سکارف کی بنا پر فٹبال میں بھی تنازع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گیارہ سالہ مسلمان لڑکی کو سکارف پہن کر فٹبال کھیلنے سے روکنے پر کینیڈین صوبے کیوبک میں ایک بار پھر اقلیتوں کے حقوق کی بحث چھڑگئی۔ سکارف پہن کر فٹبال کھیلنے کے اس تنازعہ پر سنیچر کو برطانیہ کے شہرمانچسٹر میں فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے اجلاس میں بحث ہوگی۔ آٹوا کی فٹبال ٹیم نیپئین سنیچر ب کی طرف سے کھیلنے والی اسماہان منصور کو کینیڈا کے فرانسیسسی اکثریت والے صوبے کیوبک کے شہر لاوال میں ہونے والے ایک فٹبال ٹورنامنٹ میں میچ ریفری نے سکارف پہن کر کھیلنے سے روک دیا۔ ریفری کے اس فیصلے کے بعد اسماہان کی پوری ٹیم نے بھی کھیلنے سے انکار کردیا۔ اسماہان نے بتایا کہ جب وہ کھیلنے کےلیے میدان میں گئیں تو ریفری تیزی سے ان کی طرف آئیں اور ان سے کہا کہ وہ فوراً میدان سے باہر چلی جائیں۔ اسماہان کہتی ہیں کہ انہوں نے سوچا کہ انہوں نے ایسا کیا کیا ہے کہ ریفری انہیں میدان سے جانے کے لیے کہہ رہی ہیں۔ ریفری لئیس عارفہ نے ان سے کہا کہ ’تم نہیں کھیل سکتیں‘۔ ریفری اور اسماہان کی اس گفتگو کے دوران ٹیم کے کوچ بھی وہاں آ گئے اور ان کی ریفری سے تلخ کلامی شروع ہو گئی۔ اس کے بعداسماہان کی پوری ٹیم ان کے ساتھ گراؤنڈ سے باہر آگئی۔ یاد رہے کہ ریفری خود بھی مسلمان ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ نہیں ہے اور انہیں قوانین کے تحت اپنے فرائض انجام دینے ہیں۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کینیڈا میں اس قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے اور نہ ہی فیفا کے قوانین کی رو سے خواتین کھلاڑیوں کے سکارف پہننے پر کوئی پابندی ہے۔ تاہم صوبے کیوبک کی فٹبال فیڈریشن نے ریفری کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ کیوبک فٹبال فیڈریشن کی ترجمان مشعیل ڈوگاس کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی وضاحت کے لیے فٹبال کی دوسری صوبائی تنظیموں کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے اور اگر وہ اس بات پر متفق ہوں گے کہ فٹبال کھیلنے کے دوران حجاب یا سکارف پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے تو وہ کیوبک میں بھی کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی اور اس فیصلے کے لیے طویل انتظار بھی نہیں کرنا پڑے گا۔
کیوبک فٹبال فیڈریشن کے ترجمان کے مطابق حجاب کے مسئلے کو فیفا کانفرنس کے ایجنڈے میں شامل کر لیا گیا ہے۔ فیفا سنیچر برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں ہونے والے اجلاس میں کھیل کے دوران حجاب یا سکارف پہننے کے معاملے پر غور کرے گی۔ ادھر صوبہ کیوبک کے پریمئر جین چاریسٹ نے مسلمان لڑکی کے سکارف پہن کر کھیلنے پر پابندی کے فیصلے کو درست قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ کھیلوں کی تنظیموں کو پورا حق ہے کہ وہ ان قوانین کو لاگو کریں جنہیں وہ بہتر سمجھتے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد کینیڈا بھر میں کیوبک حکومت اور فٹبال فیڈریشن کو مسلمان حلقوں میں زبردست تنقید کا سامنا ہے۔ یاد رہے کہ صوبہ کیوبک میں اقلیتوں کا شروع دن سے یہ شکوہ ہے کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ اور اس واقعہ کے بعد یہ بحث دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔ ریفری لئیس عارفہ کا کہنا ہے کہ دوران کھیل سر پر کسی قسم کی ایسی چیز پہننا ممنوع ہے جوکھیل کے دوران کھلاڑی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہو اور یہ فٹبال قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ لڑکی کی والدہ ماریہ منصور نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں اس واقعہ کا سخت صدمہ ہے اور اس سے لڑکی کو شدید ذہنی کوفت پہنچی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ واقعہ نسلی تعصب کی بنا پر پیش آیا ہے۔
کینیڈین فٹبال ایسوسی ایشن کی ترجمان سینڈرہ کیمبل نے بتایا کہ کینیڈین فٹبال ایسوسی ایشن کے قوانین میں اس قسم کی کوئی شق نہیں ہے اور نہ ہی فیفا کے قوانین میں، اور کینیڈین ایسوسی ایشن فیفا ہی کے قوانین پر عمل درآمد کرتی ہے۔ مگر کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے ریفری مداخلت کر سکتےہیں۔ مسلم کونسل آف مانٹریال کے ترجمان سلمان المناوی کا کہنا ہے کہ صوبہ انٹاریو میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور وہاں پر کھلاڑیوں کو ان کے مذہبی ملبوسات پہننے کی مکمل اجازت ہے اور کیوبک صوبے کو بھی کھلاڑیوں کے مذاہب کا احترام کرنا چاھیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اقلیتوں کو مکمل آزادی ہونی چاہیے نہ کہ ان کی شناخت اور حقوق پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ |
اسی بارے میں تیونس: حجاب پر پابندی نافذ16 October, 2006 | آس پاس ترکی میں حجاب پر پابندی کی تائید 10 November, 2005 | آس پاس حجاب پہننے پر نام خارج21 October, 2004 | آس پاس ’حجاب کی پابندی پر نہ اکسائیں‘08 July, 2004 | آس پاس حجاب پر تنازعہ، فٹبال میچ مؤخر27 April, 2004 | آس پاس حجاب پر پابندی کی حمایت17 December, 2003 | آس پاس الجزیرہ کی پریزنٹر حجاب میں26 November, 2003 | آس پاس ’حجاب‘ پر طالبات سکول سے خارج 12 October, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||