BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 October, 2005, 01:52 GMT 06:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اکتوبر -- سیاسی آفات کا مہینہ

پاکستان جو جمہوریت کے نام پر وجود میں آیا تھا فوج کے کنٹرول میں چلا گیا
پاکستان جو جمہوریت کے نام پر وجود میں آیا تھا فوج کے کنٹرول میں چلا گیا
سینتالیس سال قبل اکتوبر کی سات تاریخ کو پاکستان میں پہلی بار فوج نے ایوان اقتدار پر حملہ کر کے ملک کی باگ ڈور خود اپنے ہاتھ میں لے لی تھی- جمہوریت پر یہ ایک کاری ضرب تھی، جس کی بنیادیں پڑے صرف دس برس ہی ہوئے تھے۔

بلا شبہہ یہ پاکستان کی سیاہ بختی تھی کہ وہ دنیا میں پچھلی صدی کا واحد ملک تھا جو خالصتا جمہوریت کے بل پر معرض وجود میں آیا تھا جب سن چھیالیس کےعام انتخابات میں برصغیر کے مسلمانوں کی اکثریت نے اپنے علیحدہ وطن کے حق میں رائے دی تھی اور اسی ملک کے عوام اوائلی دور ہی میں یک لخت جمہوریت سے محروم کر دیے گئے۔ اس کے بعد عوام کی بے بسی اور بےکسی نے فوجی طالع آزماؤں کے لیے اقتدار پر قبضہ کےایک لاامتناہی سلسلہ کے دروازے کھول دیے۔

سات اکتوبر سن اٹھاون کے اس ’انقلاب‘ کے پس منظر، محرکات اور مضمرات پر ہم بعد میں قدرے تفصیل سے نظر ڈالیں گے لیکن پہلے ذکر پاکستان میں اکتوبر کی سیاسی آفات کا۔

یہ عجیب و غریب حقیقت ہے کہ پاکستان کی سیاسی تقدیر میں اکتوبر کا مہینہ انقلابات، اٹھا پٹخ، اتھل پتھل اور ایسی تبدیلیوں سے عبارت رہا ہے کہ جس کے اثرات دور رس اور ہمہ گیر رہے ہیں اور تین نسلیں گزر جانے کے بعد بھی ملک ان کی گرفت میں ہے۔

اکتوبر کی پہلی ضرب
قیام پاکستان کی شروعات ہی سے لیں تو اکتوبر سن سینتالیس میں کشمیر پر
’قبائیلیوں‘ کی چڑھائی اور اس کے نتیجہ میں ریاست کے مہاراجہ کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کے پروانے پر دستخط اور پھر اس کے تحت ستائیس اکتوبر کو ہندوستانی فوج کی کشمیر میں آمد نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے برصغیر کی تقدیر پرایسی خون آشام مہر ثبت کردی کہ اس علاقہ میں جنگوں، فوجی معرکہ آرائیوں، خونریز کشیدگیوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوگیا جو ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ اسی سلسلے نے برصغیر میں جوہری اسلحہ کے حصول کے جنون کو ہوا دی-

پہلے وزیر اعظم کا قتل
پاکستان کو بنے ابھی چار سال بھی نہیں ہوئے تھے کہ اس کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان اسی اکتوبر کے مہینے میں راولپنڈی کے ایک جلسہ عام میں قتل کر دیے گئے۔ چون سال گزر جانے کے بعد بھی یہ راز نہیں کھل سکا ہے کہ کون اس قتل کی سازش کے پیچھے تھا۔ وہ خود اپنے ناراض ساتھیوں کی عداوت کا نشانہ بنے یا کوئی غیر ملکی طاقت انہیں راہ سے ہٹانا چاہتی تھی۔ ملک میں بعد کی سیاسی تبدیلیوں اور حالات کے دھارے کے رخ سے بھی یہ عقدہ حل نہیں ہوا ہے۔ چوبیس اکتوبر سن انیس سو چون کو ملک میں جمہوریت پر پہلا وار اس وقت ہوا جب گورنر جنرل غلام محمد نے فوج کے بل پر دستور ساز اسمبلی توڑ دی۔

