| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مائیکل جیکسن کے گرفتاری وارنٹ
عظیم پاپ گلوکار مائیکل جیکسن کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔ان پر ایک بارہ سالہ بچے سے جنسی زیادتی کرنے کا الزام ہے۔ پولیس نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے کیلیفورنیا کے علاقے نیور لینڈ میں ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ بھی مارا اور خاصی دیر تک ناکہ بندی کر کے کھڑی رہی۔ جیکسن کے وکلاء کا کہنا ہے کہ منگل کو ہونے والی کارروائی اور اس کا وقت مذموم مقاصد کا اظہار کرتا ہے کیونکہ یہ سب اس وقت کیا گیا ہے جب جیکسن کا نیا البم جاری ہونے والا ہے۔ پولیس نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اس کی کارروائی کا مقصد مائیکل جیکسن کو گرفتار کرنا تھا تاہم یہ کہا ہے کہ اس کارروائی کے مقاصد کی وضاحت کرے گی۔ تاہم امریکی نشریاتی ادارے این بی سی اور کیبل چینل کورٹ ٹیلی ویژن مصر ہیں کہ پولیس مائیکل جیکسن کو گرفتار کرنا چاہتی ہے۔ کورٹ ٹی وی چینل کا کہنا ہے پاپ گلوکار کی وسیع و عریض رہائش گاہ پر چھاپے کے دوران پولیس کے پاس جو وارنٹ تھے ان کے تحت گرفتاری کے اختیارات پچاس امریکی ریاستوں میں استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ مائیکل جیکسن نے اب تک خود پولیس کے چھاپے کے بارے میں کچھ نہیں کہا لیکن اس کی تشہیر کے معاملات کی نگرانی کرنے والے عملے کا کہنا ہے کہ مائیکل جیکسن کو اس بات کا علم تک نہیں کہ پولیس کی اس کارروائی کا مقصد کیا تھا۔ جب یہ چھاپہ مارا گیا تو مائیکل اس وقت اپنے تین بچوں کے ساتھ لاس ویگاس میں تھے اور پچھلے تین ہفتوں سے وہ وہیں ہیں۔
علاقے کے شیرف اور سرکاری وکیل کے دفتر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وارنٹ مجرمانہ نوعیت کے معاملے کی وجہ سے جاری کیا گیا تھا۔ تاہم مائیکل جیکسن کے وکیل برائن آکسمین کا کہنا ہے کہ وارنٹ میں جنسی زیادتی کے ایک الزام کا حوالہ بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ وارنٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک بارہ سالہ لڑکا ہے جو یہ کہتا ہے کہ اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پولیس الزام سے متعلق شواہد حاصل کرنا چاہتی ہے۔‘ برائن کے مطابق وارنٹ کے تحت تفتیش دو ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||