پاپائے روم پرتنقید کا سلسلہ جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ویٹیکن کےاس وضاحتی بیان کے باوجود کہ پوپ بینیڈکٹ کے بیان کا مقصد مسلمان کی دل آزاری نہیں تھا، مسلمان ممالک میں پاپائے روم کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ قاہرہ کی الازہر یونیورسٹی کے سربراہ شیخ محمد سید نے کہا ہے کہ ’جہاد کے بارے میں پاپائے روم کا بیان اسلام کے بارے میں لاعلمی پر مبنی ہے اور بیان میں اسلام کو ایسی چیزوں سے منسوب کیا گیا ہے جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوپ کے بیان سے دنیا کے مذاہب اور ثقافتوں میں خلاء بڑھے گا۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز اور مصر کے وزیر خارجہ احمد ابو الغیث نے کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں غیر جانبدار ممالک کی سربراہ کانفرنس میں پاپائے روم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ صدر جنرل مشرف نے کہا کہ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے کے مکروہ ہتھکنڈوں کو متحد ہوکر ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا دہشت گردی اور اسلام کو جوڑنے سے مسلمانوں اور مغرب میں تفریق بڑھے گی۔ مصر کے وزیر خارجہ ابو الغیث نے کہا کہ پوپ کو مذہب اور تشدد سے متعلق اپنے بیانات کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے بیانات کو اسلام پر نکتہ چینی تصور کیا جا رہا ہے۔ پاکستان، ایران، ترکی، فلسطین اور دوسری کئی اسلامی ممالک میں پاپائے روم کے اس بیان کے بعد کہ مذہب اسلام کے پیغمبر تشدد کے سوا کچھ نہیں لائے، کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ مصری وزیر خارجہ نے کہا کہ پوپ کو صاف الفاظ میں کہنا چاہیئے کہ ان کا کیا مطلب ہے۔ ادھر پاکستان نے ویٹیکن کے سفیر کو طلب دفتر خارجہ میں طلب کر کے پوپ بینیڈِکٹ کے بیان پر احتجاج کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق پوپ کا بیان مسلمانوں کے جذبات کو ’مجروح‘ کرتا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کی قومی اسمبلی نے جمعہ کے روز ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے پوپ بینیڈکٹ کے بیان کی مذمت کی ہے جس میں انہوں نے جہاد کے حوالے سے مبینہ طور پر کہا تھا کہ مذہبِ اسلام کے پیغمبر تشدد کے سوا کچھ نہیں لائے تھے۔ ایوان نے پوپ سے بیان واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔ اسلامی ممالک کی تنظیم آو آئی سی نے بھی پاپائے روم کے بیان پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ملیشیا کے وزیر اعظم عبداللہ احمد بدوائی نے کہا ہے کہ پوپ کو معافی مانگنی چاہیئے۔ ’پوپ کو اسلامی دنیا کے اس اشتعال کو سنجیدگی سے لینا چاہیئے‘۔ فلسطین اتھارٹی کے وزیر اعظم اسماعیل ہانیہ نے پوپ بینیڈکٹ کے بیان کی مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ وہ فلسطین کی مقدس زمین پر فلسطینی عوام کی طرف سے پاپائے روم کے ان کلمات کی مذمت کرتے ہیں جو انہوں نے اسلام کے عقیدوں ، شریعہ، تاریخ کے خلاف ادا کیئے ہیں۔ ادھر ایران میں حجۃ الاسلام احمد خاتمی نے اپنے جمعہ کے خطاب میں پوپ کے حالیہ بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام کے بارے میں غلط معلومات رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا یہ شرم کی بات ہے کہ دنیا بھر کے عیسائی اسلام کے بارے میں اتنا کم علم رکھتے ہیں۔ جرمنی میں پوپ بینیڈکٹ نے یہ بیان چودھویں صدی کے ایک مسیحی شہنشاہ کے الفاظ نقل کرتے ہوئے دیا تھا۔ افغانستان کے طالبان نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ہم پوپ کی شدید مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتےہیں کہ پوپ مسلم برادری سے معافی مانگے‘۔ دریں اثناء ویٹیکن نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے کہ پوپ بینیڈِکٹ کا ارادہ مذہب اسلام کی توہین کرنا تھا۔ ویٹیکن کا کہنا ہے کہ پاپائے روم یہ واضح کرنا چاہتے تھے کہ وہ مذہب کے ذریعے پھیلائے جانے والے تشدد کو مسترد کرتے ہیں۔ |
اسی بارے میں وضاحت کے باوجود مسلمان غصے میں15 September, 2006 | آس پاس پوپ بینیڈکٹ کے بیان پر تنقید14 September, 2006 | پاکستان ’ڈا وِنچی کوڈ‘: احتجاج بڑھ گیا17 May, 2006 | آس پاس باڑ عیسائی زائرین کیلئے بھی رکاوٹ24 March, 2006 | آس پاس کارٹون معاملہ یواین میں: مشرف25 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||