’ جیکسن: میں نے کچھ نہیں کیا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مائیکل جیکسن نے بچوں سے جنسی زیادتی کے الزامات کا دفاع کرنے کے لیے عدالت میں حاضری دی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ جیکسن کے خلاف چھوٹے بچے کے ساتھ نازیبا حرکات، بچے کو اغوا کرنے کی سازش، جھوٹی قید اور پیسے بٹورنے جیسے دس الزامات کا سامنا ہے۔ مقدمے کی یہ سماعت اسی عدالت میں ہو رہی ہے جہاں مائیکل جیکسن کے خلاف گزشتہ جنوری میں سماعت ہوئی تھی اور جہاں وہ اس اعتماد کے ساتھ داخل ہوئے تھے کہ ان پر لگائے جانے والے الزامات غلط ہیں۔ تاہم اس کے بعد مائیکل جیکسن کو گزشتہ ہفتے خفیہ طور پر بتا دیا گیا تھا کہ سانتا باربرا کی گرینڈ جیوری یہ سمجھتی ہے کہ ان پر لگائے جانے والے الزامات کی ایسی شہادتیں موجود ہیں کہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ گزشتہ رات اس عظیم اور مقبول گلو کار کے مداح ان کی نیورلینڈ رینچ کے سامنے اظہار یکجہتی کے لیے موم بتیاں لے کر کھڑے رہے اور صبح ہی سے ان کی عدالت میں بھی آمد جاری تھی۔ جمعہ کو عدالت میں ہونے والی سماعت میں معروف وکیل تھامس میسیرو مائیکل جیکسن کی پیروی کر رہے ہیں اور وہ اس نئی قانونی ماہرین کے ٹیم کے سربراہ ہیں جو مائیکل جیکسن نے اپنے دو سابق وکیلوں کو علیحدہ کرنے کے بعد مقرر کی ہے۔ اس سے پہلے مارک گیرے گاس اور بینجمن برافمین مائیکل جیکسن پر مقدمات کی پیروی کر رہے تھے۔ مائیکل جیکسن نے انہیں ہٹانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔ اس کے علاوہ مائیکل جیکسن نے اپنے ان متنازع محافظوں کو بھی سبکدوش کر دیا ہے جو نیشن آف اسلام کے رکن بتائے جاتے ہیں۔ پولیس نے عدالت کے گرد چھ فٹ اونچی دہری رکاوٹیں کھڑی کی ہیں تاکہ عدالت کے باہر جمع ہونے والے مائیکل جیکسن کے ہزاروں مداحوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔ مائیکل جیکسن کے نئے وکیل میسیرو حال ہی میں انیس سو ستر کی دہائی کے ٹی وی سٹار رابرٹ بلیک کے خلاف قتل کے مقدمے کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||