| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں بے قصور ہوں: مائیکل جیکسن
مشہور گلوکار مائیکل جیکسن نے امریکہ کی ایک عدالت میں کہا ہے کہ انہوں نے بچوں کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی۔ مائیکل جیکسن پر زیادتی کے سات اور بچے کو شراب پیش کرنے کے دو الزامات ہیں۔ انہوں نے ان الزامات کو ایک ’بڑا جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔ کیلیفورنیا کے علاقے سانٹا ماریا میں عدالت کے کمرے سے نکلنے کے فوراً بعد ہی جیکسن کو مداحوں نے گھیر لیا اور ان کے حق میں نعرے لگائے۔ انہوں نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’اپنے مداحوں سے بہت پیار کرتے ہیں‘۔ اس کے بعد ان کے محافظ انہیں ہجوم سے باہر لے آئے۔ کہا جارہا ہے کہ ان کے محافظ نیشن آف اسلام نامی جماعت سے ہیں۔ آخر کار مائیکل جیکسن اپنی گاڑی کی چھت پر کھڑے ہو گئے اور ہاتھ ہلا کر اور انگلیوں سے فتح کا نشان بنا کر مداحوں کا شکریہ ادا کیا۔ عدالت کی کارروائی کا آغاز جیکسن کے لیے کوئی اچھا تجربہ نہیں تھا۔ وہ کمرۂ عدالت میں بیس منٹ لیٹ آئے جس پر جج نے انہیں تنبیہ کی کہ آئیندہ ایسا نہ کریں۔ جج نے کہا: مسٹر جیکسن آپ نے آغاز ہی غلط کیا ہے۔۔۔ میں آپ کو تنبیہ کرتا ہوں کہ میں اس طرح کا رویہ برداشت نہیں کروں گا۔ یہ عدالت کی توہین ہے۔‘ باقاعدہ مقدمے سے قبل الزامات کی سماعت تیرہ فروری کو ہو گی اور اس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ جیکسن پر مقدمہ چلے گا یا نہیں۔ اگر مقدمہ شروع ہوتا ہے اور جیکسن پر الزامات ثابت ہوتے ہیں تو انہیں بائیس سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||