بنگلہ دیش:ہلاکتوں میں اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں جمعرات کو آنے والے سمندری طوفان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہزار تک پہنچ گئی ہے جبکہ لاکھوں بے گھر ہو گئے ہیں۔افسران کے مطابق امدادی ٹیمیں زیادہ تر متاثرہ علاقوں تک پہنچ گئی ہیں۔ امدادی کارروائیوں کے باوجود صورتِ حال خراب ہے۔ بےشمار متاثرین اب بھی پانی اور خوراک جیسی بنیادی اشیاءکے لیے پریشان ہیں۔حکومت کی جانب سے قومی سانحہ قرار دیے جانے والے اس طوفان کے متاثرین کی مدد کے بےشمار اپیلیں کی جا رہی ہیں۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے محکمے کے وزیر تپن چودہدری نے بتایا کہ حکومت اب ان علاقوں میں کھانے کے پیکٹ گرانے میں کامیاب ہو گئی ہے جہاں طوفان کے بعد پہنچنا مشکل تھا۔ متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچانے اور لاشیں نکالنے کا کام ابھی جاری ہے اور حکام اس خدشے کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ’سدر‘ نامی اس طوفان سے سب سے زیادہ نقصان بنگلہ دیش کے جنوبی ساحل پر ہوا ہے۔ اندازوں کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ مکانات تباہ ہو گئے اور فصلیں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔ ٹیلی فون کے تاروں کے کٹ جانے اور سڑکوں پر پڑے ملبے کی وجہ سے راستے بند ہو گئے ہیں جس کے باعث متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔
ڈھاکہ سے بی بی سی کے نامہ نگار مارک ڈومیٹ نے بتایا کہ بڑے پیمانے پر امدادی کام شروع کردیا گیا ہے۔ دریاؤں میں کشتیوں کی سروس بند ہے جبکہ سڑکوں پر درخت گرے پڑے ہیں۔ فوجی ہیلی کاپٹروں اور جہازوں نے سنیچر کو امدادی کاموں میں حصہ لیا اور بعض دور دراز علاقوں میں امدادی اشیاء اور ادویات پہنچائیں۔ فوجی جہازوں نے بعض سمندری گزرگاہوں کو صاف کرنے کا کام بھی سر انجام دیا جو سمندری طوفان کے باعث کشتیاں ڈوبنے سے بند ہو گئی تھیں۔ بعض علاقوں میں ہاتھیوں سے سڑکوں پر پڑے ملبے کو ہٹانے کا کام لیا گیا۔ خلیج بنگال سے اٹھنے والا سمندری طوفان جمعرات کو بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں سے ٹکرایا تھا اور اس کے نتیجے میں دو سو چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں تاہم یہ طوفان کوئی نقصان پہنچائے بغیر دارالحکومت ڈھاکہ سے گزر گیا۔ بعد ازاں کئی گھنٹوں بعد ملک کے شمال مشرقی ساحلی علاقے میں اس کا زور ٹوٹ گیا۔ |
اسی بارے میں سمندری طوفان سے چھ سو ہلاک16 November, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: بدترین بارشیں، 79 ہلاک11 June, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش: سمندری طوفان کا خطرہ15 November, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش کے مسائل15 August, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش، انسانی بحران کا خدشہ27 July, 2004 | آس پاس بنگلہ دیش: مدد کے لیے اپیل03 August, 2004 | آس پاس سیلاب کی فتح02 August, 2004 | آس پاس بنگلہ دیش سیلاب، صورتحال نازک26 July, 2004 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||