دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات کے روز بادشاہت مخالف مظاہرے کو ناکام بنانے کے لیے نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں اٹھارہ گھنٹے کا کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور مظاہرین کو ’دیکھتے ہی گولی مار کر ہلاک کردینے‘ کا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ حکام نے کرفیو میں کسی طرح کی نرمی کرنے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کو’دیکھتے ہی گولی ماردی جائے گی‘۔ یہ کرفیو بدھ۔جمعرات کی شب دوبجے سے نافذ ہوگیا۔ نیپالی دارالحکومت کرفیو کے حصار میں ہے۔ شاہ گیا نیندرا کے محل کے اطراف اور شہرکے اہم راستوں اورمقامات پر فوج کا پہرا ہے۔ وزارت داخلہ نے ایک نوٹس میں عوام سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں سے باہرنہ نکلیں اور کسی مظاہرے میں حصہ نہ لیں۔ ادھر سات جماعتوں کے سیاسی اتحاد نے کہا ہے وہ شاہ کے خلاف اور جمہوریت کے قیام کے لیے کرفیوکے باوجود جمعرات کو مظاہرہ منعقد کرے گا۔ دو ہفتے سے جاری شاہ مخالف مظاہروں میں اب تک دس افراد ہلاک ہوچـکے ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ’محل کی طرف مارچ‘ کا سیاسی جماعتوں کا یہ پروگرام کتنا کامیاب ہوگا لیکن اتنا ضرورہے کہ کرفیو کے نفاذ اور سخت اقدامات سے عوام میں شاہ مخالف جذبات کو اور زیادہ ہوا مل سکتی ہے۔
نیپالی کانگریس پارٹی کے رہنما نوین راج جوشی نے کہا ہے کہ ’سبھی جماعتوں کا اب صرف ایک ہی نصب العین ہے اوروہ ہے جمہوریت کا قیام، اس میں وقت لگ سکتا ہے لیکن اسے روکا نہیں جا سکتا‘۔ انہوں نے کہا’عوام یہ چاہتے ہیں کہ اب ایک ایسا جمہوری نظام قائم ہوجسے کوئی ہلا نہ سکے‘۔ شاہ سے بات چیت کے لیے ہندوستان کے خصوصی ایلچی ڈاکٹر کرن سنگھ بھی یہاں دارالحکومت کٹھمنڈو میں موجود ہیں۔ وہ ملک میں سیاسی بحران ختم کرنے کے لیے شاہ کوبات چیت شروع کرنے کی صلاح دیں گے لیکن نیپال کی جماعتیں اب مکمل جمہوریت سے کم میں کسی بات پر راضی ہوتی ہوئی نہیں دکھائی دے رہی ہیں۔ سیاسی جماعتیں اس نتیجے پر پہنچ گئی ہیں کہ بادشاہت اور جمہوریت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ جمعرات کا کٹھمنڈو کا مظاہرہ اگر ناکام رہا تو اس عمل میں تاخیر ہوگی لیکن سیاسی تحریک کے ختم ہونے کے آثار نظرنہیں آرہے ہیں۔ مظاہرین نیپال کے بادشاہ شاہد گیانندرا سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اقتدار سے دستبردار ہوجائیں جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ماؤ نواز باغی مظاہرین کی صفوں میں شامل ہوگئے ہیں اور تشدد بھڑکانے کی کوشش کررہے ہیں۔ دریں اثناء حکومت نے اپوزیشن کے ان دو سینئرہنماؤں کو رہا کر دیا ہے جنہیں تین ماہ قبل گرفتار کیا گیا تھا۔
نیپال میں جمہوریت کی بحالی کے لیے کی جانے والی ہڑتال چودہویں دن میں داخل ہوگئی ہے اور ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ بدھ کے روز احتجاج میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا اور پولیس کے ساتھ تصادم میں پولیس والوں سمیت درجنوں مظاہرین زخمی ہو گئے۔ اسی دوران نیپال گنج میں آنسو گیس کا گولہ لگنے سے زخمی ہونے والی خاتون انتقال کر گئیں۔ ہندوستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خصوصی ایلچی کرن سنگھ نیپال کے شاہ گیانندرا سے بات چیت کریں گے۔ ماضی میں امریکہ میں سفیر کی خدمات سر انجام دینے والے کرن سنگھ نیپالی بادشاہ کے رشتہ دار بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے انہیں اپنا پیغام نیپالی بادشاہ کو پہنچانے اور ملک کے حالات کا جائزہ لینے کو کہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان نیپال کے مسائل کا حل چاہتا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’نیپال کی تیزی سے بگڑتی صورتحال ہندوستان کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ نیپالی عوام بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں اور ملک میں تشدد اور طوائف الملوکی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہندوستان نیپال کے داخلی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہتا لیکن نیپال اور ہندوستان کے مضبوط تعلقات کی بناء پر اگر ہم انہیں کوئی حل بتائیں گے تو وہ ضرور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے‘۔ خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق سیکرٹری خارجہ شیام سرن بھی بدھ کو بھوٹان سے واپس ہندوستان جاتے ہوئے کھٹمنڈو میں رک رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں نیپال: کرفیو برقرار مگر ہڑتال جاری10 April, 2006 | آس پاس سیاستدان مدد کریں: شاہ گیانندرا13 April, 2006 | آس پاس نیپال: وکلاء پرفائرنگ، 3 زخمی13 April, 2006 | آس پاس نیپال: شاہ کی پیشکش مسترد14 April, 2006 | آس پاس کٹھمنڈو: خوراک اور تیل کمی16 April, 2006 | آس پاس نیپال: ’معصوم‘ قیدیوں کی حالتِ زار19 April, 2006 | آس پاس نیپال: مظاہرے جاری، دو ہلاک19 April, 2006 | آس پاس نیپال میں کرفیو نافذ، دو ہلاک19 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||