 یہ پاکستان کی سیاہ بختی تھی کہ وہ دنیا میں پچھلی صدی کا واحد ملک تھا جو خالصتًا جمہوریت کے بل پر وجود میں آیا تھا جب سن چھیالیس کےعام انتخابات میں برصغیر کے مسلمانوں کی اکثریت نے اپنے علیحدہ وطن کے حق میں رائے دی تھی اور اسی ملک کے عوام اوائلی دور ہی میں یک لخت جمہوریت سے محروم کر دیے گئے۔

پاکستان کے سیاسی افق پر مہیب سائے تو اسی وقت سے منڈلانے شروع ہو گئے تھے جب اس سے ایک سال قبل مارچ سن انیس سو تریپن میں گورنر جنرل غلام محمد نے پارلیمنٹ میں بجٹ کی منظوری اور اعتماد کے ووٹ کے فوراً بعد وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو اچانک برطرف کر دیا تھا اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرا کو بلا کر وزارت اعظمی پر فائز کر دیا تھا۔ لوگوں کو یہ جاننے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ غلام محمد نے یہ اقدام کس کی شہہ پر اور کس کے بل پر کیا تھا۔ محمد علی بوگرا امریکہ سے بلائے گئے تھے اور نہایت امریکی نواز تھے۔ انداز بھی ان کی سیاست اور عوامی رابطہ کا امریکیوں سے ملتا جلتا تھا- پھر سب سے اہم بات یہ تھی کہ محمد علی بوگرا کی کابینہ میں پہلی بار مسلح افواج کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان کو وزیر دفاع مقرر کیا گیا جو وزارت دفاع کے ساتھ مسلح افواج کی سربراہی کے عہدہ پر بھی برقرار رہے- بلاشبہہ یہ پہلا دروازہ تھا جو پاکستان میں اقتدار کے ایوان میں فوج کے لئے کھلا تھا-

اکتوبر سن چون میں دستور ساز اسمبلی کی برطرفی کے سنگین بحران نے ملک میں نہ صرف اقتدار پر فوج کے قبضہ اور تسلط کی راہ ہموار کی، وہاں عدلیہ کو بھی ہلا کر رکھ دیا اور اسی زمانہ سے عدلیہ کی معتبری پر ایسا داغ لگا ہے کہ اکیاون برس گذرنے کے بعد بھی یہ داغ نہیں مٹ سکا ہے-

گو اس دوران سن انیس سو چھپن میں ملک کا پہلا آئین مرتب اور منظور ہوا لیکن یہ آئین ملک کو سیاسی استحکام عطا کرنے میں اس بناء پر یکسر ناکام رہا کہ اس کی تمام تر اساس غیر جمہوری تھی- اس آئین کے ذریعہ ایک طرف جبرا ملک کی سب سے بڑی آبادی والے صوبہ مشرقی پاکستان کے عوام پر ’پیریٹی‘ (مساوی نمائندگی) تھوپی گئی اور اسے اکثریت کے تمام حقوق اور اسحقاقات سے محروم کر دیا گیا- دوسری طرف مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں کو زبردستی ایک یونٹ میں ضم کر دیا گیا-

بلاشبہہ سن چھپن کے آئین نے عملی طور پر ملک کو دو حصوں میں بانٹ دیا اور باہمی معرکہ آرائی کی آگ کو ایسی ہوا دی کہ چودہ سال بعد اسی بنیاد پر ملک دو لخت ہوگیا۔

فوج جو سن چون سے پردہ کے پیچھے تھی سات اکتوبر سن انیس سو اٹھاون میں سارے پردے چاک کر کے کھلم کھلا ملک کے اقتدار پر قابض ہو گئی-

سات اکتوبر سن اٹھاون کو فوج نے اچانک کسی ایک واقعہ، حادثہ یا کسی فیصلہ کے رد عمل میں اقتدار پر قبضہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ اقدام سیاست دانوں کے خلاف بیوروکریسی اور فوج کے گٹھ جوڑ اور جمہوریت کے خلاف ایک منظم سازش کا نتیجہ تھا اور ان دو قوتوں نے اس اقدام کے لئے حالات سازگار بنانے کے لئے ایک عرصہ سے حکمت عملی کے تحت جتن کیے تھے-

سیاست دانوں پر بیوروکریسی غالب
سن اکیاون میں پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے قتل کے بعد سے جب سے غلام محمد گورنر جنرل بنے تھے بیوروکریسی سیاست دانوں پر غالب آگئی تھی۔ انہوں نے مطلق العنانوں کی طرح حکومت کی اور ان ہی کے زمانہ میں ایک بیوروکریٹ، چوہدری محمد علی جو حکومت کے سیکریٹری جنرل تھے، وزیر اعظم بنے اور سب سے طاقتور شخص وزیر داخلہ جنرل اسکندر مرزا تھے جو بیوروکریسی اور فوج کے درمیان رابط کار تھے کیونکہ وہ ایک عرصہ تک وزارت دفاع کے سیکریٹری رہ چکے تھے- پھر سن انیس سو پچپن میں جنرل اسکندر مرزا ہی نے غلام محمد کی سبکدوشی کے بعد گورنر جنرل کا عہدہ سنبھالا اور سن چھپن میں آئین کی منظوری کے بعد وہ ملک کے پہلے صدر مقرر ہوئے۔

یہ بات بہت اہم ہے کہ جنرل ایوب خان جو غلام محمد کے گورنر جنرل بننے کے بعد مسلح افواج کے کمانڈر انچیف مقرر ہوئے تھے بدستور اس عہدہ پر فائز تھے اور جون سن اٹھاون میں ان کے عہدہ کی معیاد میں تیسری بار توسیع کی گئی تھی-

مجوزہ عام انتخابات کی بیخ کنی
ملک میں اکتوبر سن اٹھاوں میں پہلے عام انتخابات ہونے والے تھے اور دراصل ان انتخابات کے نتیجہ میں ملک کی حکمرانی پر سیاست دانوں کی طاقت کے ابھرنے کے خطرہ کے پیش نظر بیوروکریسی اور فوج کے گٹھ جوڑ نے ملک میں اپنے مفادات کے تحفظ اور اپنے مقاصد کی خاطر سیاسی افراتفری کو ہوا دی۔ صدر اسکندر مرزا نے تین سال کے اندر اندر یکے بعد دیگرے چار وزراء اعظم، چوہدری محمد علی، حسین شہید سہروردی، چندریگر اور ملک فیروز خان نون کو برطرف کیا جس کی وجہ سے ملک میں سیاسی غیر یقینی بڑھ گئی-

مشرقی پاکستان کی اسمبلی کے ایوان میں اسپیکر کا قتل، ادھر مغربی پاکستان کے وزیراعلی ڈاکٹر خان صاحب کی ہلاکت، سرحد میں نیشنل عوامی پارٹی کے قاید خان عبدالغفار خان کی طرف سے پختونستان کی تحریک کا آغاز اور بلوچستان میں خان قلات کی بغاوت اور اس کو کچلنے کے لئے فوج کی کارروائی، یہ سب حالات اس انداز سے پیش کیے جارہے تھے کہ جیسے صورت حال سیاست دانوں کے ہاتھ سے نکلتی جارہی ہے اور صرف فوج ہی ملک کو اس افراتفری سے نجات دلاسکتی ہے-

