اکتوبر -- سیاسی آفات کا مہینہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سینتالیس سال قبل اکتوبر کی سات تاریخ کو پاکستان میں پہلی بار فوج نے ایوان اقتدار پر حملہ کر کے ملک کی باگ ڈور خود اپنے ہاتھ میں لے لی تھی- جمہوریت پر یہ ایک کاری ضرب تھی، جس کی بنیادیں پڑے صرف دس برس ہی ہوئے تھے۔ بلا شبہہ یہ پاکستان کی سیاہ بختی تھی کہ وہ دنیا میں پچھلی صدی کا واحد ملک تھا جو خالصتا جمہوریت کے بل پر معرض وجود میں آیا تھا جب سن چھیالیس کےعام انتخابات میں برصغیر کے مسلمانوں کی اکثریت نے اپنے علیحدہ وطن کے حق میں رائے دی تھی اور اسی ملک کے عوام اوائلی دور ہی میں یک لخت جمہوریت سے محروم کر دیے گئے۔ اس کے بعد عوام کی بے بسی اور بےکسی نے فوجی طالع آزماؤں کے لیے اقتدار پر قبضہ کےایک لاامتناہی سلسلہ کے دروازے کھول دیے۔ سات اکتوبر سن اٹھاون کے اس ’انقلاب‘ کے پس منظر، محرکات اور مضمرات پر ہم بعد میں قدرے تفصیل سے نظر ڈالیں گے لیکن پہلے ذکر پاکستان میں اکتوبر کی سیاسی آفات کا۔ یہ عجیب و غریب حقیقت ہے کہ پاکستان کی سیاسی تقدیر میں اکتوبر کا مہینہ انقلابات، اٹھا پٹخ، اتھل پتھل اور ایسی تبدیلیوں سے عبارت رہا ہے کہ جس کے اثرات دور رس اور ہمہ گیر رہے ہیں اور تین نسلیں گزر جانے کے بعد بھی ملک ان کی گرفت میں ہے۔ اکتوبر کی پہلی ضرب پہلے وزیر اعظم کا قتل پاکستان کے سیاسی افق پر مہیب سائے تو اسی وقت سے منڈلانے شروع ہو گئے تھے جب اس سے ایک سال قبل مارچ سن انیس سو تریپن میں گورنر جنرل غلام محمد نے پارلیمنٹ میں بجٹ کی منظوری اور اعتماد کے ووٹ کے فوراً بعد وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو اچانک برطرف کر دیا تھا اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرا کو بلا کر وزارت اعظمی پر فائز کر دیا تھا۔ لوگوں کو یہ جاننے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ غلام محمد نے یہ اقدام کس کی شہہ پر اور کس کے بل پر کیا تھا۔ محمد علی بوگرا امریکہ سے بلائے گئے تھے اور نہایت امریکی نواز تھے۔ انداز بھی ان کی سیاست اور عوامی رابطہ کا امریکیوں سے ملتا جلتا تھا- پھر سب سے اہم بات یہ تھی کہ محمد علی بوگرا کی کابینہ میں پہلی بار مسلح افواج کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان کو وزیر دفاع مقرر کیا گیا جو وزارت دفاع کے ساتھ مسلح افواج کی سربراہی کے عہدہ پر بھی برقرار رہے- بلاشبہہ یہ پہلا دروازہ تھا جو پاکستان میں اقتدار کے ایوان میں فوج کے لئے کھلا تھا- اکتوبر سن چون میں دستور ساز اسمبلی کی برطرفی کے سنگین بحران نے ملک میں نہ صرف اقتدار پر فوج کے قبضہ اور تسلط کی راہ ہموار کی، وہاں عدلیہ کو بھی ہلا کر رکھ دیا اور اسی زمانہ سے عدلیہ کی معتبری پر ایسا داغ لگا ہے کہ اکیاون برس گذرنے کے بعد بھی یہ داغ نہیں مٹ سکا ہے- گو اس دوران سن انیس سو چھپن میں ملک کا پہلا آئین مرتب اور منظور ہوا لیکن یہ آئین ملک کو سیاسی استحکام عطا کرنے میں اس بناء پر یکسر ناکام رہا کہ اس کی تمام تر اساس غیر جمہوری تھی- اس آئین کے ذریعہ ایک طرف جبرا ملک کی سب سے بڑی آبادی والے صوبہ مشرقی پاکستان کے عوام پر ’پیریٹی‘ (مساوی نمائندگی) تھوپی گئی اور اسے اکثریت کے تمام حقوق اور اسحقاقات سے محروم کر دیا گیا- دوسری طرف مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں کو زبردستی ایک یونٹ میں ضم کر دیا گیا- بلاشبہہ سن چھپن کے آئین نے عملی طور پر ملک کو دو حصوں میں بانٹ دیا اور باہمی معرکہ آرائی کی آگ کو ایسی ہوا دی کہ چودہ سال بعد اسی بنیاد پر ملک دو لخت ہوگیا۔ فوج جو سن چون سے پردہ کے پیچھے تھی سات اکتوبر سن انیس سو اٹھاون میں سارے پردے چاک کر کے کھلم کھلا ملک کے اقتدار پر قابض ہو گئی- سات اکتوبر سن اٹھاون کو فوج نے اچانک کسی ایک واقعہ، حادثہ یا کسی فیصلہ کے رد عمل میں اقتدار پر قبضہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ اقدام سیاست دانوں کے خلاف بیوروکریسی اور فوج کے گٹھ جوڑ اور جمہوریت کے خلاف ایک منظم سازش کا نتیجہ تھا اور ان دو قوتوں نے اس اقدام کے لئے حالات سازگار بنانے کے لئے ایک عرصہ سے حکمت عملی کے تحت جتن کیے تھے- سیاست دانوں پر بیوروکریسی غالب یہ بات بہت اہم ہے کہ جنرل ایوب خان جو غلام محمد کے گورنر جنرل بننے کے بعد مسلح افواج کے کمانڈر انچیف مقرر ہوئے تھے بدستور اس عہدہ پر فائز تھے اور جون سن اٹھاون میں ان کے عہدہ کی معیاد میں تیسری بار توسیع کی گئی تھی- مجوزہ عام انتخابات کی بیخ کنی مشرقی پاکستان کی اسمبلی کے ایوان میں اسپیکر کا قتل، ادھر مغربی پاکستان کے وزیراعلی ڈاکٹر خان صاحب کی ہلاکت، سرحد میں نیشنل عوامی پارٹی کے قاید خان عبدالغفار خان کی طرف سے پختونستان کی تحریک کا آغاز اور بلوچستان میں خان قلات کی بغاوت اور اس کو کچلنے کے لئے فوج کی کارروائی، یہ سب حالات اس انداز سے پیش کیے جارہے تھے کہ جیسے صورت حال سیاست دانوں کے ہاتھ سے نکلتی جارہی ہے اور صرف فوج ہی ملک کو اس افراتفری سے نجات دلاسکتی ہے- امریکی رول ویسے بھی اس دور میں امریکہ، ویت نام سے لے کر یونان تک فوجی آمروں پر فریفتہ تھا اور انہی کو شہہ دیتا تھا اور انہی پر تکیہ کرتا تھا- اس اعتبار سے پاکستان میں اقتدار پر فوج کا تسلط امریکہ کی عمومی حکمت عملی میں تقویت کا باعث تھا- سات اکتوبر سن اٹھاون کو گو بظاہر صدر اسکندر مرزا نے آئین منسوخ کر کے تمام سیاسی جماعتوں کو کالعدم قرارد دیتے ہوئے ملک میں مارشل لاء نافذ کیا تھا لیکن دراصل فوج ہی اسکے پس پشت تھی اور آخر کار ستائیس اکتوبر کو صدر اسکندر مرزا کو برطرف کر کے اقتدار مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لے لیا- اس کے ایک سال بعد ستائیس اکتوبر ہی کو ایوب خان نے ملک میں پارلیمانی نظام کی جگہ بنیادی جمہوریتوں کا نظام نافذ کیا اور اسی کی بنیاد پر سن باسٹھ میں نیا آئین ملک پر تھوپا اور اسی کے بل پر وہ صدر منتخب ہوگئے- ترقی کی دہائی یا تباہی کی دہائی یہی نہیں جنرل ایوب نے اگلے فوجی طالع آزماؤں کو ایسی راہ دکھائی کہ جب سے اب تک تین فوجی ملک کے اقتدار پر قبضہ کر چکے ہیں- پچھلی بار بھی ایک جنرل نے اکتوبر ہی کے مہینہ میں ملک کے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ یہ جنرل پرویز مشرف ہیں جنہوں نے سن انیس سو ننانوے کو ایک منتخب حکومت برطرف کی تھی- یہ بھی جنرل ایوب خان کی طرح بنیادی جمہوریتوں سے ملتے جلتے نظام کی بنیاد پر ملک میں نیا سیاسی نظام وضع کرنے کے لئے کوشاں ہیں اور انہیں بھی جنرل ایوب خان کی طرح امریکہ کی پشت پناہی اور مکمل حمایت حاصل ہے- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||