 | | | ڈاکٹر بداوی کہتے ہیں کہ اگر حجاب خود خطرے کا باعث بنے تو اسے ترک کیا جاسکتا ہے۔ |
برطانیہ میں ایک سرکردہ مسلم رہنما ڈاکٹر ذکی بداوی نے رائے دی ہے کہ سات جولائی کو لندن بم دھماکوں کے بعد اگر مسلم خواتین عام مقامات پر حجاب کے ساتھ خود کو خطرے میں محسوس کریں تو وہ حجاب ترک کرسکتی ہیں۔ ڈاکٹر ذکی بداوی نے قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حجاب کا حکم خواتین کے تحفظ کے لیے ہے لیکن اگر حجاب خود خطرے کا باعث بنے تو اسے ترک کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر ذکی بداوی لندن کے مسلم کالج کے سربراہ اور برطانیہ کے کونسل برائے مساجد اور امام کے چئیر مین ہیں۔ انہوں نے یہ رائے ایسے وقت پر جاری کی ہے جب مسلمانوں پر نسلی منافرت کے حلموں میں تقریباً چھ سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ لندن میں سات جولائی کو ہونے والے حملوں کے بعد تین ہفتوں میں مسلمانوں کے خلاف مذہبی منافرت کے دو سو ستر کے قریب واقعات پیش آ چکے ہیں۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں چالیس ایسے جرائم ہوئے تھے۔ اس تمام معاملے پر آپ کی کیا رائے ہے؟ اگر آپ برطانیہ میں رہتی ہیں اور حجاب کرتی ہیں تو کیا آپ حجاب کی وجہ سے خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگی ہیں؟ کیا ایسے ماحول میں حجاب کو ترک کرنا صحیح ہے؟ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
ارشد خان، ملتان: اسلام بہادروں کا مذہب ہے اور یہ ہمیں اجازت نہیں دیتا کہ ہم صرف اپنے تحفظ کے لیے اس سے انحراف کریں۔ ساجد، کینیڈا: یہ برطانیہ کے ایک مولوی کی رائے ہے اور شخص کو اپنے اچھے برے کا پتہ ہے۔ محمد جاوید، شارجہ: مجھے التمش صاحب جیسے مسلمان پر رحم آتا ہے۔ آپ نے ڈاکٹر صاحب کے بیان کو فتویٰ قرار دے دیا۔ بھائی صاحب ڈاکٹر صاحب نے صرف یہ کہا ہے کہ یہ میرا ذاتی مشورہ ہے نہ کہ یہ کہ یہ قرآن میں آیا ہے۔ افسوس ہے بی بی سی پر۔ اللہ تعالیٰ آپ اور ہم سب پر رحم کرے۔ اسلم شیح: مسلمانوں کو اپنا لائف سٹائل بدل کر ان مجرموں کو فتح کا احساس نہیں ہونے دینا چاہیے۔ فہیم، امریکہ: ایک تو وہ تمام خواتین جو حجاب تنگ جینز اور تنگ شرٹس کے ساتھ پہنتی ہیں یا ماڈرن لباس کے ساتھ پہنتی ہیں، ان کو تو حجاب کا ویسے ہی کوئی فائدہ نہیں ہے۔ جہاں تک تعلق ان خواتین کا ہے جو حجاب اسلامی لباس کے ساتھ پہنتی ہیں تو صرف حجاب نہ پہننے سے کام نہیں چلے گا کیونکہ لباس سے پہچانی جائیں گی۔ پھر میرے خیال میں یہ خواتین حجاب ویسے بھی ترک نہیں کریں گی۔ صابر لاہوتی، کوئٹہ: اسلام میں ایک چیز تکیہ ہوتی ہے یعنی اگر کبھی کسی مسلمان کو غیر مسلم سے جان بچانے کے لیے خود کو غیر مسلم ظاہر کرنا پڑے تو کر سکتا ہے۔ اگر لندن میں بھی کسی کو جان کا خطرہ ہو تو صرف اسی نیت سے حجاب اتارا جائے۔ تاہم اسے اپنی عادت نہ بنایا جائے کہ پھر آنے والی نسلیں بھی حجاب چھوڑ دیں گی۔ شاہینہ اعوان، کینیڈا: یہ صورتِ حال تمام مسلمان خواتین کے لیے وقتِ امتحان ہے۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، قرآن نے کہا ہے کہ اگر آپ متقین میں سے ہے تو آپ تمام مشکلات پر قابو پائیں گے اور وہ آپ کو ختم نہیں کرسکیں گے۔ اگر آپ یہ بدل دیں گے تو اپنا رنگ کیسے بدلیں گے، کیا تمام مسلمانوں کو اپنے نام بھی بدل لینا چاہئیں۔  | ایک فتوے نے کیا حال کردیا۔۔۔  پہلے تو لوگ یہ بتائیں کہ انڈیا اور پاکستان میں پچاس فیصد سے زیادہ عورتیں حجاب کا استعمال کیوں نہیں کرتیں؟  التمش، جدہ |
التمش، جدہ: لوگوں کے خیالات جان کر تعجب ہوا اور ہنسی بھی آئی کہ آج ایک حجاب کو ترک کرنے کے فتوے نے لوگوں کو کتنا پریشان کیا ہے۔ پہلے تو لوگ یہ بتائیں کہ انڈیا اور پاکستان میں پچاس فیصد سے زیادہ عورتیں حجاب کا استعمال کیوں نہیں کرتیں؟ لندن سے حجاب کی بات آئی تو ہر جگہ سے عجیب و غریب تصورات آرہے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ مرنے کے قریب پہنچ کر اگر انسان کو کھانے کو کچھ نہ ملے تو انسان کا جسم بھی جائز ہے۔ مولانا عبدالقیوم مغل، پاکستان: اس کا مطلب یہ ہوا کہ کل اگر یہ کہا جائے کہ کپڑے پہننے میں خطرہ ہے تو کپڑے اتار دینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ انعام انصاری، پاکستان: اسلام نے ہر جگہ دو راستے بتائے ہیں۔ ایک رخصت دوسرا عزیمت۔ ڈاکٹر صاحب نے رخصت والا راستہ دکھایا ہے۔ بہرحال بلند درجات تو انہی کے لیے ہیں جو عزیمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ زوہہ کاظمی، چکوال: میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتی کیوں کہ اسلام میں یہ کہاں ہے کہ اسلام میں جہاں آپ کو خطرہ ہو آپ حجاب ہی چھوڑ دیں۔ اسلام کی خاطر قربانی دینا ہمارا فرض ہے۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو پھر ہمیں مسلمان کہلانے کا کوئی حق نہیں۔ عبداللہ ارشد، لکھنئو: میری رائے ہے کہ پردہ ایک شرعی حکم ہے۔ زاہد ملک، دوبئی: اسلام دینِ فطرت ہے، اگر جان کا خطرہ ہو تو حجاب کو چھوڑا جا سکتا ہے مگر حالات کے ٹھیک ہونے پر اسے دوبارہ اختیار کیا جائے جیسے کہ بیماری کی حالت میں بیٹھ یا لیٹ کر نماز پڑھنا۔ محمد جاوید، شارجہ: ڈاکٹر صاحب کے بیان کو غور سے سنیں۔ بی بی سی والے ایک بار پھر ڈاکٹر صاحب کے بیان پر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق یہ حکم نہیں ان کا مشورہ ہے اور اربوں مسلمانوں میں ڈاکٹر صاحب کے مشورے کی کوئی اہمیت نہیں۔ ابھی مسلمان بہنوں کے بھائی زندہ ہیں، اس لیے انہیں حجاب اتارنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ رابعہ خان، راوالپنڈی: اگر زکی بداوی واقعی ایک سچے مسلمان عالم ہوتے تو وہ ہمیشہ لندن کے مسلمانوں کو خوف کے مارے حجاب اتارنے کے مشورے نہ دیتے بلکہ انہیں کفار سے ہمت سے مقابلہ کرنے کا مشورہ دیتے۔  | اپنے ممالک میں خوش آمدید  اگر آپ مغرب میں رہنا چاہتے ہیں تو پھر ان کے قواعدو ضوابط کا بھی احترام کریں۔ جیسے کہ محاورہ ہے کہ روم میں رومنز کی طرح رہنا چاہیے ورنہ اپنے ممالک میں واپسی کا سوچیں جہاں مہنگائی، غربت اور لاقانونیت آپ کی منتظر ہے۔  جی ایم مغل، گلگت |
جی ایم مغل، گلگت: اگر آپ مغرب میں رہنا چاہتے ہیں تو پھر ان کے قواعدو ضوابط کا بھی احترام کریں۔ جیسے کہ محاورہ ہے کہ روم میں رومنز کی طرح رہنا چاہیے ورنہ اپنے ممالک میں واپسی کا سوچیں جہاں مہنگائی، غربت اور لاقانونیت آپ کی منتظر ہے۔فخر عالم، کوہاٹ: ڈاکٹر بداوی کی رائے غلط ہے۔ فرحین پرویز، امریکہ: میں ان لوگوں کی رائے سے بالکل اتفاق ننہیں کرتی جو یہ کہہ رہے ہیں کہ حجاب نہیں کرنا چاہیے۔ اگر آپ نے اسلام کی تاریخ پڑھی ہے تو دیکھیں کہ کتنے لوگوں نے جان کی پرواہ کیے بغیر کتنی مشکلات میں اپنا ایمان نہیں چھوڑا۔ آپ یہ بھی سوچیں کہ کوئی اگر کسی مسلم عورت کو حجاب کی وجہ سے مار ڈالے تو اس کا کیا رتبہ ہوگا؟ شہید کا کیا مقام ہوتا ہے؟ اس سے بڑی خوش نصیبی کیا ہوگی؟ محمد عاطف صدیقی، برطانیہ: میں برطانیہ کے شہر سنڈر لینڈ میں رہتا ہوں، پاکستانی طالبِ علم ہوں اور میری داڑھی بھی ہے۔ پچھلے ہفتہ کچھ گوروں نے مجھ پر بھی حملہ کردیا تھا اور میں نے بڑی مشکل سے اپنی جان بچائی۔ میرا ڈاکٹر بداوی سے یہ سوال ہے کہ کیا جان کے ڈر سے میں اپنی داڑھی صاف کردوں؟ عذرا یاسمین بخاری، لاہور: ایسے نام نہاد اور دینی شعور سے عاری عالم کو امریکہ اور برطانیہ نے جز وقتی ملازم رکھا ہوا ہے تاکہ گاہے بہ گاہے اسلام کا مذاق اڑا کر مسلمانوں کی خودداری اور ان کے اسلامی جذبے کا امتحان لیا جا سکے۔ اشرف دیوان، کراچی: حجاب کبھی کسی بھی بنیاد پر نہیں اتارا جا سکتا۔ اگر فرائض پر عمل پیرا ہونے میں مشکل پیش آرہی ہے تو ہجرت اختیار کریں۔ عائشہ شیخ، سعودی عریبیہ: بوسنیا کی مسلمان عورتوں نے صرف نقاب ہی نہیں سارا لباس ہی کفار جیسا اختیار کیا تھا تو کیا وہ سرب درندوں کے ظلم سے بچ گئیں؟ مسلمان عورت نقاب سے نہیں تو کسی اور شکل میں پہچان لے جائے گی۔ ارسلان، پاکستان: آج مسلمانوں کے لیے حجاب خطرہ بن گیا ہے کل کپڑے بھی بن جائیں گے۔ اس کے متعلق ڈاکٹر صاحب کی کیا رائے ہے؟ شفق چوہدری، راوالپنڈی: حجاب کے بارے میں قرآن کا حکم سورۃِ نور میں واضح ہے۔ حجاب یا پردہ صرف زینت کو چھپانا ہے یعنی جسم کے خدوخال ظاہر نہ کرو اور اس کی تشریح بھی قرآن خود کرتا ہے کہ اپنی چادروں کو چھاتی کے اوپر ڈال لیں تاکہ ہاتھ، پاؤں اور چہرے کے علاوہ جسم کے خدوخال نہ نظر آئیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ حجاب کو اسلام میں کیسے داخل کیا گیا ہے۔ ہم قرآن کی ایک آیت کے مقابلے میں ہزاروں حدیثوں یا روایتوں کو نظرانداز کرسکتے ہیں۔ مسعود احمد، سرگودھا: مجھے تو قابلِ قبول بات لگتی ہے۔ اسلام ایک معتدل راہ اختیار کرنا سکھاتا ہے۔ شازمین درانی، کینیڈا: لوگوں کی آراء پڑھ کر حیرت ہوئی کہ لوگ اسلام کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں۔ اسلام میں انسانی جان کی بہت اہمیت ہے اور ہمارے پیغمبر نے اپنی اور اسلام کے ماننے والوں کی جان بچانے کی خاطر ہجرت اختیار کی۔ اگر جان بچانے کی خاطر حجاب ترک کرنا پڑے تو بالکل کرنا چاہیے۔ مخالفت کرنے والوں پر اگر یہ وقت آئے تو سب سے پہلے اپنے خیالات سے مکرنے والے یہی ہوں گے۔  | اسلام کے قلعوں میں واپسی  جب انگریز ایک متعصب قوم ہے تو ان کے ملک میں رہتے کیوں ہیں؟  حمیرا سبحانی، امریکہ |