امریکی رول
اکتوبر سن اٹھاون میں اقتدار پر فوج کے قبضہ کے پس پشت امریکی حکمت عملی کا بھی بڑا دخل تھا اور اس کی آشیر باد حاصل تھی- پاکستان سن چون میں سینٹو اور سیاٹو کے فوجی معاہدوں میں شامل ہو کر امریکہ کا حلیف بن چکا تھا- امریکا کو سرد جنگ میں اپنی حکمت عملی کے لئے اس علاقہ میں ایک طاقتور فوج والے قابل اعتبار ملک کی ضرورت تھی اور اسے پاکستان سے بہتر کوئی اور حلیف نہیں مل سکتا تھا-

ویسے بھی اس دور میں امریکہ، ویت نام سے لے کر یونان تک فوجی آمروں پر فریفتہ تھا اور انہی کو شہہ دیتا تھا اور انہی پر تکیہ کرتا تھا- اس اعتبار سے پاکستان میں اقتدار پر فوج کا تسلط امریکہ کی عمومی حکمت عملی میں تقویت کا باعث تھا-

سات اکتوبر سن اٹھاون کو گو بظاہر صدر اسکندر مرزا نے آئین منسوخ کر کے تمام سیاسی جماعتوں کو کالعدم قرارد دیتے ہوئے ملک میں مارشل لاء نافذ کیا تھا لیکن دراصل فوج ہی اسکے پس پشت تھی اور آخر کار ستائیس اکتوبر کو صدر اسکندر مرزا کو برطرف کر کے اقتدار مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لے لیا-

اس کے ایک سال بعد ستائیس اکتوبر ہی کو ایوب خان نے ملک میں پارلیمانی نظام کی جگہ بنیادی جمہوریتوں کا نظام نافذ کیا اور اسی کی بنیاد پر سن باسٹھ میں نیا آئین ملک پر تھوپا اور اسی کے بل پر وہ صدر منتخب ہوگئے-

ترقی کی دہائی یا تباہی کی دہائی
جنرل ایوب خان گیارہ سال تک بر سر اقتدار رہے۔ ان کے اس دور کو ان کے نقیبوں نے ترقی کی دہائی قرار دی لیکن دراصل پاکستان کے اس اوائلی دور میں یہ تباہی کی دہائی تھی جب کہ ملک میں جمہوریت کا ڈھانچہ کھوکھلا ہوگیا- سیاسی جماعتوں کا نظام درہم برہم ہوگیا اور سن پینسٹھ میں ہندوستان کے ساتھ ایسی بےمقصد اور بے نتیجہ جنگ ہوئی جس نے ملک کو دو لخت کرنے کی راہ ہموار کر دی-

یہی نہیں جنرل ایوب نے اگلے فوجی طالع آزماؤں کو ایسی راہ دکھائی کہ جب سے اب تک تین فوجی ملک کے اقتدار پر قبضہ کر چکے ہیں-

پچھلی بار بھی ایک جنرل نے اکتوبر ہی کے مہینہ میں ملک کے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ یہ جنرل پرویز مشرف ہیں جنہوں نے سن انیس سو ننانوے کو ایک منتخب حکومت برطرف کی تھی- یہ بھی جنرل ایوب خان کی طرح بنیادی جمہوریتوں سے ملتے جلتے نظام کی بنیاد پر ملک میں نیا سیاسی نظام وضع کرنے کے لئے کوشاں ہیں اور انہیں بھی جنرل ایوب خان کی طرح امریکہ کی پشت پناہی اور مکمل حمایت حاصل ہے-

66شناختی کارڈ کیوں؟
1919 میں برطانیہ میں شناختی کارڈ متعارف ہوئے
66صدیوں پرانی جماعت
ٹوری برطانیہ کی قدیم ترین سیاسی جماعت ہے
روابط کی خفیہ کہانی
سابق حکمران اسرائیل سے تعلق چاہتے تھے
66پاک بھارت جنگ
سن پینسٹھ میں چنگاری کس نے دکھائی تھی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد