ماؤ باغیوں کے حملے، 24 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال کے جنوبی علاقے میں ماؤ باغیوں نے ایک حملے میں چوبیس افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو سے جنوب مشرق کے سمت میں ایک سو بیس کلو پر واقع ملنگاوا کے قصبے میں ماؤ باغیوں نے سرکاری عمارتوں اور جیل پر تعینات فوجیوں پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں چھ پولیس اہلکار، چھ ماؤ باغی اور دو شہری مارے گئے۔ اس کے علاوہ دس افراد اس قصبے میں ہیلی کاپڑ کے تباہ ہوجانے سے ہلاک ہو گئے۔ ماؤ باغیوں نے کئی درجن افراد کو یر غمال بنالیا ہے جس میں ضلع کا اعلیٰ ترین افسر بھی شامل ہے۔ تشدد کے یہ واقعات نیپال میں شاہ گیاندرا کے اقتدار سنبھالنے کے ایک سال پورے ہونے پر حزب اختلاف کی طرف سے چار روزہ ہڑتال کے شروع ہونے پر رونما ہوئے ہیں۔ ایک سال پہلے شاہ گیاندرا کے اقتدار پر قابض ہونے کے خلاف احتجاج کے طور پر حزبِ اختلاف نے چار روزہ ہڑتال شروع کر دی ہے۔ پابندی کے باوجود ہفتے کے روز نیپال میں بادشاہت کے خلاف دارالحکومت کھٹمنڈو میں ایک بڑے جلسے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ نیپال میں حکام نے بدھ کے روز حزبِ اختلاف کے مظاہروں کو روکنے کے لیے کارروائی کی تھی اور سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔ اپوزیشن نے کہا ہے کہ ہڑتال شروع ہونے سے قبل اس کے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دس برس قبل ماؤ نواز باغیوں کے ہتھیار اٹھانے کے بعد سے اب تک تشدد میں تیرہ ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔ ادھر بدھ کو علی الصبح یہ اعلان کیا گیا کہ کھٹمنڈو کے کچھ حصوں میں رات کو کرفیو لگایا جائے گا۔ حکام کا کہنا تھا کہ کرفیو سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے ضروری ہے۔ جمعرات کی صبح دارالحکومت کی سڑکیں ویران تھیں اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہوٹل میں کام کرنے والے منیشا شاہی نے بتایا کہ وہ آدھ گھنٹہ پیدل چلنے کے بعد دفتر پہنچے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ سڑک پر چلنا بھی محفوظ نہیں ہے کیونکہ کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ کھٹمنڈو سے پچھہتر میل جنوب میں واقع علاقے ملنگاوا میں تازہ جھڑپوں میں پانچ پولیس اہلکار اور دو باغی مارے گئے۔ ایک پولیس اہلکار کے مطابق اس جھڑپ کے دوران باغیوں نے سرکاری عمارتوں اور پولیس اور فوج کے اڈوں پر حملہ کیا تھا۔ حکومت کہتی ہے کہ باغیوں کا منصوبہ ہے کہ وہ اپوزیشن کے احتجاجی مظاہروں میں شامل ہوں گے۔ | اسی بارے میں نیپال: انتخابات میں تشدد08 February, 2006 | انڈیا نیپال کی بادشاہت02 February, 2005 | آس پاس نیپال میں حقوق انسانی پر تشویش23 January, 2005 | آس پاس جمہوریت بحال ہوگی: گیانندرا23 April, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||