القاعدہ رہنما کی تازہ وڈیو، بھارت کو دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ کے افغانستان اور پاکستان میں سرگرم رہنما شیخ مصطفٰی ابو یزید کی جانب سے بی بی سی کو موصول ایک تازہ ویڈیو سے ظاہر ہوتا کہ وہ زندہ ہیں اور ان کی گزشتہ برس قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیارے میں ہلاکت کی خبر درست نہیں تھی۔ اس تازہ نصف گھنٹے کے ویڈیو پیغام میں انہوں نے ممبئی حملوں کے بعد بھارت کو پاکستان پر حملے سے باز رہنے کے لیے کہا ہے۔ شیخ مصطفٰی کے بارے میں گزشتہ برس بارہ اگست کو بعض غیرملکی خبررساں اداروں اور پاکستانی ٹی وی چینلز نے خبر دی تھی کہ وہ ایک امریکی میزائل حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم ہلاک ہونے والے کے ناموں میں ابہام موجود تھا۔ بعض ہلاک ہونے والے مصطفٰی المصری اور مصطفٰی ابو یزید کو ایک ہی شخص کے دو نام بتا رہے تھے۔ اس بارے میں وزارت داخلہ کے اہلکاروں سے متعدد بار رابطے کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی تاہم بعض اخبارات میں آج خبر شائع ہوئی ہے جس میں امریکی حکام نے حکومت پاکستان کو دسمبر دو ہزار سات سے ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے غیرملکیوں کی تفصیلات مہیا کی ہیں۔ اس فہرست میں بارہ اگست کے حملے میں عثمان الکنی اور ملا نذیر کے چند غیرملکیوں کی ہلاکت کا ذکر تو ہے لیکن ان کے نام نہیں دیئے گئے ہیں۔ وڈیو میں بھارت کو دھمکی دیتے ہوئے شیخ مصطفٰی کہتے ہیں کہ اگر اس نے پاکستان پر حملے کی کوشش کی تو اسے اس کی بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ ’تمام امت مسلمہ کے مجاہدین اور فدائین کو (بھارت کے خلاف) لا کھڑا کریں گے۔ تمہارے اقتصادی اہداف کو نشانہ بنائیں گے کہ وہ زمین بوس ہو جائیں۔ تم مفلس ہوکر رہ جاؤ گے۔‘
مصطفٰی ابو یزید کے بارے میں خیال ہے کہ وہ القاعدہ کے مالی امور کے نگران ہیں اور گیارہ ستمبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے قائم امریکی کمیشن کی رپورٹ میں بھی ان کا نام حملوں کی مالی منصوبہ بندی کرنے والوں کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ انہیں القاعدہ کے انیس سو اٹھاسی میں قیام کے بعد سے شوریٰ کا رکن بھی مانا جاتا ہے۔ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے فوراً بعد ان سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ القاعدہ نے ایک اہم امریکی اثاثے کا خاتمہ کر دیا ہے جو مجاہدین کو شکست دینے کی بات کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بینظیر کے قتل کا فیصلہ القاعدہ کے دوسرے اہم رہنما ایمن الظواہری نے کیا تھا۔ تازہ ویڈیو میں مصطفٰی ابو یزید ممبئی کا نام لے کر کہتے ہیں کہ بھارت کو اپنی تعداد کا گھمنڈ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ انہوں (القاعدہ) نے کبھی عددی قوت پر انحصار نہیں کیا ہے۔ اس بابت انہوں نے سوویت یونین کی افغانستان میں شکست کا حوالہ بھی دیا ہے۔
بعض عربی ویب سائٹس مصطفٰی ابو یزید کا اصل نام مصطفی احمد محمد عثمان ابو یزید بناتی ہیں جو اسی کی دہائی میں مصر میں اسلامی جہاد نامی تنظیم کے رکن تھے۔ ویڈیو میں ان کی بیس منٹ کی عربی میں تقریر جس کا اردو میں ترجمہ کوئی نامعلوم شخص پڑھ رہا ہے کافی مہارت سے بنائی گئی ہے۔ اس کے ابتداء میں جہادی ترانہ بھی شامل ہے جبکہ ممبئی حملوں اور حملہ آوروں کی تصاویر بھی دکھائی گئی ہیں۔ تقریر میں حکومت پاکستان اور فوج پر بھی کڑی تنقید کی گئی ہے۔ انہوں نے ممبئی حملوں کے ردعمل میں پاکستان میں اسلامی تنظیموں پر پابندیوں کی مذمت کی۔ انہوں نے اس موقع پر جہادی اور غیرجہادی تنظیموں کے اراکین سے اپیل کی کہ وہ بقول ان کے جہاد کے قافلے میں شامل ہو جائیں۔ | اسی بارے میں حملوں میں ’القاعدہ کے رہنما ہلاک‘01 November, 2008 | پاکستان القاعدہ کے اعلیٰ اہلکار ہلاک09 January, 2009 | پاکستان ’الدعوۃ پر پابندیاں ختم کی جائیں‘26 January, 2009 | پاکستان ڈرونز: نئی امریکی حکومت سے رابطے26 January, 2009 | پاکستان ’القائدہ رہنما ہلاک ہوگئے تھے‘09 January, 2009 | پاکستان ’پاکستان پر حملے رک جائیں گے‘20 November, 2008 | پاکستان امریکی سفیر طلب، حملوں پر احتجاج29 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||