زیادتی: مائیکل جیکسن حاضر ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا میں سب سے زیادہ جانے پہچانے گلوکار رقاص اور موسیقار مائیکل جیکسن کے خلاف بچوں سے مبینہ جنسی زیادتی کے مقدمہ کی سماعت کیلیفورنیا میں شروع ہوئی جس میں شرکت کے لیے مائیکل جیکسن عدالت میں حاضر ہوئے۔ سر تا پا سفید لباس پہنے ہوئے مائیکل جیکسن ایک چھتری کے سائے میں چلتے ہوئے عدالت میں آئے۔ انہیں دیکھنے کے لیے عدالت کے باہر ان کے مداح بڑی تعداد میں جمع تھے۔ جو انہیں دیکھ کر چلانے لگے اور مائیکل جیکسن نے انہیں دیکھ کر فتح کا نشان بنایا اور ہاتھ لہرایا۔ عدالت میں جیوری کا انتخاب کیا جانے والا ہے۔ مقدمے کے پہلے مرحلے میں ان ساڑھے سات سو افراد کی چھان بین کی جائے گی جن میں سے جیوری کا انتخاب کیا جانا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ مقدمہ کوئی چھ ماہ جاری رہے گا۔ چھیالیس سالہ مائیکل جیکسن پر یہ مقدمہ ایک تیرہ سالہ بچے کو جنسی زیادتی کرنے کے لیے شراب پلانے کا ہے جب اس کے علاوہ استغاثے نے ان پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ انہوں نے اس بچے کے والدین کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔ مائکل جیکسن نے ان الزامات ایک بہت بڑا جھوٹ قرار دیا ہے لیکن اگر ان پر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں اکیس سال تک کی جیل ہو سکتی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس بار بھی انہیں دیکھنے کے لیے لوگ دنیا بھر سے عدالت کے باہر جمع ہوئے تھے لیکن اس بار ایک سال پہلے کا سا جوش و خروش نہیں تھا
ایک سال پہلے جب مائیکل جیکسن سانتا ماریا عدالت میں آئے تھے تو ان کے مداح عدالت کے باہر ناچ رہے تھے اور ان کے گانے گا رہے تھے۔ امریکہ میں یہ پہلا موقعہ ہے جس میں کسی اتنے بڑے فنکار کے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ مائیکل جیکسن کے خلاف مقدمہ کے چند گھنٹے قبل ان کے والدین ٹی وی پر آئے اور انہوں نے اپنے بچے کا دفاع کیا۔ ان کی والدہ کیتھرین نے سی بی ایس ٹیلیوژن پر کہا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو جانتی ہیں اور یہ الزام انتہائی احمقانہ بات ہے۔ ان کے والد جوئی جیکسن نے کہا کہ ان کے بیٹے پر لگائے جانے والے الزامات کا محرک لالچ ہے۔ جیوری کے انتخاب کے دوران متوقع افراد ڈیڑھ ڈیڑھ سو کے گروپوں کی صورت میں مائیکل جیکن کے سامنے آئیں گے اور انتخِاب کا یہ عمل ایک ماہ تک جاری رہے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||