مائیکل جیکسن کی عدالت میں پیشی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مائیکل جیکسن اپنے اُوپر عائد بچوں کے ساتھ جنسی ذیادتی کے الزامات کو خارج کروانے اور عدالت میں اگلی پیشی کو ملتوی کروانے کی کوششوں میں ہیں۔ اُن کے وکلاء نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان پر لگے الزامات کو خارج کردیا جائے کیونکہ ان کے مطابق استغاثہ کا رویہ انتقامی اور حکومت کا طرزعمل ظالمانہ ہے۔ ان کے وکلاء نے 31 جنوری کو ہونے والی پیشی کو بھی ملتوی کرنے کو کہا ہے تا کہ وہ نئے شواہد پر غور کر سکیں۔ کیس کے دونوں فریقوں میں سے کسی کو بھی تنقید کی اجازت نہیں ہے۔ کورٹ کے مطابق یہ درخواستیں جمعہ کے روز داخل کی گئی ہیں۔ 46 سالہ گلوکار نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے دس الزامات کو مسترد کیا ہے۔ان کی درخواست پر20 دسمبر کو نظرثانی کی جائے گی۔ مائیکل جیکسن کے وکلاء نے شواہد کو بھی جن میں DNA کا نمونہ بھی شامل ہے خارج کرنے کی درخواست کی ہے۔یہ نمونے 4 اور 5 دسمبر کو ’نیورلینڈ رینچ‘ سے حاصل کیے گئے تھے۔ جج روڈنی ملویل نے پہلے کہا تھا کہ ’پیشی کے لیے جُیوری کے انتخاب کا آغاز 31 جنوری کو ہی ہوگا‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||