سونامی:امدادی جہاز یرغمال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صومالیہ میں سونامی کے متاثرین کے لیے اقوامِ متحدہ کی طرف سے خوراک لے کر جانے والے بحری جہاز کو بحرِ ہند میں قزاقوں نے یرغمال بنا لیا ہے۔ سامان بردار یہ ایم وی سیملو جہاز پر مسلح قزاقوں نے اس وقت حملہ کیا جب یہ کینیا میں مومباسا کی بندرگاہ سے صومالیہ کے شمال مشرق میں بوساسو جا رہا تھا۔ سمندر سے متعلق بین الاقوامی بورڈ کا کہنا ہے کہ صومالیہ کے ساحل سے پرے پانیوں کو دنیا میں انتہائی خطرناک قرار دیا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ تقریباً اٹھائیس ہزار افراد کو خوراک فراہم کر رہا ہے جو گزشتہ برس چھبیس دسمبر کو سونامی سے پیدا ہونے والی لہروں کا نشانہ بنے تھے اور ان کا گھر بار اور روزگار ختم ہو گیا تھا۔ صومالیہ میں انتظامی بدنظمی کی وجہ سے سونامی متاثرین کے لیے امداد فراہم کرنے میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ صومالیہ کے ہمسایہ ملک کینیا میں ایک عبوری انتظام کی جو کوششیں گزشتہ برس شروع ہوئی تھیں وہ کامیاب نہیں ہو سکیں۔ یرغمال بنائے جانے والے جہاز پر عملے کے دس افراد سوار ہیں اور اس جہاز کو دارالحکومت موگادیشو کے شمال مشرق سے ایک سو نوے میل دور پیر کی صبح قزاقوق نے حملہ کر دیا تھا۔ کینیا میں مکاتو شپنگ ایجنسی کے ڈائریکٹر عنایت قدرتی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کوبتایا ہے کہ ہائی جیکر تاوان میں پانچ لاکھ امریکی ڈالر مانگ رہے ہیں لیکن ’ہم نے ان سے کہا ہے کہ ہم لوگ اس چھوٹے سے جہاز پر صومالیہ کے بھائیوں کے لیے خوراک لے کر جا رہے ہیں۔ ہم مقامی رہنماؤں اور علاقے کے بڑوں سے کہہ رہے ہیں کہ جہاز کو چلنے دیا جائے۔‘ عنایت قدرتی جس ایجنسی کے لیے کام کر رہے ہیں اس سے اقوامِ متحدہ نے صومالیہ بھیجنے کے یرغمال ہونے والا جہاز کرایے پر لیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے خوراک کے عالمی پروگرام نے بھی جرمنی اور جاپان کی طرف سے عطیہ کردہ خوراک لے کر جانے والے اس جہاز کو فوری طور پر آزاد کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس ماہ کے اوائل میں بین الاقوامی عالمی بحری بورڈ نے خبردار کیا تھا کہ خطے میں بحری قزاقوں کی کارروائیاں بڑھ جانے کا خطرہ ہے اور کہا تھا کہ جہاز صومالیہ کے ساحل سے جہاں لاقانونیت کا راج ہے اسی کلو میٹر دور رہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||