پوپ کی وضاحت قابل قبول نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں مختلف الخیال مذہبی جماعتوں کے ایک ملک گیرعلماء کنونشن میں پاپائے روم بینیڈ کٹ کو امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ان کو پوپ کے موجودہ عہدے سے ہٹائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تحریک حرمت رسول کے زیر اہتمام یہ کنونشن لاہور میں جماعتہ الدعوۃ کے مرکز القادسیہ میں منعقد ہوا جس میں منتظمین کے مطابق ملک بھر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے وفود نے شرکت کی۔ علماء کنونشن ساڑھے پانچ گھنٹے جاری رہا جس کے کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیہ میں پوپ کے وضاحتی بیان کو مسترد کیا گیا اور کہا گیا کہ ’مغربی ذرائع ابلاغ پوپ کے بیان کو توڑ موڑ کر ان کی معافی بنا کر پیش کر رہے ہیں حالانکہ ان کے بقول پوپ نے کسی غلطی کا اعتراف کیا اور نہ ہی معافی مانگی ہے اس کے برعکس انہوں نے الٹامسلمانوں کے ردعمل پر افسوس کا اظہار کیا ہے جو علماء کے بقول جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔‘ اعلامیہ میں گوانتا ناموبے میں قرآن پاک کی مبینہ توھین پیغمبر اسلام حضرت محمد کے متازعہ کارٹونوں کا حوالہ دیکر کہا گیا کہ ’پوپ کا بیان اتفاقی نہیں تھا بلکہ مغرب کے خلاف جاری مہم کا تسلسل ہے اور پوپ نے اسلام کے خلاف بھڑکائی گئی امریکی صدر بش کی جنگ کو مذہب کی چھتری فراہم کی ہے۔‘ علماء نے ان کے بیان کو حضرت عیسی کی تعلیمات کے بھی خلاف قرار دیا اور کہا کہ’ موجودہ پوپ کو ان کے عہدے سے ہٹا کر کسی ایسے شخص کو اس منصب پر بٹھایا جائے جو پوپ جان پال کی طرح مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب رواداری کو فروغ دینے کی اہلیت رکھتا ہو۔‘ کنونشن میں تمام مسلم ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ویٹی کن سے تعلقات منقطع کر لیں اور کوئی مسلم سفیر ویٹی کن کی بلائی گئی مجوزہ مسلم سفیروں کی کانفرنس میں شرکت نہ کرے۔ پاکستان میں متحدہ مجلس عمل سمیت مختلف مذہبی جماعتوں نے جمعہ کو ملک بھر میں یوم احتجاج منانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ تحریک حرمت رسول کے علماء کنونشن کے شرکاء نے عوام سے یوم احتجاج میں بھر پور شرکت کی اپیل کی ہے۔ تحریک حرمت رسول کے کنوینر اور جماعتہ الدعوۃ کے مرکزی رہنما امیر حمزہ نے پاپائے روم کو مناظرہ اور مباہلہ کی دعوت دی ہے۔ بعض علماء دین کے مطابق مناظرہ میں ہار تسلیم کرنے والے کو جیتنے والے کا مذہب قبول کرنا ہوتا ہے جبکہ مباہلے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جو جھوٹا ہوتا ہے اس پر خدا کا قہر نازل ہوتا ہے۔ جماعتہ الدعوۃ کے مرکزی رہنماء حافظ عبدالسلام نے کہا کہ ’گالی کا جواب دلیل سے دیا جائے گا اور مباہلے اور مناظرہ کی طرح جنگ کے تمام اصول اپنائے جائیں گے۔‘ کنونشن میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے رہنما مولانا سمیع الحق کا بیان پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ ’عیسائیوں نے پوپ کو نہ روکا تو پوری دنیا جنگ کی لپیٹ میں آسکتی ہے۔‘ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے امیر سنیٹر پروفیسر ساجد میر نے اپنے خطاب میں پاکستانی صدر مشرف اور ان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اعلان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ’ جب تک عیسائیوں کے مذہبی اور سیاسی شدت پسند صحافتی اور مذہبی دہشت گردی ترک نہیں کرتے انکا ساتھ دینا غیرت کے منافی ہوگا۔‘ | اسی بارے میں پوپ بینیڈکٹ کے بیان پر تنقید14 September, 2006 | پاکستان پوپ کے خلاف قرارداد مذمت15 September, 2006 | پاکستان ویٹیکن کے سفیر کی دفترخارجہ میں طلبی15 September, 2006 | پاکستان پاپائے روم پرتنقید کا سلسلہ جاری16 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||