کبیر والا میں گدھ ریسٹورانٹ کیوں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گِدھ اپنی بے ہیتی اور مردار خوری کے باعث برّصغیر پاک و ہند میں کوئی پسندیدہ پرندہ نہیں سمجھا جاتا۔ گِدھ یا ’ولچرز‘ کا خیال آتے ہی انسان کو کراہیت آتی ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کے ولچرز ریسٹورانٹ قائم کیا گیا ہے تو یقیناً زیادہ کراہت محسوس ہو گی اور خیال یہی آئے گا کے شاید افریقہ کے کس تاریک گوشے میں گِدھوں کا گوشت کھانے والا کوئی قبیلہ ہو گا اور یہ ریسٹورانٹ وہیں قائم ہوگا۔ لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ یہ ریسٹورانٹ دور نہیں پنجاب میں کبیر والا کہ قریب کامیابی سے چل رہا ہے تو پڑھنے والوں کو بہت حیرت ہو گی۔ یقین کیجیے یہ ریسٹورانٹ قائم ہے تاہم یہ گِدھوں کا گوشت بیچنے کے لیے نہیں بلکہ ان کی تواضع یا ان کو محفوظ خوراک مہیا کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ گزشتہ دہائی میں جب گدھوں کی تعداد میں تیزی کے ساتھ کمی واقع ہونا شروع ہوئی تو قدرتی ماحول کو بچانے میں سرگرم کارکُنوں کو تشویش لاحق ہوئی۔ اُور یہ تھی بھی فِکر کی بات کیونکہ گِدھ ماحول کو صاف ستُھرا رکھنے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ یہ مُردہ جانوروں کو خوراک بنا کر ماحول کو آلودہ ہونے سے بچاتے ہیں۔ برّصغیر میں گِدھوں کی تیزی سے کم ہوتی ہوئی تعداد کی طرف توّجہ سب سے پہلے بمبے نیچرل ہسٹری سوسائٹی (BNHS) کے ڈاکٹر ویبو پرکاش نے 1999 میں اپنے ایک تحقیقی مضمون کے ذریعے دلائی۔ یہ مضمون بی این ایچ ایس کے جریدے میں شائع ہوُا تھا۔ بعد میں امریکہ کے پیریگرین فنڈ (The Peregrine Fund) کے مُنیر ورانی اُور اورنیتھالوجیکل سوسائٹی آف پاکستان (Ornithological Society of Pakistan) یا او ایس پی کے ڈاکٹر علیم احمد نے اس موضوع پر تفصیل کے ساتھ کام کیا اور 2000ء میں انڈین ولچر کرائسس (Indian Vulture Crisis) کے نام سے ایک منصوبہ تیار کیا جِس کا مقصد اُن وجوہات کا پتا لگانا تھا جِن کے باعث برّصغیر میں گِدھوں کی نسل ختم ہونے کا اندیشہ ہو چلا تھا۔
او ایس پی کے ڈاکٹر علیم نے بتایا کہ گِدھوں کے پوسٹ مارٹم سے معلوم ہوا کہ اُن میں سے اکثر کی موت گُردوں کے ناکارہ ہونے کے سبب واقع ہوئی تھی ۔ اِسی بات کو آگے بڑھاتے ہوۓ محققین نے مفروضہ قائم کیا کہ لائیو سٹاک یعنی مال مویشیوں میں کچھ ایسی ادویات استعمال کی جارہی ہیں جو بعداز موت اُنہیں خوراک بنانے والے گِدھوں کو بُری طرح متاثر کررہی ہیں۔ جب جانوروں سے متعلقہ ادویات بیچنے والی دوکانوں کا سروے کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اُن میں سے بیشتر پر درد کم کرنے والی ایک دوا ڈکِلو فینک (Diclofenic) فروخت کی جارہی ہے ۔ گُردوں کے ناکارہ ہونے کے سبب ہلاک ہونے والے گِدھوں کا جب تفصیلی معائنہ کیا گیا تو اُن میں ڈکلو فینک کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی۔ ڈاکٹر علیم نے بتایا کہ تحقیق کرنے سے پتہ چلا ہے کہ درد کم کرنے والی ادویات( non-steriodal anti-inflamatory drugs) کا جانوروں میں استعمال ریس میں حصہ لینے والے گھوڑوں میں جوڑوں کے درد کو کم کرنے کے لیۓ شروع ہوُا جو بعد میں دوسرے جانوروں تک پھیل گیا۔
انہوں نے بتایا کہ برڈ لائف انٹرنیشنل (BirdLife International) سمیت جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی بڑی تنظیموں نے انڈین ولچر کرائسس کے تحت ہونے والی تحقیق کے نتائج سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے چند ماہ قبل نیپال کے صدر مقام کٹھمنڈو میں ہونے والے ایک اجلاس میں سارک ممالک پر زور دیا کہ وہ ڈکِلوفینک کے استعمال پر پابندی کے لیے اقدامات کریں۔ ڈاکٹر علیم نے مزید بتایا کہ کٹھمنڈو میں ہونے والے اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ برّصغیر میں تیزی سے ناپید ہونے والےسفید پُشت والے گِدھوں کی افزائشِ نسل کے لیے captive breeding کو فروغ دیا جائے ۔ بی این ایچ ایس ہندوستانی ریاست ہریانہ میں گِدھوں کی افزائشِ نسل کا ایک مرکز قائم کرنے کے بعد ایسا ہی ایک مرکز آسام میں قائم کرنے جا رہی ہے۔ جبکہ نیپال میں اِس طرز کا ایک مرکز پہلے سے ہی کام کررہا ہے ۔ تاہم پاکستان میں ابھی اِس کی شروعات نہیں کی جا سکیں ۔ ڈاکٹر علیم نے بتایا کہ پاکستان کی وزارتِ ماحولیات اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور جلد ہی پاکستان میں بھی گِدھوں کی افزائشِ نسل کا مرکز قائم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ملتان کے قریب کبیروالہ کے مقام پر او ایس پی نے ایک ولچرز ریسٹورنٹ قائم کر رکھا ہے جہاں گِدھوں کی تواضع ڈکِلوفینک سے پاک خوراک سے کی جاتی ہے۔ انُ کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ریسٹورنٹ میں مہمانوں کی تعداد تین سو سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ گِدھوں کی افزائشِ نسل آخر کیوں ضروری ہے؟ اِس بات کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر علیم نے کہا کہ اگر گِدھ نہ ہونگے تو مُردار خوری کےلیۓ کُتے بِلیاں گیڈر اور چوہے بچ جائیں گے جو انسانی اور جنگلی حیات میں اینتھراکس اور ریبیز کے پھیلاؤ کا سبب ہوسکتے ہیں۔ جبکہ گِدھ اِن دونوں بیماریوں کے خلاف قدرتی مدافعت رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے صوبوں پنجاب اور سندھ میں دریافت کی گئی گِدھوں کی کالونیوں میں اُن کی شرحِ اموات اسی فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے جو کے انتہائی تشویشناک امر ہے کیونکہ بین الاقوامی میعار کے مطابق اِسے پانچ فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||