BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 March, 2008, 05:45 GMT 10:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہالینڈ:متنازعہ فلم ویب سائٹ پر
گریٹ ولڈر
گریٹ ولڈر کے خلاف احتجاج کے دوران ایک نوجوان ایک پلے کارڈ لے کر جا رہا ہے جس میں ولڈر او انتہا پسند لکھا گیا ہے
ہالینڈ کے دائیں بازو کے سیاست دان گریٹ ولڈر نے قرآن کے بارے میں بارے میں بنائی جانے والی متنازع فلم ویب پر لگا دی ہے۔

سترہ منٹ کی یہ فلم ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ liveleak لائیو لیک پر جاری کی گئی ہے۔گریٹ نے اس فلم کا نام ’فتنہ‘ رکھا ہے جس کے معنی شر انگیزی اور شرارت بھی ہوتے ہیں۔ ہالینڈ کے نشریاتی ادارے اس فلم کو دکھانے پر آمادہ نہیں ہوئے تھے۔

اس فلم کے ابتدائی منظر میں قرآن کو دکھایا گیا ہے جس کے بعد گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو امریکہ میں ہونے والے ان حملوں کو دکھایا گیا ہے جنہیں نائین الیون کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

جولائی دو ہزار پانچ میں لندن میں ہونے والے بم حملوں اور مارچ دو ہزار چار میں میڈرڈ میں بم حملوں کے ہولناک منظر بھی فلم میں شامل ہیں۔ اس فلم میں ہالینڈ کے فلم ساز تھیو وان گوف کے قتل اور سر قلم کیے جانے کے دوسرے واقعات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ وان گوف کو ایک فلم کے بعد ایک شدت پسند مسلمان نے دو ہزار چار میں قتل کر دیا تھا۔

اس فلم کے حوالے سے کئی مسلمان ممالک میں پہلے ہی ناراضگی کا اظہار کیا جا چکا ہے اور کئی ممالک میں جلوس بھی نکالے جا چکے ہیں۔

ہالینڈ کی حکومت گریٹ ویلڈر کے خیالات سے لاتعلقی کا اظہار کر چکی ہے اور ہالینڈ کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ اس فلم میں اسلام کو غلط طریقے سے تشدد سے جوڑا گیا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہمارے نزدیک اس کا مقصد اشتعال دلانے کے سوا کچھ نہیں لیکن مشتعل ہونے کو دھمکیاں دینے کی وجہ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا‘۔

احتجاج
گریٹ ولڈر کے خلاف ہالینڈ میں احتجاج

فلم کا اختتام قرآن کے صفحات پلٹے جانے پر ہوتا ہے جس کے بعد صفحے پھٹنے کی آواز آتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی سکرین پر یہ الفاظ ابھرتے ہیں ’یہ آواز (صفحے پھاڑے جانے کی) جو آپ سن رہے ہیں فون بک کے ایک صفحے کی ہے‘۔

’یہ مجھ پر نہیں بلکہ خود مسلمانوں پر ہے کہ وہ قرآن سے ایسی دل آزار آیات کو نکال باہر کریں‘۔

فلم کے اختتام اس پر ہوتا ہے:’اسلامائیزیشن بند کرو ہماری آزادی کا دفاع کرو‘۔

اس سے دو سال قبل ہالینڈ کے ایک کارٹونسٹ کے بنائے گئے ایسے خاکوں پر دنیا بھر میں شدید احتجاج اور خون خرابہ ہو چکا ہے جس میں پیغمبرِ اسلام کے خاکے بنائے گئے تھے۔

اس سے قبل مذکورہ بالا فلم کی جس ویب سائٹ پر ریلیز ہونی تھی اس ویب سائٹ کو ’بند‘ کر دیا گیا تھا اور ویب سائٹ چلانے والی امریکی کمپنی نیٹ ورک سالیوشن نے کہا تھا کہ وہ ان الزامات کی تحقیعقات کر رہی ہے کہ کہیں اس نے کسی رہنما اصول کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔

گیرٹ ولڈرز تقریب رونمائی نہیں
ڈچ مخالف فلم کی رونمائی نہیں مگر ریلیز ہو گی
اسلام پر نئی ڈچ فلم، نیٹو کے خدشاتنئی ڈچ فلم
اسلام پر نئی فلم سے متعلق نیٹو کے خدشات
ایان ہرسی علیڈچ ایم پی کہتی ہیں
’کارٹون چھاپنا غلط فیصلہ نہیں تھا‘
نقاببرقع پر پابندی
ھالینڈ میں برقع پابندی پرمسلم خواتین کی تنقید
ہرسی علیہرسی علی پر کیا بیتی؟
ہرسی علی ہالینڈ پارلیمنٹ سے مستعفی کیوں؟
ہالینڈ: مسجد نذرِآتش
ہالینڈ میں ایک مسجد کو نذرِآتش کر دیا گیا ہے۔
ایان حرسی علیمتنازعہ فلمساز کا قتل
مسلم عورتوں کے خلاف تشدد دکھایا گیا تھا
اسی بارے میں
کراچی: احتجاج تشدد میں تبدیل
17 February, 2006 | پاکستان
پوپ کی وضاحت قابل قبول نہیں
21 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد