| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مائیکل جیکسن پر فرد جرم عائد
امریکہ کے مشہور پاپ سنگر مائیکل جیکسن پر جمعرات کو کیلی فورنیا کی ایک عدالت نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے سات واقعات کی بنیاد پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔ مائیکل جیکسن نے کسی جرم کا اقرار نہیں کیا ہے۔ انہیں گزشتہ ماہ کیلی فورنیا میں ان کے گھر پر ایک چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر ایک چودہ سالہ لڑکے کے ساتھ جنسی زیادتی کا االزام ہے اور اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے تو انہیں چوبیس برس کی قید بھی ہو سکتی ہے۔ ان کے وکیل مارک گریگوس کا کہنا ہے کہ مائیکل جیکسن اپنی تمام تر توانائی کے ساتھ یہ مقدمہ لڑیں گے۔ جیکسن کو بچوں سے جنسی زیادتی کے الزام پر گرفتاری کے بعد تیس لاکھ ڈالر کی ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔ پینتالیس سالہ گلوکار نے اپنے اوپر عائد کئے گئے الزامات کی پر زور تردید کی اور انہیں سراسر جھوٹ اور بہتان قرار دیا تھا۔ ان کے وکیل نے بھی ان الزامات پر شدید برہما کا اظہار کیا اور کہا کہ مائیکل بالکل بے گناہ ہیں اور ان الزامات میں کوئی سچائی نہیں ہے۔
ڈسٹرکٹ اٹارنی ٹام سنیڈن کا کہنا ہے مائیکل جیکسن پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے سات الزامات ہیں جبکہ دو واقعات میں مبینہ طور پر انہوں جرم کی نیت سے چھوٹے بچوں کو شراب پلائی۔ تازہ ترین الزام کے مطابق مائیکل جیکسن نے اس سال سات فروری سے دس مارچ کے درمیان ایک بچے جان ڈو کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔ مائیکل جیکسن کو بیس اکتوبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ جیکسن کے والدین جواور کتھرین نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ان کا بیٹا بے گناہ ہے۔ مائیکل جیکسن ماضی میں بھی ان الزامات کا سامنا کر چکے ہیں لیکن اس وقت مبینہ طور پر انہوں نے پیسے دے کربات دبا دی تھی۔ ان کے مقدمے کی اگلی سماعت اب سولہ جنوری کو ہوگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||