’تناؤ بڑھایا نہیں تو کم کیا کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی تجاویز کے جواب میں بھارت کا کہنا ہے کہ اس نے تناؤ بڑھایا ہی نہیں تو پھر کمی کا سوال کہاں ہے۔ منگل کو دلی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا کہ پاکستان کے وزیر خارجہ نے کشیدگی میں کمی کا جو مطالبہ کیا ہے اس کے بارے میں اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ’ ہم نے تناؤ بڑھایا ہی نہیں، ہم نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا جس سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو۔‘ پرنب مکھرجی نے کہا’میں پہلے ہی روز سے یہ کہتا رہا ہوں کہ یہ مسئلہ انڈیا اور پاکستان کا نہیں ہے، یہ حملہ ان کی طرف سے کیا گیا ہے جن کا تعلق پاکستان کی سرزمین سے ہے اس لیے پاکستانی حکومت کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ ہم نے جب کشیدگی میں کوئی اضافہ کیا ہی نہیں تو پھر ہمارے لیے اس میں کمی کرنے کا سوال کہاں سے اٹھتا ہے۔‘ منگل کے روز ہی ٹی وی پر دیے گئے ایک بیان میں شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ خطے کا ماحول سازگار بنانے کے لیے اگر بھارت اپنی فضائیہ کی فارورڈ بیسز کو غیر فعال کردے اور زمینی افواج کو زمانہ امن کی پوزیشن پر لے جائے تو دونوں ممالک میں کشیدگی مزید کم ہوجائے گی اور یہ بہت بڑا مثبت اشارہ ہوگا۔ پرنب مکھرجی نے کہا کہ جہاں تک ثبوت فراہم کرنے کا سوال ہے تو وہ بھی دیئے جائیں گے۔’ ہم بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ پہلے کی طرح اس بار بھی ثبوت دئیے جائیں گے لیکن برائے کرم ان پر کارروائی کریں۔‘ پرنب مکھرجی نے کہا کہ پاکستان یہ بات کہہ چکا ہے کہ حملہ آور ایسے عناضر ہیں جنکا حکومت سے کچھ لینا دینا نہیں اور پھر اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت اس نے جماعۃ الدعوۃ پر پابندی بھی عائد کی’لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی تمام سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے۔‘ پرنب مکھرجی نے ایک بار پھر جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کا نام لیا اور کہا کہ پاکستانی حکومت کے ایک شخص نے پہلے یہ بات کہی تھی کہ وہ گھر میں نظر بند ہیں لیکن اب کہا جارہا ہے کہ ان کا پتہ نہیں۔’ تو ہم اس بارے میں کیا کریں۔‘ بھارتی وزیر خارجہ نے اس سے قبل کئی بار کہا تھا کہ اگر پاکستان نے حملہ آوروں کے خلاف کارروائی نہیں کی تو پھر بھارت اپنے تمام متبادل راستوں پر غور کرنے پر مجبور ہوگا۔ | اسی بارے میں ’پاکستان کوسبق ضروری مگر جنگ نہیں‘26 December, 2008 | انڈیا اسلام آباد کارروائی کرے: مکھرجی 21 December, 2008 | انڈیا ’کارروائی کریں ورنہ آپشن کھلے ہیں‘22 December, 2008 | انڈیا دنیا پاکستان پر دباؤ بڑھائے: مکرجی22 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||