پاکستان کی تاریخ کا مہلک باب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہ لوگ جو تاریخ کے واقعات کو ایک دوسرے پر اثر انداز محرکات اور ایک دوسرے سے جڑی کڑیوں کی صورت میں دیکھتے ہیں ان کے نزدیک چالیس سال قبل اگست کے مہینہ میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں پاکستان کا جبرالٹر آپریشن دراصل ملک کو دو لخت کرنے کامحرک اول تھا- تایخ کا اس نظر سے تجزیہ کرنے والوں کے نزدیک جبرالٹر آپریشن پاکستان کی تاریخ کا مہلک باب تھا- اس آپریشن کے نتیجہ میں ستمبر انیس سو پینسٹھ کی جنگ کی آگ بھڑکی اور جب اس جنگ کے دوران ایک ہزار میل دور ملک کے دوسرے حصہ کے عوام نے اپنے آپ کو غیر محفوظ اور غیر متعلق محسوس کیا تو اس احساس نے بنگلہ دیش کے تحریک کے بیج بوئے اور اس کے نتیجہ میں بنگلہ دیش کے بحران اور سن اکہتر کی جنگ نے آخر کار ملک کو دو لخت کر دیا- جبرالٹر آپریشن کا مقصد جبرالٹر آپریشن کا مقصد پاکستان کی فوج کے کمانڈوز کو مجاہدین کےبھیس میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں چوری چھپے بھیج کر وہاں بڑے پیمانہ پر شورش برپا کرنا تھا۔ منصوبہ کے مطابق یہ کمانڈوز مقامی کشمیریوں کی مدد اور اعانت کے ساتھ وادی کے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار جنگ لڑتے ہوئے نو اگست کو سری نگر میں جمع ہوتے۔ اس روز شیخ عبداللہ کی سن انیس سو تریپن میں پہلی گرفتاری کی سالگرہ کے موقع پر محاذ رائے شماری نے عام ہڑتال کا اعلان کیا تھا اور ایک بڑے اجتماع کا اہتمام کیا تھا۔ منصوبہ کے تحت اسی جلسہ سے کمانڈوز حملہ کرتے اور یوں ہندوستان کی حکمرانی کے خلاف عوامی بغاوت کا بھرپور آغاز ہوتا-
صدر جنرل ایوب خان اس آپریشن کے حق میں نہیں تھے اور اس زمانہ کے چیف آف اسٹاف جنرل موسی بھی اس نوعیت کے آپریشن کے خلاف تھے۔ ان دونوں کا یہ استدلال تھا کہ کشمیر میں پاکستانی فوج کے کمانڈوز کی قیادت میں بڑے پیمانہ پر چھاپہ مار کارروائی کے نتیجہ میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بھرپور جنگ بھڑک سکتی ہے جس کا پاکستان، ہندوستان کی کئی گنا فوجی قوت کے پیش نظر متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایوب اور موسی کی مخالفت جبرالٹر آپریشن کا منصوبہ جب پہلی بار جی ایچ کیو میں بھیجا گیا تو جنرل موسی نے صدر ایوب کو لکھا تھا کہ کشمیر میں چھاپہ مار جنگ صرف اسی صورت میں کامیاب ہو سکتی ہے جب کشمیر کے عوام اس میں بھر پور حصہ لیں۔ ان کے خیال میں ایسی چھاپہ مار جنگ کے لئے عوام کی حمایت حاصل کرنے اور زمین ہموار کرنے میں کافی وقت درکار ہوگا۔
یہ راز ابھی تک نہیں کھل سکا کہ جبرالٹر آپریشن کا منصوبہ تیار کرنے والوں نے جنہوں نے اگست سن انیس سو چونسٹھ سے لبریشن سیل کے نام سے اپنا خفیہ گروپ قائم کر رکھا تھا آخر کیسے صدر ایوب اور جنرل موسی کی مخالفت کے باجود اس منصوبہ کی منظوری حاصل کی۔ کیونکہ اس آپریشن سے صرف دو مہینہ قبل مئی سن پینسٹھ میں ٹویلتھ ڈویژن کے ہیڈ کوارٹرز میں جو اعلی سطحی اجلاس ہوا تھا اس میں جنرل موسی اور جنرل شیر بہادر نے اس منصوبہ کی مخالفت کی تھی اور یہ خطرہ ظاہر کیا تھا کہ جس پیمانہ پر چھاپہ مار جنگ کا منصوبہ ہے اس کے جواب میں ہندوستان یقینا پاکستان پر حملہ کرے گا۔ جس پر صدر ایوب خان نے جنرل موسی سے کہا تھا کہ دفتر خارجہ نے انہیں یہ یقین دلایا ہے کہ ہندوستان بھرپور جنگ شروع نہیں کرے گا۔ امریکیوں کا رول ذوالفقار علی بھٹو اور عزیز احمد دونوں نے صدر ایوب کو یہ باور کرایا تھا کہ امریکیوں نے انہیں یقین دلایا ہے کہ ہندوستان بین الاقوامی سرحد پار نہیں کرے گا۔ انہوں نے صدر ایوب کو یہ بھی باور کرایا تھا کہ اس وقت کشمیر میں عوام ہندوستان کی حکمرانی کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کے لئے آمادہ ہیں- ممکن ہے کہ ان کا یہ خیال کشمیر میں عوام کے اس طیش اور احتجاج کی آگ کی بنیاد پر ہو جو حضر ت بل کی درگاہ سے رسول پاک کے موئے مبارک کی چوری سے لپک اٹھی تھی۔ ایک عجیب و غریب بات یہ تھی کہ جبرالٹر آپریشن کا منصوبہ تیار کرنے والے پاکستان کی اعلی قیادت کو یہ تو باور کرارہے تھے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالات شورش کے لئے سازگار ہیں لیکن اس علاقہ میں انہوں نے کسی کشمیری تنظیم کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ ہندوستان کا زیر انتظام کشمیر تو الگ رہا خود پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کشمیری رہنماؤں سے نہ تو اس منصوبہ کے بارے میں مشورہ کیا گیا اور نہ ان کو اس کی اطلاع دی گئی۔ حتٰی کہ کشمیری رہنما چوہدری غلام عباس کو اس منصوبہ کے بارے میں اس وقت علم ہوا جب صدائے کشمیر کے نام سے شروع ہونے والے ریڈیو اسٹیشن پر یہ اعلان ہوا کہ وہ اس منصوبہ کے تحت قائم ہونے والی لبریشن کونسل کے صدر بنائے گئے ہیں۔ اس اعلان کے دوسرے ہی دن چوہدری غلام عباس نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں اس آپریش کے بارے میں قطعی کوئی علم نہیں۔ جبرالٹر آپریش بظاہر اس قدر خفیہ تھا کہ پاکستان کی فضائیہ کے سربراہ ایئرمارشل اصغر خان کو جو تئیس جولائی سن پینسٹھ کو اپنے عہدہ سے سبکدوش ہوئے انہیں بھی اس منصوبہ کا علم نہیں تھا۔ البتہ پاکستان میں امریکی سفارت کاروں کو اس منصوبہ کا پورا علم تھا اور اب یہ بات کسی سے چھپی نہیں کہ جبرالٹر آپریشن کے تحت پاکستان سے کشمیر میں داخل ہونے والے کمانڈوز اور نام نہاد مجاہدین کی نقل و حرکت کی تمام تر اطلاعات دلی میں امریکا کے سفیر ہندوستان کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری کو دے رہے تھے۔ نتیجہ یہ کہ اگست سن پینسٹھ میں جب پاکستانی فوج کے جنرل اختر ملک کی قیادت میں جبرالٹر آپریشن شروع ہوا تو ایک طرف تو کشمیری عوام نے چھاپہ مار جنگ میں ان کمانڈوز کی کوئی مدد اور اعانت نہیں کی دوسری طرف ہندوستان کی فوج کو ان کمانڈوز کی نقل و حرکت کے بارے میں پورا علم تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بڑی تعداد میں یہ کمانڈوز لائن آف کنٹرول پار کرتے ہی پکڑے گئے اور جو جموں اور وادئ کشمیر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے انہیں خود کشمیریوں نے پکڑ کر ہندوستانی فوج کے حوالہ کر دیا اور بہت سے کمانڈوز کو ہندوستانی فوج نے گرفتار کر لیا۔ جبرالٹر آپریشن کے تحت نام نہاد مجاہدین کی کارروائیوں کا سلسلہ جو پانچ اگست سے شروع ہوا تھا صرف نو روز تک جاری رہا اور آخر کار سولہ اگست کو ہندوستان کی فوج جنگ بندی لائن کو پار کر کے کارگل سیکٹر میں داخل ہوگئی جہاں پاکستانی فوج سرینگر اور لیہہ کے درمیان شاہراہ کو کاٹنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کے بعد چھمب، میندہر، پونچھ، اڑی اور ٹیٹوال سیکٹروں میں دونوں فوجوں کے درمیان دو بدو لڑائی شروع ہوگئی۔ یکم ستمبر کو صدر ایوب خان نے ایک نشری خطاب میں اعلان کیا کہ ہندوستان، پاکستان پر کشمیر میں جنگ کا خطرہ مسلط کر رہا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ کشمیر کے عوام بغاوت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس کے جواب میں تین ستمبر کو ہندوستان کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے اپنے نشری خطاب میں کہا کہ ہم نے سینکڑوں در اندازوں سے کامیابی سے نبٹا ہے اور اپنے دفاع کی خاطر جنگ بندی لائن کے پار فوجی کارروائی کی ہے۔ جواب میں پاکستانی فوج نے پانچ ستمبر کو جوڑیاں پر قبضہ کر لیا جہاں سے اکھنور صرف چھ میل دور رہ گیا تھا اور اگر اکھنور پر بھی پاکستان کی فوج کا قبضہ ہو جاتا تو پونچھ جانے والی شاہراہ کٹ جاتی اور جموں اور سری نگر کے درمیان راستہ بند ہو جاتا۔ اور آخر کار چھ ستمبر کو ہندوستانی فوج نے بین الاقوامی سرحد پار کر کے لاہور پر حملہ کر دیا اور دونوں ملکوں کے درمیان بھرپور جنگ بھڑک اٹھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||