BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 November, 2008, 03:01 GMT 08:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کمانڈو آپریشن جاری، مرنے والوں کی تعداد سو سےزیادہ، 186 زخمی

شہر کے بڑے ہوٹل تاج میں موجود لوگ جان بچانے کے لیے لٹک لٹک کر نیچے آ رہے ہیں

ممبئی شہر میں ہوٹل اوبیرائے اور تاج پیلس میں چھپے مسلح افراد پر قابو پانے اور ان کے قبضے سے یرغمالیوں کو چھڑانے کے لیے دہلی سے بلائے گئے خصوصی کمانڈوز، فوج اور پولیس کا مشترکہ آپریشن اس وقت جاری ہے۔

ریاست مہارشٹر کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل کے مطابق حملوں میں مرنے والوں کی تعداد تقریباً سو ہے جبکہ ایک سو چھیاسی افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک پانچ حملہ آور مارے جاچکے ہیں اور ایک کو گرفتار کیا گیا ہے۔

درجنوں افراد ابھی بھی حملہ آوروں کے قبضے میں ہیں۔

کینیڈا کے ایک سفارتکار نے ممبئی میں موجود نامہ نگار صلاح الدین کو بتایا کہ یرغمالیوں میں ان کےملک کے بہت سے شہری شامل ہیں۔

ہوٹل اوبرائے کی تہرویں منزل پر بہت سے لوگ پھنسے ہوئے ہیں اور کھڑکیوں سے ہاتھ ہلاکر اپنی جانب توجہ مبذول کرا رہے ہیں۔

مسٹر پاٹل کے مطابق حملہ آوروں کے بارے میں ’سب پتہ چل گیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ سب کے سب سمندر کے راستے ممبئی میں داخل ہوئے تھے۔ پولیس نے ایک کشتی کو قبضہ میں لے کر اس کی تلاشی شروع کر دی ہے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اس حملے میں پاکستان کا ہاتھ ہوسکتاہے، مسٹر پاٹل نے کہا کہ فی الحال اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

نامہ نگار ریحانہ بستی والا کے مطابق تاج ہوٹل میں بدھ کی رات گئے دستی بم کے پھٹنے سے لگنے والی آگ جمعرات کی صبح پھر اچانک بھڑک اٹھی اور ہوٹل کی عمارت سے دھوئیں کے سیاہ بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دیئے ۔

اس سے قبل ممبئی پولیس کے حوالے سے ایک سو ایک افراد کی ہلاکت اور دو سو اسی کے زخمی ہونے کی خبر دی گئی تھی۔

مرنے والوں میں چودہ پولیس اہلکار، چھ غیر ملکی شہری اور اکاسی بھارتی شہری شامل ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جمعرات کی صبح ممبئی کے کاروباری علاقے میں مسلح افراد نے ایک اور سرکاری دفتر میں گھس کر لوگوں کو یرغمال بنالیا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس کارروائی میں کم از کم پانچ مسلح افراد ملوث ہیں۔

تاج ہوٹل، جہاں پر چھپے دہشت گردوں اور سیکیورٹی فورسز کے دستوں میں فائرنگ کا تبادلہ تمام رات جاری رہا، جمعرات کی صبح (این ایس جی) نیشل سیکیورٹی گارڈز کے خصوصی دستوں کو چار ٹرکوں سے اترتے دیکھا گیا۔

گزشہ رات نامعلوم دہشت گردوں نے شہرمیں سات مختلف مقامات پر حملے کیئے تھے جن میں تاج اور اوبیرائے ہوٹلوں کے علاوہ ایک ریلوے سٹیشن اور ایک ہسپتال بھی شامل ہیں۔

 بدھ کی رات کو مقامی وقت کے مطابق دس بجے کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے دستی بموں اور کلاشنکوف سے شہر میں سات جگہوں پر حملہ کرکے ایک سو ایک افراد کو ہلاک اور ڈھائی سو کے قریب کو زخمی کر دیا تھا۔

ہوٹل اوبیرائے کے باہر موجود بی بی سی کی نمائندہ ریحانہ بستی والا نے بتایا کہ
سرعی الحرکت فورس یا ریپڈ ایکشن فورس اور سٹیٹ ریزور پولیس کے دستے بڑی تعداد میں ہوٹلوں کے اطراف پھیلے ہوئے ہیں۔

دونوں ہوٹلوں کو پولیس نے محاصرے میں لے رکھا ہے


تاج ہوٹل کے باہر موجود بی بی سی نامہ نگار براجیش اوپادھیائے نے اطلاع دی ہے کہ جمعرات کی صبح تقریباً چھ بجے کے قریب پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ تاج ہوٹل کے باہر ایمبولینسیں اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے علاوہ قومی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

پولیس اور نیم فوجی دستے ہوٹل کی طرف کسی کو جانے کا اجازت نہیں دے رہے ہیں جہاں پر وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ ساری رات سے جاری ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے اطلاع دی ہے کہ پولیس اہلکار لاوڈ سپیکروں پر تاج ہوٹل کے اردگرد کے علاقوں میں کرفیو کا اعلان کر رہے ہیں۔

اے ایف پی ہی نے ایک اور خبر میں کہا ہے کہ مسلح دہشت گردوں نے ایک یہودی رباعی اور ان کی فیملی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

تاج ہوٹل سے گزشتہ رات پولیس کچھ لوگوں کو بچا کرنکالنے میں کامیاب ہو گئی تھی لیکن تاحال دہشت گردوں نے کچھ لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے لیکن ان کی تعداد کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں۔

بدھ کی رات کو مقامی وقت کے مطابق دس بجے کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے دستی بموں اور کلاشنکوف سے شہر میں سات جگہوں پر حملہ کیا تھا۔

حملہ آوروں نے ایک ریلوے سٹیشن پر بھی اندھا دھند فائرنگ کی تھی


مسلح نوجوانوں نے چھترپتی شیواجی ٹرمنس ریلوے سٹیشن، کاما ہسپتال، میٹرو تھیئٹر کے پاس ، تاج محل ہوٹل ، اوبیرائے ہوٹل ، مچھگاؤں اور ولے پارلے پر حملے کیئے۔

مہاراشٹر کے وزیراعلی ولاس راؤ دیشمکھ اور ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے ہنگامی طور پر طلب کی گئی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حملہ آور سمندری راستے سے بوٹ کے ذریعہ شہر میں داخل ہوئے۔

اس سے قبل اطلاعات تھیں کہ کمانڈو آپریشن کے بعد نو مشتبہ دہشت گردوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔آر آر پاٹل نے اس حملہ کو ملک پر حملہ قرار دیا۔ پاٹل کے مطابق ممبئی پر اس طرح کے حملہ کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔

ایک عینی شاہد سلام قاضی نے بتایا کہ وہ مچھگاؤں سے گزر رہے تھے کہ ایک چلتی ہوئی ٹیکسی میں زور دار دھماکہ ہوا اور ٹیکسی کے پرخچے اڑ گئے۔

تاج اور اوبیرائے ہوٹل شہر کے اہم علاقوں میں واقع ہیں۔ اوبیرائےہوٹل کے قریب ہی ایئر انڈیا کا صدر دفتر ہے اور انڈین ایکسپریس کا ٹاور بھی۔

ممبئی حملے
ممبئی میں فائرنگ : تصاویر
دنیابھر سے مذمت
ممبئی حملوں کی کئی ممالک نے مذمت کی
پیچھے کون، مقصد کیا
حملوں کیوں کیئے گئے ابھی واضح نہیں ہے
بنگلور کی ریاستی اسمبلیبنگلور میں خوف
دھمکی کے بعد تلاشی کا کام شروع
پھانسی کا پھندہپارلیمان پرحملہ
5 سال مکمل، افضل کی پھانسی کا مطالبہ
بال ٹھاکرے’خود کش تیار کریں‘
ٹھاکرے ہندو خود کش دستے بنانے کے حامی
اسی بارے میں
شیلا ڈکشت کی ہیٹ ٹرک؟
25 November, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد