جیکسن ’بچوں کو ورغلاتے تھے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مقبول ترین گلوکار مائیکل جیکسن کے خلاف بچوں سے زیادتی کے مقدمے میں وکیل استغاثہ نے کہا ہے کہ ’مائیکل جیکسن بچوں کو اپنی نیورلینڈ رانچ میں قیدی سا بنا کر رکھتے تھے اور ورغلاتے تھے۔ منگل کو قبل از مقدمہ سماعت کے دوران وکیلِ استغاثہ نے کہا کہ مائیکل جیکسن الزام لگانے والے بچے کو اپنے گھر لے گئے اور اس پر دباؤ ڈالا کہ وہ پوپ گلو کار کی تعریفیں کرے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ نیورلینڈ کو بنایا ہی اس طرح گیا تھا کہ وہاں بچوں کو ورغلایا جا سکے اور اور ان پر حملے کیے جا سکیں۔ مائیکل جیکسن کے وکلاء نے ان الزامات کو بے معنی دعوے قرار دیا ہے۔ مائیکل جیکسن کے خلاف مقدمے کو چار ماہ کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ مائیکل جیکن نے اپنی خلاف اس مقدمے میں لگائے جانے والے تمام الزامات سے انکار کرتے ہوئے بے گناہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جج نے اس مقدمے میں مائیکل جیکسن کے وکیل کی یہ درخواست منظور کر لی ہے کہ انہیں مقدمے کی دستاویزات پڑھنے کے لیے وقت چاہیے۔ اب اس مقدمے کی سماعت آئندہ سال جنوری کے آخر میں ہو گی۔ مائیکل جیکسن پر گزشتہ سال دسمبر میں کیلی فورنیا کی ایک عدالت نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے سات واقعات کی بنیاد پر فرد جرم عائد کی گئی تھی اور انہیں کیلی فورنیا میں ان کے گھر پر مارے جانے والے ایک چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
ان پر ایک چودہ سالہ لڑکے کے ساتھ جنسی زیادتی کا االزام ہے اور اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے تو انہیں چوبیس برس کی قید بھی ہو سکتی ہے۔ جیکسن اس مقدمے میں تیس لاکھ ڈالر کی ضمانت پر رہا ہیں۔ پینتالیس سالہ گلوکار نے اپنے اوپر عائد کئے گئے الزامات کی پر زور تردید کی اور انہیں سراسر جھوٹ اور بہتان قرار دیا تھا۔ جیکسن پر پہلے بھی ایسے الزامات لگتے رہے ہیں ڈسٹرکٹ اٹارنی مائیکل جیکسن پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے سات الزامات ہیں جبکہ دو واقعات میں مبینہ طور پر انہوں جرم کی نیت سے چھوٹے بچوں کو شراب پلائی۔ تازہ ترین الزام کے مطابق مائیکل جیکسن نے اس سال سات فروری سے دس مارچ کے درمیان ایک بچے جان ڈو کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔ مائیکل جیکسن ماضی میں بھی ان الزامات کا سامنا کر چکے ہیں لیکن اس وقت مبینہ طور پر انہوں نے پیسے دے کربات دبا دی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||