ہالینڈ:متنازعہ فلم ویب سائٹ پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہالینڈ کے دائیں بازو کے سیاست دان گریٹ ولڈر نے قرآن کے بارے میں بارے میں بنائی جانے والی متنازع فلم ویب پر لگا دی ہے۔ سترہ منٹ کی یہ فلم ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ liveleak لائیو لیک پر جاری کی گئی ہے۔گریٹ نے اس فلم کا نام ’فتنہ‘ رکھا ہے جس کے معنی شر انگیزی اور شرارت بھی ہوتے ہیں۔ ہالینڈ کے نشریاتی ادارے اس فلم کو دکھانے پر آمادہ نہیں ہوئے تھے۔ اس فلم کے ابتدائی منظر میں قرآن کو دکھایا گیا ہے جس کے بعد گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو امریکہ میں ہونے والے ان حملوں کو دکھایا گیا ہے جنہیں نائین الیون کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ جولائی دو ہزار پانچ میں لندن میں ہونے والے بم حملوں اور مارچ دو ہزار چار میں میڈرڈ میں بم حملوں کے ہولناک منظر بھی فلم میں شامل ہیں۔ اس فلم میں ہالینڈ کے فلم ساز تھیو وان گوف کے قتل اور سر قلم کیے جانے کے دوسرے واقعات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ وان گوف کو ایک فلم کے بعد ایک شدت پسند مسلمان نے دو ہزار چار میں قتل کر دیا تھا۔ اس فلم کے حوالے سے کئی مسلمان ممالک میں پہلے ہی ناراضگی کا اظہار کیا جا چکا ہے اور کئی ممالک میں جلوس بھی نکالے جا چکے ہیں۔ ہالینڈ کی حکومت گریٹ ویلڈر کے خیالات سے لاتعلقی کا اظہار کر چکی ہے اور ہالینڈ کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ اس فلم میں اسلام کو غلط طریقے سے تشدد سے جوڑا گیا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہمارے نزدیک اس کا مقصد اشتعال دلانے کے سوا کچھ نہیں لیکن مشتعل ہونے کو دھمکیاں دینے کی وجہ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا‘۔
فلم کا اختتام قرآن کے صفحات پلٹے جانے پر ہوتا ہے جس کے بعد صفحے پھٹنے کی آواز آتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی سکرین پر یہ الفاظ ابھرتے ہیں ’یہ آواز (صفحے پھاڑے جانے کی) جو آپ سن رہے ہیں فون بک کے ایک صفحے کی ہے‘۔ ’یہ مجھ پر نہیں بلکہ خود مسلمانوں پر ہے کہ وہ قرآن سے ایسی دل آزار آیات کو نکال باہر کریں‘۔ فلم کے اختتام اس پر ہوتا ہے:’اسلامائیزیشن بند کرو ہماری آزادی کا دفاع کرو‘۔ اس سے دو سال قبل ہالینڈ کے ایک کارٹونسٹ کے بنائے گئے ایسے خاکوں پر دنیا بھر میں شدید احتجاج اور خون خرابہ ہو چکا ہے جس میں پیغمبرِ اسلام کے خاکے بنائے گئے تھے۔ اس سے قبل مذکورہ بالا فلم کی جس ویب سائٹ پر ریلیز ہونی تھی اس ویب سائٹ کو ’بند‘ کر دیا گیا تھا اور ویب سائٹ چلانے والی امریکی کمپنی نیٹ ورک سالیوشن نے کہا تھا کہ وہ ان الزامات کی تحقیعقات کر رہی ہے کہ کہیں اس نے کسی رہنما اصول کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔ |
اسی بارے میں اسلام مخالف فلم کے خلاف مظاہرے07 March, 2008 | پاکستان کارٹون: کراچی میں ہڑتال اور فائرنگ14 March, 2008 | پاکستان احتجاج میں عراق اور مصر بھی شامل21 June, 2007 | پاکستان کراچی: احتجاج تشدد میں تبدیل17 February, 2006 | پاکستان پوپ کی وضاحت قابل قبول نہیں21 September, 2006 | پاکستان کارٹون ہنگاموں کے ملزمان بری27 February, 2007 | پاکستان غیرملکی اخباروں کے خلاف مقدمہ25 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||