BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 November, 2008, 12:16 GMT 17:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حملوں میں ’القاعدہ کے رہنما ہلاک‘
 اب تک سولہ امریکی میزائل حملے ہوئے ہیں
اب تک سولہ امریکی میزائل حملے ہوئے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقوں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں جمعہ کی شام امریکی جاسوس طیاروں کے مبینہ میزائل حملوں میں القاعدہ کے دو رہنماؤں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

پہلا حملہ شمالی وزیرستان میں میرعلی کے قریب ہوا تھا جس میں پندرہ افراد مارے گئے تھے جبکہ دوسرا حملہ جنوبی وزیرستان میں وانا کے پاس ہوا تھا جس میں ایک بچہ ہلاک ہوا۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق میر علی کے قریب میزائل حملے میں ہلاک ہونے والوں میں القاعدہ کے کمانڈر ابو عقاش بھی شامل تھے۔ تاہم ان کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی جاسکی ہے۔

میر علی میں مقامی انتظامیہ کے ذرائع نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ جمعہ کی شام ساڑھے آٹھ بجے میر علی کے قریب اسوڑی گاؤں میں مقامی مولوی امان اللہ کے گھر پر دو میزائل داغے گئے۔

ذرائع نے بتایا کہ مولوی امان اللہ کے القاعدہ کے رہنما ابو عقاش سے قریبی روابط تھے اور حملے کے وقت ابو عقاش اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس گھر میں موجود تھے۔ میزائل حملے میں مولوی امان اللہ کا گھر تباہ ہوگیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں القاعدہ کے کمانڈر ابو جہاد المصری شامل ہیں۔ ایک پاکستانی سکیورٹی اہلکار نےنام نہ بتانے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا: ’حملہ ایک ایسی گاڑی پر کیا گیا تھا جس میں ابو جہاد (المصری) اور دیگر افراد تھے۔ حملہ کامیاب تھا اور تینوں افراد ہلاک ہوگئے۔‘

تاہم امریکی اور پاکستانی حکومتوں نے ابوجہاد المصری کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق ابو جہاد المصری ’القاعدہ کے میڈیا اور پروپیگنڈہ کے انچارج ہیں۔ وہ القاعدہ کے بیرونی تعلقات کے سربراہ بھی ہوسکتے ہیں۔‘

وانا کے قریبی علاقے میں ہونے والے حملے میں ایک بچہ ہلاک ہوا۔ تفصیلات کے مطابق یہ میزائل ملا نذیر کے گھر پر داغا گیا۔ ایک عینی شاہد نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس حملے میں ملا نذیر محفوظ رہے اور وہ اس کمرے میں موجود نہ تھے جس پر میزائل داغا گیا۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز حکومتِ پاکستان نے پاکستان میں امریکی سفیر کو وزارت خارجہ طلب کرکے قبائلی علاقوں میں جاری امریکی طیاروں کے ذریعے میزائل حملوں پر شدید احتجاج کیا۔ امریکی سفیر کو بتایا گیا کہ یہ حملے پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔

اسی بارے میں
ڈرون کی تاریخ
16 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد