قدرتی آفات سے بچاؤ کی مہم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کےادارے یونیسکو نے قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیئے ایک بین الاقوامی مہم کا آغاز کیا ہے جس میں بچوں کو سکول میں قدرتی آفات کے بارے میں تعلیم اور سکولوں کی عمارات کو محفوظ بنانے پر زور دیا جائے گا۔ جینیوا سے ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ قدرتی آفات کی صورت میں بچے سب سے زیادہ غیر محفوظ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں آٹھ اکتوبر 2005 کو آنے والے زلزلے میں زلزلے میں سکول جانے والے کے سولہ ہزار بچے ہلاک ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ کی اِس مہم میں سکولوں کو مضبوط بنایا جائے گا تاکہ وہ قدرتی خطرات سہہ سکیں۔ یہ سکول ہی ہیں جہاں بچے قدرتی آفات میں اپنے آپ کو بچانے کے طریقے بھی سیکھتے ہیں۔ اس کی مثال دس سالہ برطانوی لڑکی ٹلی سمتھ ہے جس نے سونامی کے بارے میں چھٹیوں پر تھائی لینڈ جانے سے کچھ ہی پہلے اپنے سکول میں پڑھا تھا۔ جب اس نے سمندر کو پیچھے ہٹتے دیکھا تو اُس نے لوگوں کو ساحل سے دور ہوجانے کے لیئے خبردار کردیا۔ اقوام متحدہ کا کہنا کے قدرتی آفات کے بارے میں تعلیم کو نصاب کا حصہ بنانا ہوگا۔ زلزلے یا سیلاب کے علاقے میں رہنے والے بچوں کو اِن آفات سے پہلے آنے والی نشانیوں کی پہچان ہونی چاہیئے تاکہ وہ بروقت اقدامات کرکے اپنی جان بچاسکیں۔ بچوں کو معلوم ہونا چاہیئے کہ جنگلوں کی کٹائی سے لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرتے ہیں اور یہ کہ گھر بنانے کے لیئے محفوظ مقامات کا انتخاب کیسے کیا جائے۔ اقوام متحدہ کو یقین ہے کہ یہ آسان سبق بچوں کو آگاہ اور مضبوط بناتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ مستقبل میں کوئی قدرتی آفت انسانی المیہ میں تبدیل نہ ہو۔ |
اسی بارے میں سونامی: مرنے والوں کی یاد میں تقریبات 26 December, 2005 | آس پاس سونامی اور سیاست پر اثرات23 December, 2005 | آس پاس جاپان میں زلزلےکے بعد سونامی الرٹ16 August, 2005 | آس پاس سونامی وارننگ سسٹم پر اتفاق01 July, 2005 | آس پاس سونامی:امدادی جہاز یرغمال30 June, 2005 | آس پاس سونامی امداد، صرف امیروں کیلیے25 June, 2005 | آس پاس بحرہ ہند میں زلزلہ، سونامی کا خطرہ کم28 March, 2005 | آس پاس سونامی سے عورتیں زیادہ متاثر26 March, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||