جیکسن: شہادتیں راز رہیں گی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مائیکل جیکسن پر بچوں سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت کرنے والے ایک جج نے گواہوں کے بیانات کے پورے متن جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ اٹھائیس’ کھلے اقدام‘ کی تفصیل کے علاوہ گرینڈ جیوری کے سامنے گواہوں کے بیانات کے مکمل متن فراہم کیے جائیں۔ لیکن جج روڈنی میلول کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے آئندہ سماعت کی کارروائی متاثر ہو سکتی ہے۔ مائیکل جیکسن نے بچوں سے زیادتی کے دس الزامات سے انکار کیا ہے۔ اس سے پہلے جج نے کہا تھا کہ وہ ابتدائی سماعتوں ہی میں گواہوں کے بیانات کے مکمل متن جاری کرنے کے معاملے پر غور کریں گے تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ تمام مواد مہر بند رہے گا۔ جج کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ اس وقت مقدمے کو جو تشہیری حیثیت حاصل ہے اس کی وجہ سے جیوری کی ساکھ کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔‘
ذرائع ابلاغ کی مسلسل کوشش ہے کہ ان افراد کے ناموں کا انکشاف کیا جا سکے جنہیں مائیکل جیکسن کا شریک جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس تمام مواد کے حصول کی کوشش بھی کی جا رہی ہے جس کی بنا پر گرانڈ جیوری نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مائکل جیکسن کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ مقدمہ کی سماعت کے لیے تیرہ ستمبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے تاہم خیال ہے کہ اس تاریخ پر نئی تاریخ مقرر کر دی جائے گی تا کہ مائیکل جیکسن کے نئے وکیل مقدمے کی تیاری کر سکیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||