاتھ ہے۔ حالانکہ پاکستانی حکومت اور لشکرِ طیبہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

حملوں کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے رشتے کشیدہ ہوئے ہیں اور حملوں کے بعد سے لیکر اب تک دونوں ممالک کی جانب سے تلخ بیان بازیاں جاری ہیں لیکن ہندوستان نے عالمی برادری کی جانب سے پاکستان پر دباؤ بنانا شروع کردیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر سرگرم شدت پسندوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرے۔

چاند پر اور زمین پر
انڈیا کے لیے سن دو ہزار آٹھ کیسا رہا؟
ممبئی سیاح کیمیجنگ ضروری نہیں
’پاکستان کو سبق سکھانا لازم مگر جنگ کے بغیر‘
ممبئیبھارتی خفیہ ایجنسیاں
پورا نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے
میڈیا، پولیس کردار
پولیس اور میڈیا کا رویہ ایک جیسا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد