عورتوں کی سزا کےحامی امام گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کی وزارتِ داخلہ نے عورتوں کو بطور سزا مارنے کے حامی امام مسجد کو معطل کر کے گرفتار کر لیا ہے۔ الجیریا میں پیدا ہونے والے عبدالقادر بوزیانی جو مشرقی لیاؤن کے پیش امام ہیں کو منگل کے روز گرفتار کیا گیا۔ عبدالقادر بوزیانی نے ایک مقامی رسالے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’قرآن بیویوں کو مارنے کی اجازت دیتا ہے‘ اور امید ظاہر کی تھی کہ ’ساری دنیا اسلام قبول کر لے گی۔‘ فرانس کی وزارتِ داخلہ نے ان خیالات کو بنیادی حقوق بالخصوص عورتوں کے حقوق کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ بنیادی حقوق خصوصاً عورتوں کے حقوق کے خلاف ایسی کوئی بات برداشت نہیں کی جائے گی۔‘ عبدالقادر بوزیانی نے کہا تھا کہ وہ کچھ حالات میں خاص طور پر جب بیوی شوہر کو دھوکہ دے اسےمارنے کی حمایت کرتے ہیں اور دعویٰ کیا تھا کہ قرآن اس کی اجازت دیتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انھوں نے فرانس کو اسلامی جمہوریہ بنانے کی بھی بات کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ صرف فرانس ہی نہیں بلکہ پوری دنیا مسلمان ہو جائے۔‘ فرانس کے وزیرِِ داخلہ نے کہا کہ ’ان کی معطلی کے احکامات انٹرویو شائع ہونے سے پہلے ہی جاری کر دئیے گئے تھے اور اب اشاعت کے بعد ثابت ہوا کہ فیصلہ درست تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||