ڈرونز: نئی امریکی حکومت سے رابطے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکومت نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملے روکنے کے بارے میں امریکی حکومت کے ساتھ از سرِ نو رابطے کیے جا رہے ہیں۔ سوموار کے روز امریکی ڈرون حملوں کے بارے میں اٹھائے گئے نکتہء اعتراض کا جواب دیتے ہوئے سینیٹ میں قائدِ ایوان اور وفاقی وزیر رضا ربانی نے کہا کہ حکومت کو توقع تھی کہ نئی امریکی حکومت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی اور پاکستان کی خودمختاری کے خلاف یہ حملے رک جائیں گے۔ رضا ربانی نے کہا کہ اب چونکہ یہ توقع پوری ہوتی نظر نہیں آرہی تو حکومت نے ان حملوں کے بارے میں اپنی پالیسی پر بھی نظر ثانی کا کام شروع کر دیا ہے۔ قائد ایوان نے کہا کہ یہ مشکل صورتحال ہے جس سے نمٹنے کے لیے حکومت مختلاف آپشنز پر غور کر رہی ہے اور نئی امریکی حکومت سے بھی اس بارے میں رابطے کیے جا رہے ہیں۔ رضا ربانی نے کہا کہ ان بغیر پائیلٹ جہازوں کو مار گرانے کے حوالے سے حکومت کو بہت سی حدود کا خیال کرنا ہوگا تاہم اس بارے میں بھی کام کیا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی کے پروفیسر خورشید احمد نے امریکی ڈرون حملوں کا معاملہ ایوان میں اٹھاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں یقین کے ساتھ کہا تھا کہ باراک اوباما کے صدر منتخب ہوتے ہی ڈرون حملے رک جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ |
اسی بارے میں وزیرستان: میزائل حملے، بارہ ہلاک23 January, 2009 | پاکستان ’پاکستان اندرونی مسائل پر قابو پائے‘20 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||