کوئی زیادتی نہیں کی: جیکسن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گلوکار مائیکل جیکسن نے ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بچے کے ساتھ زیادتی کی تردید کی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ بچوں کو اپنے بستر پر سُلانا کوئی غلط بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بچے کو نقصان پہنچانے سے پہلے میں اپنی کلائی کاٹ لوں گا۔ یہ انٹرویو انہوں نے سی بی ایس نیوز کو دیا۔ یہ زیادتی کے الزامات کے بعد ان کا پہلا انٹرویو ہے۔ جیکسن پر بچے کے ساتھ زیادتی کے سات الزامات ہیں۔ اس کے علاوہ ان پر دو الزامات کم عمر بچے کو شراب پلانے کے بارے میں ہیں۔ بیالیس سالہ جیکسن نے، جو کے تین ملین ڈالر کی ضمانت پر ہیں، یہ انٹرویو سی بی ایس کے ایڈ بریڈلے کو کرسمس والے دن لاس اینجلیس کے ایک ہوٹل میں دیا۔ سی بی ایس نے انٹرویو کا ایک حصہ ٹی وی پر چلایا ہے جبکہ مکمل انٹرویو اتوار کو 60 منٹ میں چلایا جائے گا۔ مائیکل جیکسن سے جب پوچھا گیا کہ کیا ان حالات میں بھی بچوں کے ساتھ ایک کمرے میں سونا ٹھیک ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ’بالکل‘۔ ’کیوں نہیں؟ اگر آپ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے ہیں، اگر آپ جیک دی ریپر ہیں، اور اگر آپ قاتل ہیں تو یہ اچھا خیال نہیں ہے۔ میں یہ نہیں ہوں۔‘ جیکسن نے بچوں کے ساتھ زیادتی کے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ یہ ایک بڑا جھوٹ ہیں۔ انٹرویو میں جیکسن نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس نے ان کی رینچ کی تلاشی لیتے ہوئے ان کی نجی زندگی یا تنہائی (پرائویسی) میں مداخلت کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||