’سکارف پر پابندی اٹھاؤ، جان بچاؤ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں اغوا کیے جانے والے دو فرانسیسی صحافیوں نے اپنی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی جان بچانے کے لیے فرانس میں مسلمان لڑکیوں پر سکول میں حجاب پہننے کی پابندی ختم کر دے۔ عراق میں ایک مسلح گروہ نے دو فرانسیسی صحافیوں کو اغوا کر رکھا ہے ۔ دونوں صحافیوں الجزیرہ ٹیلویژن پر نمودار ہوئے اور اپنی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اغواکارروں کا مطالبہ مان لے ۔ عراقی اغوا کارروں نے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر فرانسیسی حکومت نے مسلمان لڑکیوں کو سکول میں حجاب پہننے پر پابندی نہ اٹھائی تو وہ ان فرانسیسی باشندوں کو ہلاک کر دیں گے۔ تاہم فرانسیسی حکومت نے حجاب پر پابندی کے مسلئے پر کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا۔ فرانس کے وزیر خارجہ اپنے مشرق وسطی کے دورے میں اس وقت اردن میں ہیں ۔ فرانس کے وزیر خارجہ یرغمال صحافیوں کو آزاد کرانے کے کوشش کر رہے ہیں۔ فرانس کے صدر یاک شیراک نے مبہم انداز میں عراقی اغوا کارروں کو فرانس کی طرف سے امریکی حملے کی مخالفت کی یاد دہانی کرائی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ فرانس میں بسنے والے پانچ ملین مسلمانوں کو تمام مذہبی آزادیاں حاصل ہیں۔ فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے اغوا کارروں سے اپیل کی ہے کہ فرانس کے صحافیوں کو چھوڑ دیں۔ یاسر عرفات کے نمائندے نے اغواکارروں کے نام ایک پیغام میں کہا کہ وہ صحافیوں کو آزاد کر دیں اور ان کو پسشہ ورانہ سرگرمیوں پر قدغن نہ لگائے۔ یرغمال صحافی، جارج میلبرنو اور کریسچین چیزناو نے الجزیرہ ٹیلی ویژن پر کہا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ عراقی اغواکارروں نے مطالبہ منظور ہونے کا مہلت میں چوبیس گھنٹوں کا اضافہ کر دیا ہے۔ فرانس میں کام کرنے والی ’فرنچ کونسل آف مسلم فیتھ‘ کے نمائندے دلیل بوبکر نے کہا ہے کہ فرانسیسی صحافیوں کا اغوا بلیک میل کرنے کی مکروہ سازش ہے اور فرانس میں بسنے والے مسلمان اس کی حمایت نہیں کرتے۔ دلیل بوبکر نے کہا کہ وہ صحافیوں کے اغوا پر مایوس ہوئے ہیں لیکن وہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ فرانسییسی مسلمان اس کارروائی کی حمایت نہیں کرتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||