حمیرا سبحانی، امریکہ: جب انگریز ایک متعصب قوم ہے تو ان کے ملک میں رہتے کیوں ہیں؟ واپس کیوں نہیں آجاتے اسلام کے نام نہاد قلعوں میں؟ سلمان اختر، برطانیہ: اسلام ایک اعتدال پسند مذہب ہے۔ حجاب کا کہیں تصور نہیں۔ صرف جسم چھپانے کا حکم دیا گیا ہے۔ فہیم بھٹی، امریکہ: مسلمان دوسروں کے لیے عملی نمونہ ہیں۔ اگر ہم نے دوسروں کی تقلید میں اپنی بڑائی کو فراموش کر دیا تو اس دنیا کی رہنمائی کا فریضہ جو مسلمانوں کو دیا گیا ہے وہ ان سے چھن جائے گا۔ بشارت خان، سکاٹ لینڈ: ہر شخص کو جو اس ملک میں رہتا ہے اسےمکمل مذہبی آزادی حاصل ہے بشرطیکہ وہ دوسروں کے لیے نقصان کا باعث نہ بنے۔ عزیزی فاطمہ، ملتان، پاکستان : مجھے کچھ آراء پڑھ کر بہت دکھ ہوا کہ جان کی خاطر حجاب ترک کردینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ میں ان بھائی بہنوں سے کہنا چاہوں گی کہ اسلام کی خاطر ہمارے اسلاف نے بڑی قربانیاں دی ہیں لیکن کبھی کفار کےآگےسر تسلیم خم نہیں کیا۔ قاسم پراچا، پاکستان : میں یہ کہنا چاہوں گا کہ حجاب کا حکم قرآن نے دیا ہے اور کوئی اسے تبدیل نہیں کرسکتا۔ اللہ ان خواتین کی حفاظت خود کرے گا۔ کوئی حکومت یا کوئی اور ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ اقبال مستان، انڈیا: اسلام کے اندر حجاب پہننا ضروری ہے اور ہمارے نبی نے اپنی ازواج کو حجاب پہننے کا حکم دیا ہے۔ سلیم ناصر، منڈی بہاؤالدین، پاکستان : میں ڈاکٹر صاحب کی بات سے متفق ہوں۔ اگر پردہ انسان کی تذلیل کا باعث بنے تو اس کو ترک کرنا بہتر ہے۔ غلام حسین، ٹورانٹو، کینیڈا: اسلام غیر معمولی صورت حال کو سمجھتے ہوئے بڑی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ اور جہاں تک حجاب کا معاملہ ہے تو یہ بھی ضروری نہیں ہے اسے بھی بہ حالت مجبوری ترک کیا جاسکتا ہے۔ ثنا خان، کراچی، پاکستان : بالکل صحیح ہے کہ جان سے بڑھ کر کچھ نہیں اور اس میں حجاب کرنے یا نہ کرنے کا سوال ہی نہیں ہے۔ حالات کو دیکھ کر ہی فیصلے ہوتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی عقلمندی کا فیصلہ ہے اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔ عالمگیر بیگ، لینسکرونا، سویڈن : جان اور عزت سےعزیز کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اگر حجاب نہ پہنے سے کچھ بچت ہو سکتی ہے تو اس میں کوئی بری بات نہیں ہے۔ شریف خان ، پاکستان: میرے خیال میں اگر اسلام کو دیکھا جائے تو حجاب کرنا ہر مسلمان عورت کے لیے لازمی ہے لیکن اپنی جان کی حفاظت کرنا بھی ہر مسلمان عورت پر لازمی ہے۔ اگر کسی عورت کو حجاب پہننے سے کسی ملک میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اس ملک سے نکل جائے۔ شہزاد انجم، امریکہ: قرآن جسم ڈھانپنے کو کہتا ہے نہ کہ حجاب کرنے کو۔ عورت کا پورا جسم لباس میں ڈھکا ہونا ہی کافی ہے۔ محمد کامران، لیسٹر، برطانیہ: یہ کون سا اجتہاد ہے؟ جو کام شریعت نے فرض کر دیا ہے وہ فرض ہی رہے گا۔ اسی طرح عورت کا بال چھپانا فرض ہے۔ عمران، امریکہ: ڈاکٹر ذکی کی رائے مصلحت اور خوف پر مبنی ہے اس لیے یہ قابل اعتراض نہیں۔ اگر مصلحت پر سمجھوتہ ناگزیر ہے تو مان جائیے کہ مغرب میں شخصی آزادی اور تحمل زوال پزیر ہے۔ فیصل خان، برطانیہ: میں ذکی صاحب کے اس خیال سے متفق نہیں ہوں۔ ہمیں حجاب کا استعمال ترک نہیں کرنا چاہیے۔ کرن مرزا، کینیڈا: میرا نہیں خیال کہ یہ ٹھیک ہے۔ مگر اگر حالات ہی جان کے دشمن ہیں تو حجاب کی جگہ سکارف پہن لینا چاہیے۔ نوید احمد سید ، ہانگ کانگ: یہ اسلام کے خلاف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ محفوظ نہیں ہیں تو آپ دوسروں کا مذہب تبدیل کردیں۔ برطانوی حکومت کو ملک میں رہنے والے تمام مذاہب کے لوگوں کی سلامتی کی یقین دہانی کروانی چاہیے۔ ظفر خان، ٹورانٹو: فتوی کے حساب سے اور اسلام کی تعلیمات کے مطابق یہ بات با لکل درست نہیں ہے۔ ناصر علی خان ، میاں والی، پاکستان: ان نام نہاد علماء کی وجہ سے اسلام کی اصل ساخت بہت مشکل ہو گئی ہے۔ اسلام پر عمل پیرا ہونے کے لیے اس سے بھی کہیں زیادہ مشکلات اور تکلیفیں آتی ہیں بس استقامت چاہیے۔ عاشق ساقی، بکھر، پاکستان: اگرلندن میں نوبت یہاں تک آگئی ہے تو ذ کی صاحب کو چاہیے کہ وہ بجائے ایک اسلام کے منافی فتوی دینے کہ وہاں کے مسلمانوں کو اپنے ملک ہجرت کرنے کا فتوی دیں۔ اسلام تو یہ حکم دیتا ہے۔ جمعہ خان، راولپنڈی، پاکستان: اس کا مطلب ہے کہ مسلمان مرد اپنی ڈارھیاں بھی منڈوا دیں کیونکہ حجاب سے زیادہ نمایاں تو یہ ڈارھیاں ہوتی ہیں۔ جاوید اقبال ملک، پاکستان: میں نہایت مغرت کے ساتھ کہوں گا کہ تمام دنیا میں ملاصرف اپنے مفادات کے سودے کرتے ہیں۔ یہ شریعت محمدی کو اپنے مطلب کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ فیاض محمد، پاکستان: انگریز ایک متعصب قوم ہے۔ عیسائیوں کو ساری غلطی اسلام میں ہی نظر آتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ حجاب کبھی بھی خطرے کا باعث نہیں بن سکتا۔ عزیز احمد، شارجہ: جی ہاں، حجاب اتر سکتا ہے اور ڈوپٹہ سے بھی اپنے آپ کو ڈھکا جاسکتا ہے۔ تکلم بیگ، ٹورانٹو، کینیڈا: میرے خیال میں ایسے نازک مسئلے پر رائے دینے سے پہلے ڈاکٹر بداوی کواپنے ہم منصب لوگوں سے مشاورت کی ضرورت تھی تا کہ اختلاف رائے کا اندیشہ نہیں رہے۔ امین اللہ شاہ، پاکستان: ملسمان خواتین کی حجاب پہچان ہے۔ صرف حجاب ترک کرنےسے مسلمان خواتین کی پہچان نہیں مٹ سکتی۔ عرفان گل، لندن، یوکے: میرے خیال میں ڈاکٹر صاحب نے جو کہا ہے کہ وہ بالکل درست ہے۔ جیسا کہ انھوں نے کہا کہ حجاب عورت کے تحفظ کے لیے ہے نہ کہ اسے کسی مصیبت میں ڈالنے کے لیے۔۔ حسن عسکری، پاکستان: خطرے کی حالت میں اگر حجاب اتار سکتے ہیں تو اس قسم کا فتوی بھی ہونا چاہیے کہ امن کے دوران ہرخاتوں حجاب پہنے۔ اگر مغرب میں ہر مسلمان عورت حجاب پہنے تو ان کی طاقت پچاس گنا زیادہ نظر آسکتی ہے۔ عمران، پاکستان: ایک صرف حجاب کی وجہ سے ہی تحفظ میں خطرہ ہے؟ کیا برطانیہ والوں نے حجاب کے بغیر تحفظ کی ضمانت دے دی ہے؟ شیخ محمد یحیی، پاکستان: مغرب میں حجاب مسلمان عورت کی اپنے آپ کو مسلمان کہنے کی ایک سب سے بڑی نشانی ہے۔ حجاب اتاردینے سے ایک مسلم اور ایک غیر مسلم عورت میں فرق کرنا مغرب کی نظر میں ختم ہو جائے گا۔ زبیر احمد فاروقی، کانپور، انڈیا: اسلام ہی ایک ایسا دین ہے جو رہتی دنیا تک اور تمام انسانوں کے لیے آیا ہے۔ اس کے اصول اور احکامات رہتی دنیا تک کے لیے ہیں۔ حجاب اسلام میں ایک ضروری چیز ہے۔ احتیاط کے طور پر کہیں اس کا استعمال نہ کیا جائے تو کوئی بات نہیں، لیکن اس کی آڑ میں اس حکم پر عمل نہ کرنے کا بہانہ نہ بنا لیا جائے۔ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ تشخص کو ظاہر کرنے والے اس لباس کو ضرور پہنا جائے یہ جان کر کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ ایک سانس بھی کم یا زیادہ نہ ہوگی۔ اسحاق ملک، پاکستان: بہت عجیب سوال ہے۔ اسلام میں پردہ تحفظ کی ضمانت ہے تب یہ کہنا کہ ’ذاتی تحفظ کے لیے حجاب اتر سکتا ہے‘ بالکل غلط ہے۔ طاہر چودھری، جاپان: انسان بھوک کی وجہ سے مرنے کے قریب ہو تو اسلام میں خنزیر جائز ہو جاتا ہے، اسی طرح جان کا خطرہ ہو تو حجاب ترک کرنا جائز ہے لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ ان مخصوص دنوں یا گھنٹوں کے لیے۔ رحمت، دبئی: ڈاکٹر بداوی کی رائے بالکل غلط ہے۔ قرآن بالکل اس کی اجازت نہیں دیتا ہے کہ جان کے خوف سے حجاب ترک کر دیا جائے۔ ایک اور بات جو ان کی اس رائے سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ کہ مغرب میں حجاب پہننے ہوئے مسلمان خاتون لندن یا کسی یورپی شہر میں محفوظ نہیں ہے۔ یہ در اصل یورپ کے لیے انتہائی شرم کی بات ہے کہ وہ ایک شریف اور پردہ دار مسلمان عورت کا وجود برداشت نہیں کر سکتے۔ مسلمان ممالک میں تو آج تک کسی یورپی عورت کو خطرہ لاحق نہیں ہوا ہے۔۔۔ فرحان ملک، کراچی، پاکستان: اسلام دشمن عناصر اس قسم کے علماء کو جان بوجھ کر پرموٹ کرتے ہیں۔ پردہ عورت کے تحفظ اور اس کی عزت کی نشانی ہے۔ اس سے عورت محفوظ ہو جاتی ہے۔ حجاب کبھی بھی خطرے کا باعث نہیں بن سکتا، اگر ایسا ہوا تو اللہ کبھی بھی اس کا حکم نہیں دیتا۔ ایسے علماء عورت کو مغربی عورت کی طرح بنانا چاہتے ہیں۔ آصفین علی، کراچی، پاکستان: میرے خیال میں علما دین کو اس معاملے پر واضح بات کرنی چاہیے۔ اگر ایسا قرآن و سنت میں ہے تو بتایا جائے اور اگر نہیں تو اس معاملے پر اجتہاد کیا جائے۔ میری ذاتی رائے یہی ہے کہ اگر ایسا کرنا ممنوع نہیں تو کر لیا جائے۔ |