’شدت پسندی ریاستی تعاون سے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا ہے کہ آج کے دور میں شدت پسندی صرف بعض افراد یا گروپوں کا کام نہیں بلکہ اسکو انجام دینے میں ریاست کا بھی تعاون ہوتا ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ جب کوئی ریاست عالمی فرائض سر روگردانی کرتے ہوئے شدت پسندی کو ایک ریاستی پالیسی کے تحت اپنی سرزمین پر سرگرم ہونے دیتی ہے تو حالات مزید پیچیدہ اور سنجیدہ ہوجاتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ 26 نومبر کو ممبئی میں ہوئے شدت پسند حملے امریکہ میں ہوئے 11/9 کے حملوں کی طرز پر ہی تھے۔ پرنب مکھرجی نے یہ بھی کہا کہ شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو ایک ہونا ہوگا اور شدت پسندی کو فروغ دینی والی ریاستوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے کا وقت آگیا ہے۔ انکا مزید کہنا تھا ’ممبئی حملوں کے بعد نہ صرف بھارت بلکہ پورے ایشیا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ایسے حملے ہماری تہذیب پر ایک حملہ ہے ۔ہماری تیزی سے بڑھتی معیشت اور مضبوط سیاسی روابط کے ذریعے ہمیں یہ پیغام دینا ہوگا کہ شدت پسندوں کے منصوبوں کو نہ صرف انڈیا بلکہ پوری عالمی براداری کو ختم کرنا ہونگے‘۔ ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیانی تلخ بیان بازی جاری ہیں اور ہندوستان بار بار یہ کہہ رہا ہے کہ ممبئی حملے صرف پاکستان کے بعض شدت پسند عناصر کا کام نہیں تھا بلکہ اس میں ریاست کی بعض ایجنسیوں کا بھی ہاتھ تھا۔ | اسی بارے میں ’کارروائی نہیں تو تمام رشتے منقطع‘14 January, 2009 | انڈیا ’پاکستان کے رد عمل میں تضاد ہے‘08 January, 2009 | انڈیا ’سنجیدہ تحقیقات کے امکانات معدوم‘06 January, 2009 | انڈیا پاکستان کو ثبوت سونپ دیئے05 January, 2009 | انڈیا ’ممبئی، ذمہ داروں کو حوالے کریں‘03 January, 2009 | انڈیا ’تناؤ بڑھایا نہیں تو کم کیا کریں‘30 December, 2008 | انڈیا دنیا پاکستان پر دباؤ بڑھائے: مکرجی22 December, 2008 | انڈیا اسلام آباد کارروائی کرے: مکھرجی 21 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||