کھٹمنڈو میں شاہی محل کا گھیراؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں شاہ گیانندرا کے مخالفین کا ایک بڑا ہجوم شاہی محل کے گرد جمع ہو رہا ہے جہاں پولیس کی بھاری نفری ان کو منتشر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس دوران بہت سے لوگ زخمی ہو چکے ہیں جنہیں امدادی کارکن ہسپتال پہنچا رہے ہیں۔ مشتعل مظاہرین محل میں داخل ہونا چاہتے ہیں اور صورتحال سنگین رخ اختیار کر رہی ہے۔ اس سے قبل ہفتے کی صبح ہزاروں مظاہرین کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کھٹمنڈو کی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ یہ مظاہرین’ ہم بادشاہت نہیں جمہوریت چاہتے ہیں‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس سے قبل نیپال میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے انہیں حکومت میں شامل کرنے کی ملک کے بادشاہ شاہ گیانندرا کی پیشکش کو مسترد کردیا تھا۔ شاہ گیانندرا نے دو ہفتوں سے جاری بادشاہت مخالف مظاہروں کے ردعمل میں یہ پیشکش کی تھی۔ سات جماعتوں کے سیاسی اتحاد میں شامل اہم جماعت نیپالی کانگریس نے کہا کہ شاہ گیانندرا نے اپنی پیشکش کرتے وقت ان کے مطالبات کو نظرانداز کیا ہے۔ مظاہرین نے بھی ملک کے بادشاہ کی پیشکش پر کچھ ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا۔ جمہوریت نواز مظاہروں پر بائیں بازو کے ماؤنواز باغیوں کا اثر و رسوخ ہے اور حزب اختلاف کی جماعت کے ایک کارکن نے کہا کہ وہ آئینی حقوق کی خاطر بادشاہ کے پاس نہیں جانا چاہتے۔ جمعہ کے روز قوم سے خطاب میں شاہ گیانندر نے کہا تھا کہ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم کے عہدے کے لیے کسی رہنما کو نامزد کریں۔ انہوں نے ملک میں انتخابات کا اعلان نہیں کیا۔
کٹھمنڈو اور دیگر نیپالی شہروں میں دو ہفتوں سے جمہوریت نواز مظاہرے جاری ہیں اور شاہ گیانندرا نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس دوران کم سے کم چودہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اپنے خطاب میں نیپالی بادشاہ نے کہا: ’نیپالی بادشاہت کی ایکزیکیٹِو پاور جو ہمارے تحظ میں تھی، آج سے عوام کو منتقل ہوجائے گی۔‘ نیپالی کانگریس کے ترجمان کرشنا پرساد ستولا نے کہا کہ مظاہرے جاری رہیں گے کیوں کہ بادشاہ نے مظاہرین کی تحریک کے روڈمیپ کا خیال نہیں رکھا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف نیپال کے رہنما سبھاش نیومانگ نے کہا کہ شاہ گیانندرا کا خطاب ’بادشاہ کی جانب سے عوام کو بیوقوف بنانے کی ایک اور کوشش ہے۔‘ دارالحکومت کٹھمنڈو میں بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر شاہ گیانندرا نے یہ سمجھا تھا کہ ان کے خطاب سے دو ہفتوں سے جاری جمہوریت حامی تحریک ختم ہوجائےگی تو یقیناً انہیں عوام کے جذبات کا صحیح اندازہ نہیں تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی جمہوریت حامی تحریک نے گزشتہ چند دنوں میں بادشاہت مخالف شکل اختیار کرلی ہے۔ اپوزیشن کی جماعتوں نے کہا کہ ملک کے بادشاہ نے ان کے کئی اہم مطالبات پر کوئی بات ہی نہیں کی۔ ان جماعتوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ شاہ گیانندرا ایک اسمبلی نامزد کریں جو ملک میں بادشاہت کے مستقبل پر غور کرے گی۔ |
اسی بارے میں نیپال: کرفیو ٹوٹ گیا، تین ہلاک20 April, 2006 | آس پاس دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم19 April, 2006 | آس پاس نیپال: مظاہرے جاری، دو ہلاک19 April, 2006 | آس پاس ماؤ باغیوں کے حملے، 24 ہلاک 06 April, 2006 | آس پاس نیپال: ہڑتال جاری، ڈیڑھ سوگرفتار07 April, 2006 | آس پاس نیپال: کرفیو میں توسیع کر دی گئی09 April, 2006 | آس پاس نیپال: شاہ کی پیشکش مسترد14 April, 2006 | آس پاس نیپال: وکلاء پرفائرنگ، 3 زخمی13 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||