یہودی فرانس چھوڑ دیں: شیرون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شیرون نے فرانس میں رہنے والے یہودی لوگوں سے کہا ہے کہ فرانس میں یہودی مخالف تعصبانہ کارروائیوں سے بچنے کے لئے وہ اسرائیل چلے آئیں۔ حالیہ مہینوں میں فرانس میں یہودی مخالف تعصبانہ حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ یروشلم میں امیریکن جیوِش ایسوسی ایشن کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے شیرون نے کہا کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں رہنے والے یہودی جتنا جلد ممکن ہو اسرائیل میں آکر بس جائیں۔ لیکن شیرون نے اس بات پر زور دیا کہ فرانس میں یہودی لوگوں کے خلاف تعصبانہ حملوں میں تیزی کی وجہ سے فرانسیسی یہودیوں کے لئے اسرائیل کے لئے کوچ کرنا ’ضروری‘ ہوگیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ فرانس میں مسلمانوں کی تعداد بڑی ہوگئی ہے۔ فرانس کے یہودی رہنماؤں نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ وزیراعظم شیرون کا یہ بیان ’مددگار‘ نہیں ہے۔ انٹرنیشنل لیگ اگنسٹ ریسزم اینڈ اینٹی سیمیٹزم کے رہنما پیٹرک گوبخت نے کہا کہ ایسے بیانات سے پرامن اور سازگار ماحول نہیں پیدا ہوتے جس کی ’ہمیں ضرورت‘ ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ’میرے خیال میں شیرون نے خاموشی اختیار کی ہوتی تو بہتر ہوتا۔‘ ایک اور فرانسیسی یہودی رہنما تھیو کلین نے کہا کہ ’ہمارے لئے فیصلہ کرنا ان کا کام نہیں ہے۔‘ حکومتِ فرانس کے مطابق اس سال جن تک پانچ سو دس یہودی مخالف حملوں کے واقعات پیش آئے جبکہ گزشتہ پورے سال میں اس طرح کے پانچ سو ترانوے واقعات ہوئے تھے۔ حالیہ برسوں میں فرانس میں یہودی عبادت گاہوں اور اسکولوں پر بم حملے بھی ہوئے ہیں۔ پیرس میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ وزیراعظم شیرون نے فرانسیس یہودیوں کی ضروریات کے بارے میں بیان دی ہے۔ فرانس کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے وزیراعظم شیرون سے ان کے اس بیان کی وضاحت طلب کی ہے جس میں انہوں نے فرانس میں یہودی لوگوں کے خلاف ’کھلم کھلا یہودی مخالف تعصب‘ کا الزام لگایا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||