اسرائیل کی تنقید پر ایڈیٹر کی چُھٹی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کے ایک سرکاری ریڈیو سٹیشن کے شعبہ خبر کے سربراہ کو صرف اس وجہ سے اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے کیونکہ انہوں نے اسرائیل پر تنقید کی تھی۔ ایلین مینارگ ریڈیو فرانس انٹرنیشنل کے سربراہ تھے اور انہوں نے اپنی ایک نئی کتاب کی تشہیر کرتے ہوئے اسرائیل کو ایک نسل پرست ملک قرار دیا تھا۔ ان کے اس بیان پر ملک کی وزارت خارجہ نے شدید رد عمل کا اظہار کیا تو صحافیوں کی تنظیموں نے بھی اس کی مذمت کی۔ مسٹر مینارگ نے حال ہی میں شیرون کی دیوار نامی ایک کتاب لکھی ہے۔ یہ کتاب غرب اردن میں اسرائیل کی جانب سے تیار کی جانے والی دیوار کے بارے میں ہے۔ مسٹر مینارگ نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں کتاب پر ہونے والی بحث میں شرکت کرتے ہوئے کہا تھا: ’ آپ کہتے ہیں اسرائیل ایک جمہوری ملک ہے۔ مجھے اس میں اس بات کا اضافہ کر لینے دیجئے کہ یہ ایک نسل پرست ریاست بھی ہے۔ اسرائیل کی سرزمین پر واپسی کا قانون صرف یہودیوں پر لاگو ہوتا ہے۔ صیہونیت کی بنیاد کیا ہے؟ یہی ناں کہ یہودیوں کے لیے ریاست قائم کی جائے۔‘ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کا بیان ناقابل قبول ہے۔ تاہم اپنے عہدے سے برطرف کئے جانے کے باوجود مسٹر مینارگ اب بھی اپنے بیان کا دفاع کرتے ہیں۔ ’اسرائیل بھی دیگر ملکوں کی طرح ایک ملک ہے اور اس پر بھی دوسرے ملکوں کی طرح تنقید کی جانی چاہیے۔ میرے نزدیک کوئی استثنا نہیں ہے۔ کوئی ملک بھی بین الاقوامی قوانین سے بالاتر نہیں۔ مسٹر مینارگ مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر مانے جاتے ہیں اور انہیں جولائی میں اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔ ریڈیو فرانس انٹرنیشنل نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ ان کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||