ڈچ فلم، تقریب رونمائی منسوخ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام کے خلاف فلم بنانے والے انتہائی دائیں بازو کے ڈچ سیاستدان گیرٹ ولڈرز نے کہا ہے کہ وہ سیکورٹی خدشات کی وجہ سے اپنی فلم کو اس ماہ کے آخر میں ایک بین الاقوامی پریس کانفرنس میں پیش نہیں کر پائیں گے۔ مسٹر ولڈرز کی فلم کا نام ’فتنہ‘ ہے جس میں یہ دکھایا جائے گا کہ لوگ کس طرح قرآن سے عدم برداشت، قتل اور دہشت کی ترغیب لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلم کی تقریب رونمائی کو ختم کرنے پر مجبور کیےگئے ہیں۔ گیرٹ ولڈرز نے کہا ہے کہ ان کی فلم کے لانچ کے لیے سکیورٹی فراہم کرنے کا خرچہ لاکھوں ڈالروں میں آ رہا تھا اور اس وجہ سے وہ دی ہیگ میں بین الاقوامی پریس سینٹر میں اسے نمائش کے لیے پیش نہیں کر سکیں گے۔ گیرٹ ولڈرز نے کہا ہے کہ وہ پوری کوشش کریں گے کہ وہ یہ فلم انٹرنیٹ پر اپنی خصوصی ویب سائٹ پر اس ماہ کے آخر تک دکھا سکیں۔ مسٹر والڈرز کا کہنا ہے کہ ان کی ویب سائٹ بننے کے پہلے دن صرف ہالینڈ میں دو لاکھ افراد اس پر آئے تھے اور اب اگر اس پر فلم چلائی گئی تو سائٹ پر ٹریفک بہت زیادہ بڑھ جائےگا اور وہ اس کے لیے خاص انتظام کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے مسٹر گیرٹ ولڈرز نے ڈچ ٹی وی چینلز کو یہ فلم دکھانے پر راضی کرنے کی کوشش کی تھی۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے ڈچ حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اسےاس فلم کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جو ان کے خیال میں تشدد بھڑکائےگی۔ ڈچ حکومت نے فلم دکھانے پر پابندی تو نہیں لگائی ہے لیکن گیرٹ ولڈرز پر کافی زور ڈالا گیا ہے کہ وہ اس کی نمائش نہ کریں کیونکہ خدشہ ہے کہ اس کا بیرون ملک ڈچ شہریوں اور کاروبار پر منفی اثر پڑے گا۔ ڈچ وزیر دفاع نے کہا ہے کہ گیرٹ ولڈرز بہت غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جبکہ نیٹو کے سکریٹری جنرل جاپ ڈی ہوپ جو خود ڈچ شہری ہیں، نے کہا ہے کہ اس فلم کی وجہ سے افغانستان میں نیٹو افواج کی حفاظت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ڈچ حکومت نے مسٹر ولڈرز کو متنبہ کیا ہے کہ اس فلم سے ہالینڈ کو سیاسی اور اقتصادی سطح پر نقصان ہوگا۔ ماضی میں مسٹر ولڈرز نے قرآن کا موازنہ ہِٹلر کی ’مئین کیمف‘ سے کرتے ہوئے اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کی نئی فلم کی پہلے سے ہی ایران اور پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک میں مذمت ہو چکی ہے۔ مسٹر ولڈرز ہالینلڈ کی ’فریڈم پارٹی‘ کے سربراہ ہیں، جس کو ڈچ پارلیمان میں نو سیٹیں حاصل ہیں۔ سن دو ہزار چار میں ڈچ فلم ساز تھیو وان گو کے ایک اسلامی بنیاد پرست کے ہاتھوں قتل کے بعد مسٹر ولڈرز کو پولیس کی حفاظت حاصل ہے۔ | اسی بارے میں اسلام پر نئی فلم، نیٹو کے خدشات03 March, 2008 | آس پاس پیغمبرِ اسلام کے کارٹون پر افسوس31 August, 2007 | آس پاس ہالینڈ کےمتنازعہ فلمساز کا قتل02 November, 2004 | آس پاس ہالینڈ:شدت پسندوں کیخلاف آپریشن 10 November, 2004 | آس پاس ’کارٹون چھاپنا غلط فیصلہ نہیں تھا‘10 February, 2006 | آس پاس برلن: احتجاج کے بعد نمائش معطل01 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||