BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 April, 2006, 10:40 GMT 15:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنوبی ایشیا:گِدھوں ‌‏کی نسل کو خطرہ

سائنسدان فکرمند ہیں کہ گدھوں کی نسل کو بچانے کے اقدامات ضروری ہیں
کچھ برس قبل آسمان کی اونچا‏‏ئی چھوتے ‎‌گِدھ آسانی سے نظر آتے تھے لیکن آج ہندوستان، نیپال اور پاکستان میں ان گدھوں کی تعداد اس قدر کم ہوچکی ہے کہ تلاش کرنے پر بھی بہ مشکل گدھ نظر آتے ہیں۔

گرین آسکرانعام یافتہ وائلڈ لائف فلم ساز ما‌ئيک پانڈے نے حال ہی میں اسی موضوع پرایک دستاويزی فلم 'وینیشنگ جائینٹ' بنا‎ئی ہے۔

پندرہ برس قبل بھی وہ گِدھوں پر ایک فلم بنا چکے ہیں۔ مائک پانڈے بتاتے ہیں کہ اس وقت جب وہ شوٹنگ کررہے تھے ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں انہيں ہزاروں گدھوں نے گھیر لیا تھا۔ لیکن اس مرتبہ راجستھان، گجرات اور بہار جیسی ریاستوں میں چار پانچ مہینے شوٹنگ کرنے کے باوجود بھی انہیں بہت کم تعداد میں گِدھ نظر آئے۔

وائلڈ لائف انسٹیٹوٹ آف انڈیا اور بمبئے نیچرل ہسٹری سوسائٹی نے برطانوی ابٹین یونیورسٹی کے ساتھ مل کر پورے ہندوستان کے تمام علاقوں کا جائزہ لیا جس میں اٹھارہ مرے ہوئے جانوروں کے نمونے لیے گیے۔ تفتیش سے پتہ چلا کہ آٹھ سے زائد جانوروں میں درد سے نجات دلانے والی دوا‌‎ موجود تھی۔

وائلڈ لا‎ئف سائنٹسٹ ڈاکٹر نیتا شاہ کا کہنا ہے کہ مرے ہو‌ئے جانوروں کو جب گدھ کھاتے ہیں تو اس دوا کی وجہ سے ’یورک ایسڈ‘ ان کی آنتوں میں جمع ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر شاہ نے بتایا کہ اس ایسڈ کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے اور گردے کام کرنا بند کر دیتے ہيں۔

وائلڈ لائف فلم میکر مائیک پانڈے گدھوں کے بارے میں فلم بناتے رہے ہیں
گدھوں کی تعداد میں زبردست کمی کے سبب قدرتی ’فوڈ چین‘ پر بھی خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ قدرتی فوڈ چین میں یہ گدھ مرے ہوئے جانوروں کو چند منٹوں میں ہی کھا جاتے ہیں۔ لیکن اب گدھوں کی غیرموجودگی میں مر‌ے ہوئے جانور عام طور پر سڑتے رہتے ہیں اور سڑنے کے بعد یہ زہریلے کیمیکلز اور مختلف گیس پیدا کرتے ہیں۔

اتنا ہی نہیں گدھوں کے غائب ہونے سے پارسی برادری میں آخری رسومات ادا کرنے کا روایتی طریقہ بھی ختم ہو تا جا رہا ہے۔

اس برادری میں لاش کو قدرت کے حوالے کر دیا جاتا ہے جسے عام طور پر گدھ کھا لیتے ہیں لیکن اب گدھوں کی کمی کے سبب انہیں بھی پریشانیاں لاحق ہورہی ہیں۔ پارسی برادری کے رقاد نروجی کا کہنا ہے کہ ’حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ اب کچھ لوگ لاش کو نذر آتش کرنے لگے ہیں۔‘

گدھوں کی ختم ہوتی نسل پر سبھی کو تشویش ہے اسی لیئے انہیں بچانے کے لیئے دو مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ ایک سینٹر ریاست ہریانہ کے پنجور علاقہ میں ہے اور دوسرا مشرقی بنگال کے ضلع بکسا میں ہے۔

ممبئي نیچرل سوسائٹی کے چیف سائنسداں ڈاکٹر وبھو پرکاش نے بتایا کہ آج کل گدھوں کے بچوں کو پکڑنے کا کام جاری ہے اور دو سال بعد ان بچوں کو ان علاقوں میں چھوڑ دیا جائے گا جہاں ان کے لیئے کھانے پینے کے صحیح انتظامات موجود ہوں۔

جانداروں کے معدوم ہونے کی چھٹی لہرحیات کو خطرہ
جانداروں کی انواع معدوم ہونے کا خطرہ ہے
گدھگِدھ ریسٹورنٹ
کبیروالا میں گِدھوں کی نسل بچانے کا منصوبہ
سمندری مونگے کو خطرہسمندری مونگے کو خطرہ
درجہ حرارت میں تبدیلی سے غائب ہو سکتے ہیں۔
برفانی چیتامچھیارہ کا منصوبہ
چرند، پرند اور انسان ۔ سب کو کیسے بچایا جائے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد