پگڑی کا معاملہ عدالت میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس میں تین سکھ طلبہ نے واضح مذہبی نشانات پہننے کی وجہ سے سکول سے نکالے جانے پر عدالت سے رجوع کیا ہے۔ سکھ مذہب میں بال کٹوانا جائز نہیں ہے لہذا بہت سے سکھ اپنے لمبے بالوں کو ایک مخصوص انداز میں باندھ کر پگڑی بنالیتے ہیں۔ مشرقی فرانس میں مل ہاؤس میں واقع ایک سکول سے دو مسلمان طالبات کو حجاب پہننے پر نکال دیا گیا تھا۔ سکھ طلبہ کو سکول سے نکالنے کا فیصلہ سکول کی ڈسپلنری کمیٹی میں کیا گیا۔ فرانس میں گزشتہ ماہ ریاست کے لادینی تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے تمام واضح مذہبی نشانات زیب تن کرنے پر تعلیمی اداروں میں پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ فرانس کے وزیر تعلیم کے مطابق 70 کے قریب طلبہ جن میں اکثریت مسلمان طالبات کی ہے ابھی تک اس پابندی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ تعلیم کے وزیر فرانکوس فیلون نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ سکھ طلبہ قانون کا احترام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سکھوں کی تعداد بہت کم ہے لیکن قانون کا اطلاق سب پر ہوتا ہے۔ شمالی فرانس میں تعلیمی حکام نے سیکنڈری سکول کے تین طلبہ کو کلاسوں میں جانے سے روک دیا تھا۔ یہ سکھ طلبہ اپنی پگڑیاں چھوٹی کرنے پر تیار ہو گئے تھے لیکن اس پر بھی سکول کی انتظامیہ نے انہیں کلاسوں میں جانے نہیں دیا۔ اس مقدمہ پر عدالت بدھ کو اپنا فیصلہ سنانے والی ہے۔ اس پابندی کا اطلاق مسلمان خواتین کے ہیڈ اسکارف، یہودیوں کے اسکل کیپ اور عیسائیوں کی صلیب پر بھی ہوتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||