| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مائیکل جیکسن ضمانت پر رہا
پاپ گلوکار مائیکل جیکسن جنہوں نے بارہ بس کے بچے سے زیادتی کے الزامات لگنے کے بعد خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا، تیس لاکھ ڈالر کی ضمانت پر رہا ہو گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مائیکل جیکسن اب اگلے سال نو جنوری کو عدالت میں پیش ہوں گے۔ مائیکل جیکسن نے اپنے آپ کو جمعرات کے روز کیلیفورنیا کی پولیس کے حوالے کیا۔ ان کی گرفتاری کے وارنٹ گزشتہ روزی جاری کیے گئے تھے۔ انہیں ہتھکڑی لگا کر پولیس سٹیشن میں لے جایا گیا۔ تاہم ضمانت کے بعد جب وہ وہاں سے باہر نکلے تو انہوں نے انگلیوں سے وکٹری کے وی یعنی جیت کا نشان بنایا۔ مائیکل جیکسن کو ایک سیاہ کار میں پولیس سٹیشن لے جایا گیا تھا اور ان کی حفاظت کے لئے تین پولیس والے موٹر سائیکلوں پر ان کی گاڑی کے پیچھے چل رہے تھے۔ ضمانت سے قبل پولیس سٹیشن میں مائیکل جیکسن کی تصویر بنائی گئی، ان کا پاسپورٹ تھانے میں جمع کیا گیا اور ان کی انگلیوں کے نشان لئے گئے۔ پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ مائیکل جیکسن نے پولیس کے ساتھ بھر پور تعاون کیا ہے۔ ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کی ضمانت کے تمام انتظامات پہلے ہی کر لیے گئےتھے اور انہیں کسی بھی وقت ضمانت پر رہائی مل سکتی ہے۔ مائیکل جیکسن کے وکیل کہتے ہیں کہ ان کے مؤکل پر لگائے جانے والے الزامات بہت بڑا جھوٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مائیکل جیکسن عدالتی کارروائی کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔ مائیکل جیکسن پر جنسی زیادتی کے الزامات دس سال پہلے بھی لگے تھے تاہم اُس وقت عدالت سے باہر ہی تصفیہ کر لیا گیا تھا۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ اب صورتِ حال مختلف ہے اور اس عرصے میں قوانین تبدیل ہو چکے ہیں لہذا اگر ریاست کسی مقدمے کو چلانا چاہے تو عدالت سے بالا تصفیہ ممکن نہیں ہے۔ ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کے بعد مائیکل جیکسن کے وکلاء کا کہنا ہے کہ منگل کو ہونے والی کارروائی اور اِس کا وقت مذموم مقاصد کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ یہ سب اس وقت کیا گیا ہے جب جیکسن کا نیا البم جاری ہونے والا ہے۔ پولیس نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اس کی کارروائی کا مقصد مائیکل جیکسن کو گرفتار کرنا تھا تاہم یہ کہا تھا کہ اس کارروائی کے مقاصد کی وضاحت کرے گی۔ امریکی نشریاتی ادارے این بی سی اور کیبل چینل کورٹ ٹیلی ویژن مصر تھے کہ پولیس مائیکل جیکسن کو گرفتار کرنا چاہتی ہے۔ کورٹ ٹی وی چینل کا کہنا ہے پاپ گلوکار کی وسیع و عریض رہائش گاہ پر چھاپے کے دوران پولیس کے پاس جو وارنٹ تھے ان کے تحت گرفتاری کے اختیارات پچاس امریکی ریاستوں میں استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ مائیکل جیکسن نے خود تو پولیس کے چھاپے اور گرفتاری کے وارنٹوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا لیکن ان کی تشہیر کے معاملات کی نگرانی کرنے والے عملے کا کہنا تھا کہ مائیکل جیکسن کو اس بات کا علم تک نہیں کہ پولیس کی اس کارروائی کا مقصد کیا تھا۔ جب یہ چھاپہ مارا گیا تو مائیکل اپنے تین بچوں کے ساتھ لاس ویگاس میں تھے اور پچھلے تین ہفتوں سے گئے ہوئے تھے۔
علاقے کے شیرف اور سرکاری وکیل کے دفتر کے ذرائع کا کہنا تھا کہ وارنٹ مجرمانہ نوعیت کے معاملے کی وجہ سے جاری کیا گیا تھا۔ تاہم مائیکل جیکسن کے وکیل برائن آکسمین کا کہنا ہے کہ وارنٹ میں جنسی زیادتی کے ایک الزام کا حوالہ بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ وارنٹ میں ایک بارہ سالہ لڑکے کا حوالہ ہے جو یہ کہتا ہے کہ اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پولیس الزام سے متعلق شواہد حاصل کرنا چاہتی ہے۔‘ برائن نے یہ بھی بتایا تھا کہ وارنٹ کے تحت تفتیش دو ماہ تک جاری رہ سکتی ہے لیکن مائکل جیکسن نے جمعرات کو لاس ویگاس سے واپس آ کر کیلیفورنیا میں خود کو حکام کے حوالے کر دیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||