حجاب پہننے پر نام خارج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس میں تین مزید مسلمان طالبات کے نام حجاب پہننے پر پاپندی کے قانون کی خلاف ورزی کرنے پر سکولوں سے خارج کر دیے گئے ہیں۔ دو طالبات کے نام منگل کو سکول سے خارج کر دیے گئے تھے۔ سکول سے نکالی جانے والی ایک طالبہ نے کہا کہ اس فیصلے نے ان کی زندگی کو تباہ کر دیا ہے۔ ان طالبات کے نام وزارت تعلیم کے اس حکم کے بعد خارج کیے گئے ہیں جس میں سکولوں کی انتظامیہ کو اس قانون کی پاسداری نہ کرنے والے بہتر طالب عملوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی۔ فرانس کے سیکولر (لادینی) تشخص کو برقرار رکھنے کی غرض سے اس قانون کے تحت تمام مذاہب کے واضح نشانات کو تعلیمی اداروں میں پہننے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ لیکن بہت سے مسلمانوں نے اس قانون کے خلاف احتجاج کیا تھا اور اس کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد خاص طور پر مسلمانوں کے عقائد کو نشانہ بنانا ہے۔ بدھ کو مشرقی فرانس کے علاقے مل ہاؤس میں مینلی اور توبا نامی طالبات کے سکول سے خارج کر دیے گئے۔ نارمنڈی میں بھی ایک لڑکی کو سکول سے نکال دیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||