نیپال کے مظاہرین کی ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آخری مرتبہ جب باسو گھمرے کی بیوی سمیتا نے ان کو جمعرات کی صبح دیکھا تھا۔ بتیس سالہ گھمرے شاہ گیانندار کے خلاف ان کے محلے کالنکی میں ہونے والے ایک احتجاج میں حصہ لینے کے لیے گھر سے نکلے تھے۔ چند گھنٹوں بعد ایک پولیس کے ہسپتال میں وہ مردہ حالت میں پائے گئے۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ان پر تشدد کرنے کے بعد ان کو گولی مار دی۔ ان کے گھر والے پوری رات ان کے لوٹنے کا انتظار کرتے رہے اور جمعہ کی صبح انہیں ان کی ہلاکت کی خبر موصول ہوئی۔ ان کے بھنوئی نے بتایا کہ انہیں پولیس کی طرف سے ایک فون کال موصول ہوئی اور انہیں پولیس کے ہپستال آنے کو کہا گیا۔ ہپستال پہنچنے پر بشنو راج نے گھمرے کی شناخت کی۔ بشنو نے کہا ’گھمرے کو سینے میں گولی مارئی گئی تھی۔ ان کی لاش کو دیکھ کر ایک مرتبہ تو مجھے چکر آ گیا۔‘
اس کے بعد پولیس ان کی لاش کٹھمنڈو کے سب سے زیادہ مقدس ہندو مندر میں لیے گئی جہاں ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں۔ جب گھمرے کی لاش کو دریا کے کنارے پر مندر کی سیڑھیوں پر واقع گھٹ پر رکھا گیا تو سینکڑوں لوگ خاموشی سے اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ ان کی لاش کو ایک سفید چادر میں لپیٹا ہوا تھا اور لاش کے منہ کو ان کی خون آلودہ قمیض سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ گھمرے کے گھر جب حکومتی اہلکار یہ خبر لے کر پہنچے تو ان کے گھر کو سینکڑوں پولیس والوں نے گھیرے میں لے لیا۔ سمیتا نے بتایا کہ پولیس والوں نے گھمرے کی ہلاکت کی خبر ان کو دی اور ساتھ ہی کچھ سفید کاغذوں پر ان سے دستخط کرنے کو کہا۔ اس کے بعد پولیس والوں نے ان سے گھمرے کی آخری رسومات میں شرکت کرنے کے لیے کہا لیکن سمیتا نے انکار کر دیا۔ سمیتا نے کہا کہ وہ چاہتی تھیں کہ پولیس گھمرے کی لاش ان کے حوالے کر دیں تاکہ ان کے گھر والے ان کی آخری جھلک دیکھ سکیں۔ لیکن پولیس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس اثناء کٹھمنڈو میں دوبارہ ہنگامہ شروع ہونے کی خبر آ گئی اور پولیس کے اہلکار جلدی میں وہاں سے چلے گئے۔ گھمرے کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیئے پولیس چار پانچ پنڈتوں کو پکڑ لائی۔ گھمرے نیپالی کانگریس پارٹی کے یوتھ ونگ کے رکن تھے اور ان کے کچھ ساتھی اس وقت مندر میں موجود تھے۔ ان میں بہت سے گھمرے کی آخری رسومات ان انداز میں ادا کرنے پر سخت غصے میں تھے۔ ’یہ بالکل غیر انسانی ہے۔ وہ یہ کس طرح کر سکتے ہیں‘ وہاں پر موجود ایک خاتون نےغصے کے عالم میں پولیس اہکاروں سے کہا۔ ’ گھروں والوں کی غیر موجودگی میں کس طرح کسی کی آخری رسومات ادا کی جاسکتی ہیں‘۔ وہاں پر موجود کشامل جوشی نے کہا کہ ہندؤں میں آخری رسومات ہمیشہ خاندان والے ادا کرتے ہیں۔ کسی کو اس حق سے محروم کرنا انتہائی ظالمانہ اقدام ہے۔ |
اسی بارے میں دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم19 April, 2006 | آس پاس نیپال کے بادشاہ جمہور کی مان گئے21 April, 2006 | آس پاس جمعہ کو ریلی، پھر کرفیو نافذ21 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||